یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

22 فروری 2017

پروفیسر عبدالحق
معاون نصابی سرگرمیاں کسی تعلیمی ادارے کا حسن ہی نہیں بلکہ وہاں کے نظام کی فعالیت اور زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی استعدادِ کار میں اضافہ اور مقاصدِ تعلیم کی تکمیل کی ضامن بھی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مثالی تعلیمی اداروں میں ان کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن جب سے ہم زوال و انحطاط کا شکار ہوئے ہیں تعلیمی اداروں کی یہ سرگرمیاں ماند پڑتے ہوئے اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں اور وہ تعلیمی ادارے جہاں مقدس فضائیں تخلیق شعر و ادب، بحث مباحثوں، بیت بازی کے مقابلوں اور کھیلوں سے آباد تھیں اب وہاں جماعتی گروہ بندیوں، سیاسی نعروں اور آپس کی دشمنیوں سمیت کامیابی کے لئے شارٹ کٹ تدبیروں، ذہنی انتشار کے اظہار اور انٹرنیٹ کی فسوں کاری کا غلغلہ ہے جس کا نتیجہ ہے کہ لائبریریاں ویران، کھیل کے میدان اُجاڑ اور علم و ادب کے ایوان سُونے پڑے ہیں۔ کسی طالب علم کے پاس بے شک نصابی کتب اور قلم و کاغذ نہ ہو موبائیل فون ضرور ہوگا اب اس کے ذریعے دل دھڑکتا اور آنکھیں پُرنُور رہتی ہیں۔ بھلا ہو حکومت کا کہ اس نے زوال کی جانب بڑھتے قدموں کو روکنے کی تدابیر اختیار کی ہیں اور ملت کی اس قیمتی متاع کو بربادی سے بچانے کے لئے پُرکشش پروگرام شروع کئے ہیں۔ طلبہ کی ذہانت کے اعتراف اور اس کی جلا کے لئے مفت لیپ ٹاپ کی تقسیم، پوزیشن ہولڈرز کے لئے غیر معمولی انعامات کی بھرمار اور بھاری وظائف کے اجراء سمیت یوتھ فیسٹیول کا اہتمام کر کے پڑھے لکھے پنجاب کی اختراع کو ممکنات سے دوچار کرنے کے واسطے تعلیمی منصوبہ بندیوں اور درپیش مسائل کے حل کے ساتھ مقابلہ جات کی طرح ڈال دی ہے۔ ان مقابلہ جات میں بحث مباحثے، حُسنِ قرأت و نعت خوانی کے مقابلے اور مضمون نویسی سب شامل ہیں جو بہت خوش آئند ہیں کہ ان کے ذریعے طلبہ و طالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ جذبۂ مسابقت کی لذت آشنائی اور اپنی شخصیت کے نکھار کا موقع ملتا ہے جس سے بہترین نتائج کی توقع ہے۔
مذکورہ مقابلہ جات جو صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کے مابین ہیں اور ایک ہفتہ پر محیط ہیں گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اُن کے انعقاد کے لئے لاہور کے تاریخی تعلیمی ادارے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز کو اس کی نظامت سونپ کر عزت اور میزبانی کا اعزاز عطا کیا گیا ہے جو ایک طرح سے مذکورہ کالج کے پُرامن تعلیمی ماحول، بیدار معزز قیادت اور اساتذہ کی اعلیٰ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سربراہِ ادارہ پروفیسر جاوید احمد باجوہ جب سے بطور پرنسپل متمکن ہوئے ہیں ادارہ کے نظم و نسق میں صحت مند تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ انسدادِ ڈینگی مہم، تمباکونوشی کے خلاف جہاد، طلبہ کے مسائل کے حل، درس و تدریس میں باقاعدگی، سکیورٹی کے انتظامات اور اس عظیم ادارہ کی روایات کی پاسداری کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ادارہ کے وائس پرنسپل ڈاکٹر پروفیسر فاروق گوجر ایک بہترین منصوبہ ساز، ناظم اور ماہر تعلیم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اس ادارہ کے لئے باعثِ رحمت ہیں جبکہ مختلف قسم کی تقریبات بالخصوص مذکورہ مقابلہ جات کے انعقاد کے لئے کہنہ مشق اساتذہ میں پروفیسر افتخار الدین سہیل، اور ڈاکٹر محمد نعیم بزمیؔ سرفہرست ہیں۔ ان مقابلہ جات میں شرکت کی غرض سے صوبہ بھر سے آنے والے طلبہ اور نگران اساتذہ کے لئے رہائش اور خورد و نوش کے اہتمام کے لئے ہاسٹل انچارج پروفیسر رشید نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ عمومی انتظامات کے لئے پروفیسر کرامت قابل ستائش ہیں۔
حکومت پنجاب کے ایما پر ان مقابلہ جات کا آغاز 25 جنوری 2017ء سے ہوا ہے۔ اولین روز کی نشست جسے وزیراعلیٰ مقابلہ مباحثہ سے ممنون کیا گیا تھا اس میں انٹر، ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے پنجاب بھر کے اداروں سے طلبہ نے شمولیت کی۔ عنونات بالترتیب یوں تھے۔
(ا):۔ دنیا میں ترقی اور عزت کے لئے انگریزی سے زیادہ اُردو کی ضرورت ہے۔
(ب):۔ یہ ایوان مخلوط نظامِ تعلیم کی حمایت/ مخالفت کرتا ہے۔
(ج) :۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ مسائل نہیں بلکہ ویژن کی کمی ہے۔
مندرجہ بالا عنوانات کے تحت تینوں سطح کے طلبہ نے خوب بڑھ چڑھ کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور اپنے مافی لضمیر کی وضاحت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ وہ حالات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً اُردو ذریعہ تعلیم کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ان طلبہ نے ان خوش نصیب ممالک کا حوالہ دیا جو انگریزی سے قطع نظر اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر دنیا میں باوقار، معتبر اور غیر معمولی ترقی اور خوشحالی سے زندہ ہیں طلبہ نے قائداعظم کا فیصلہ بھی یاد دلایا کہ انہوں نے بڑے زور دار لفظوں میں پاکستان کی قومی زبان اُردو کو قرار دیا تھا۔ کاش صاحبانِ اقتدار بھی طلبہ کی سی بصیرت رکھتے ہوں اور اُردو کو اس کا جائز مقام دے کر اپنے قومی تشخص کو سنبھالا دیں۔ مقررین نے مخلوط نظامِ تعلیم کی خیر و برکت کا بڑی دلسوزی سے تذکرہ کیا اور بعض نے اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے اس سے اجتناب کا مشورہ بھی دیا کہ یہ دیئے گئے موضوع کا تقاضا تھا۔ بحث برائے بحث یہ موضوع نہ صرف لائق تحسین ہے بلکہ دل کو گدگدانے اور زندگی کی لذتوں سے آگاہی کا ذریعہ بھی۔ مگر اصل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں عورتوں کی شرح پیدائش جس تیزی سے بڑھی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں عورتوں کی تعداد اگر مردوں سے زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے برابر ضرور ہے اور ہمارے سماجی، اقتصادی، سیاسی، تعلیمی اور انتظامی تمام شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہے۔ صرف تعلیم کے میدان میں گزشتہ چند سال سے ملّت کی بیٹیوں نے فرزندانِ پاکستان کے مقابل جو پوزیشن حاصل کی ہے وہ آنکھیں کھول دینے کے لائق ہے اور وہ لمحہ دور نہیں جب خواتین پورے نظام پر حاوی ہوںگی اور پھر مباحثوں میں ایسے موضوع سے قطع نظر ہمارا ہدف کچھ اور ہوگا۔ پوسٹ گریجویٹ کے طلبہ کے لئے موضوع مباحثہ ’’پاکستان کا بنیادی مسئلہ مسائل نہیں ویژن کی کمی ہے‘‘ خاصا دلچسپ اور فکر انگیز تھا۔ ہماری نئی نسل کے نمائندوں نے اس موضوع کے حق میں خوبصورت دلائل دیئے۔
حکومت کی ہدایت پر ان مقابلہ جات میں صوبہ بھر سے آئے ذہین اور منتخب طلبہ نے جس تدبیر فہم و فراست، بلند آہنگی اور دلائل سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا لفظوں میں اس کی تعریف ممکن نہیں اقبال نے بجا طور پر درست کہا تھا کہ یہ مٹی بہت زرخیز ہے۔ ایسے مقابلہ جات وقت کی ضرورت ہیں جو ہمارے مستقبل کے معماروں کی تربیت کا سامان ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ایسی تقاریب کی مناسب الفاظ میں تشہیر بھی ہو۔ خاص طور پر میڈیا کے متعلقین سیاسی شعبدہ بازیوں، ہلاکت آفرینیوں، مایوسیوں اور ایوانِ اقتدار کی سرگرمیوں تک محدود نہ رہیں اور طلبہ و طالبات کی ایسی فکر انگیز باتوں اور ان کی مثبت سوچ کو بھی منظر عام پر لائیں تاکہ وہ لوگ جو نئی نسل کو محض گمراہ، بے عمل اور واقعات و حالات سے لاتعلق سمجھتے ہیں یہ جان لیں کہ ان کی سوچ کا معیار کیا ہے اور وہ کس درد مندی سے حالات سدھارنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔