ناموس رسالت قانون میں کسی بھی تبدیلی کے نتائج خوفناک ہونگے کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس

22 فروری 2017

کراچی (نیوز رپورٹر)مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما¶ں نے حکومت اور مختلف قوتوں کو انتباہ کیا ہے کہ ناموس رسالت قانون میں کسی بھی تبدیلی کے نتائج خوفناک ہونگے‘ گریز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہارعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے تحت آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں کیا گیا ۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ نبوت کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کی جبکہ دیگر شرکاءمیں مجلس کے نائب امیر خواجہ عزیز احمد ، مولانا اعجاز مصطفی ، رانا محمد عثمان ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قاری محمد عثمان ، مولانا عبدالقیوم نعمانی ، مفتی عبدالحق عثمانی ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مفتی محمد رفیق سلفی ، ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی ، پاک سرزمین پارٹی کے وسیم آفتاب ، پیپلز پارٹی کے مفتی فیروزالدین ہزاروری ، حاجی مظفر علی شجرہ ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے پاکستان کے محمد افضل سردار ، جمعیت علمائے اسلام کے پیر عبدالشکور نقشبندی ، نظام مصطفی پارٹی کے الحاج محمد رفیق ، جماعت غرباءاہلحدیث کے حافظ محمد سلفی ، تنظیم علماءپاکستان کے قاری اللہ داد ، عوامی نیشنل پارٹی کے یونس بونیری ، جمعیت علمائے پاکستان ( نورانی ) کے سید حفیظ انجم قادری ، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا امداد اللہ ، متحدہ علما محاذ پاکستان کے علامہ مرزا یوسف حسین ، جماعت الدعوة کے مزمل اقبال ہاشمی ، جمعیت علمائے اسلام (س) کے قاری عبدالمنان انور ، حافظ احمد علی ، جمعیت علمائے پاکستان کے محمد علیم خان غوری ، تحریک انصاف کے اسرار عباسی اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما¶ں نے شرکت کی ۔ تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی آل پارٹیز کانفرنس میں مقررین نے تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی ۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کہا کہ امت مسلمہ کے لیے تحفظ ناموس رسالت سب سے بڑھ کر ہے اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ حکمرانوں کی کرسی کی بقاءاسی میں ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے بارے میں کوئی سودے بازی نہ کریں اور ایسا کوئی بھی قانون بنانے سے گریز کریں ، جس سے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچے ۔ ناموس رسالت کے قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی یا ترمیم کے نتائج انتہائی خوف ناک ہوں گے ۔ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے بعض بیانات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کے قانون 295 ۔C کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور اس قانون کے تحفظ کا واضح اعلان کیا جائے ۔ جناح یونیورسٹی کے ادارہ فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ وہ اسلام اور پاکستان دشمن تھے ۔ چناب نگر میں ریاست کے اندر ریاست کا ماحول ختم کیا جا ئے اور قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے ۔ ملک میں قادیانی چینلز کا نوٹس لیا جائے اور ان پر پابندی عائد کی جائے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قومیائے گئے تعلیمی اداروں میں سے صرف قادیانی تعلیمی اداروں کو واپس کرنا عوامی جذبات کی توہین اور ملک کی نظریاتی اثاث کے منافی ہے ۔ چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے شہید و زخمی ہونے والوں سے ہم سب یکجہتی کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ مسلمانوں کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جائے اور جانبدارانہ ترویہ ترک کیا جائے ۔ اعلامیہ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں دی گئی مدت میں مطالبات پورے نہ کیے گئے اور حکومت کے طرزعمل میں تبدیلی نہیں آئی تو ملک گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا ۔ جمعیت علمائے اسلام کے قاری محمد عثمان نے شرکاءکا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہم سب تحفظ ناموس رسالت کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔
ناموس رسالت/ کانفرنس