سانحہ سیہون سندھ میں داعش کا پہلا حملہ ہے‘ سی ٹی ٹی پولیس

22 فروری 2017

کراچی(کرائم رپورٹر)سندھ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) کے انچارج راجہ عمرخطاب کے مطابق درگاہ لعل شہبازقلندر پر ہونےوالا بم حملہ سندھ میں پہلا حملہ ہے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، مزار پر ہونے والا بم حملہ داعش کی جانب سے شام اور عراق میں کیے جانے والے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، خود کش بمبار نے خود کو صوفی بزرگ کی قبر کے قریب دھماکے سے اڑایا، جبکہ کچھ ہی داعش کے مطابق قبروں پر زیارت کیلئے جانا غیر اسلامی عمل ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مبینہ دہشت گرد حفیظ بروہی جس پر سیہون بم دھماکے میں اہم کردار ادا کرنے کا شبہ ہے کی جانب سے داعش میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا گیا تھا، لیکن اس کے افغانستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیموں داعش اور جنداللہ اور سندھ اور بلوچستان میں لشکر جھنگوی کے نیٹ ورک سے تعلقات اور رابطے تھے۔انہوں نے کہاکہ داعش ان کالعدم تنظیموں کے ذریعے اپنا نیٹ ورک چلا رہی ہے کیونکہ کہ سندھ میں اس کا نیٹ ورک موجود نہیں۔سی ٹی ڈی کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں صوبہ پنجاب اور کراچی میں داعش کی جانب سے بہت زیادہ بھرتیاں ہورہی ہیں۔داعش کا بیشتر لٹریچر انٹر نیٹ پر موجود ہے جو بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہے، اس بات کا ثبوت کراچی، اسلام آباد اور سیالکوٹ سے داعش کے سیلز سے حاصل ہونے والے تحقیقات سے ہوتا ہے۔سی ٹی ڈی کے مطابق داعش نے پاکستان میں اپنے نیٹ ورک کی بنیاد 2014 میں رکھی تھی۔اس وقت داعش نے افغانستان اور پاکستان کو اپنے ولایتِ خراسان کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متعدد دہشت گروپوں، جن میں جنداللہ، تحریک خلافت پاکستان (ٹی کے پی) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے کچھ ذیلی گروپ شامل ہیں، نے دسمبر 2014 میں ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔سی ٹی ڈی کے سینئر افسر کے مطابق لشکر جھنگوی کی قیادت کے ختم ہونے کے بعد داعش نے اس کی باگ ڈور سنبھال لی کیونکہ دونوں کالعدم تنظیمیں اہل تشیع مخالف جذبات رکھتی تھیں۔ذرائع نے بتایا کہ لشکر جھنگوی کے دیگر دہشت گردوں کے برعکس آصف چھوٹو نے کراچی پر زیادہ توجہ دی جیسا کہ وہ شہر میں تنظیم کے سیل کا چیف بھی تھا جہاں اس کے گروپ نے اہل تشیع کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات اور پیشہ ور ماہرین کو نشانہ بنایا۔سی ٹی ڈی کے مطابق حکومت کو ملک میں داعش کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہونے والے اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے۔سی ٹی ڈی کی دستاویزات میں خبردار کیا گیا ہے کہ دیگر دہشت گرد گروپ مستقبل میں داعش میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں جو ملک کے پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔
داعش /سی ٹی ڈی