تنازع کشمیر پر عالمی اداروں سے رجوع کرنا ہوگا: سردار مسعود

22 فروری 2017

مظفرآباد+ لاہور (صباح نیوز) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر کی زیر صدات اجلاس میں آزادکشمیر کی تعمیر وترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے وزیراعظم محمد نواز شریف کے اعلان کردہ منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال ،آزادکشمیر کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری سمیت ریاستی حکام بھی شریک تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جس انداز میں تحریک آزادی کشمیر کو قومی وبین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اورآزادکشمیر کی تعمیر وترقی میں دلچسپی لی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان کے ساتھ مفاد کا رشتہ نہیں بلکہ نظریاتی اور روحانی رشتہ ہے۔ پاکستان اہل کشمیر کی امیدوں اور امنگو ں کا محور ومرکز ہے۔ہماری خواہش ہے کہ پاکستان مضبوط اور مستحکم ہو۔ آزادکشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی22ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا، پیپلزپارٹی کی حکومت بہتری نے جاتے ہوئے زمینی حقائق کے خلاف بجٹ بنایا اور عوام وریاست کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آزادکشمیر میں عوامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر منصوبہ جات شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے مقبوضہ کشمیر کے لیے بھارت کی طرف سے 8سو ارب روپے کا پیکیج ٹھکرا دیا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں اور اس جدوجہد میں اہل کشمیر نے قربانیوں کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کی۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مقبوضہ کشمیر بھارتی استبسداد سے آزاد ہوکر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا۔ دریں اثناءپنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ مطالعہ پاکستان میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی جغرافیائی سلامتی اور معاشی خوشحالی کا ضامن ہے ۔ پاکستان کی زراعت کا بڑا حصہ کشمیر سے آنیوالے دریاﺅں کا مرہون منت ہے اس لیے کشمیر کو حاصل کئے بغیر پر امن ، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا کشمیریوں کے ساتھ ازلی و ابدی رشتہ ہے۔ 1947ءمیں مہاراجہ کشمیر بھارت کے ساتھ ساز باز کر کے تاریخ کا فطری دھارا نہ موڑتا تو آج پوری ریاست پاکستان کا حصہ ہوتی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل پاکستان کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے نہ کشمیریوں کے لیے۔ انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر کی پاکستان کے لیے وہی اہمیت ہے ۔ جو چین کے لیے تائیوان ، تبت یا سنگیانگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے ۔ نہتے کشمیریوں کے پاس پتھر کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ، بھارت پتھر پھینکتے والوں پر دہشتگردی کا الزام عائد کر کے کہتا ہے کہ ان کو پاکستان ہتھیار سپلائی کرتا ہے ۔ اس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ پتھر پاکستان سے سپلائی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نفسیاتی حربے استعمال کر رہا ہے ۔ ہمیں ذہنی اور فکری طور پر خود کو مستحکم کرنا ہو گا۔ کشمیر ی مذاکرات کے خلاف نہیں۔ وہ جنگ و جدل نہیں امن اور ہم آہنگی کی علامت بننا چاہتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں دو طرفہ مذاکرات کے ڈھکوسلے کو چھوڑ کر عالمی اداروں سے رجوع کرنا ہو گا۔
سردار مسعود