تحفظ مزارات مہم‘ 200علماء کا دورہ سہون ‘ زخمیوں کی عیادت کی

22 فروری 2017

کراچی (نیوز رپورٹر) تحفظ مزارات اولیاءمہم کے تحت سندھ بھر کے نمائندہ علمائ، مشائخ نے نگران اعلیٰ مرکزی جماعت اہل سنت شاہ محمد اویس نورانی صدیقی، پیر میاں عبدالخالق بھرچونڈی شریف، مفتی منیب الرحمن ، اورمفتی محمد جان نعیمی کی قیادت میں 200 سے زائد علماء نے درگاہ سہون شریف کا دورہ کیا اور اسپتالوں میں خود کش دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر پیر میاں عبدالباقی، مفتی محمد ابراہیم قادری، پیر ایوب جان سرہندی، مفتی عبدالحلیم ہزاروی ، مولانا ریحان امجدی، مفتی عبدالرحیم سکندری، مفتی محمد شریف سرکی، مولانا مشتاق نقشبندی، مولانا محمد علی جان مجددی،پیر غلام شاہ جیلانی ،مفتی بدرالدین سرھیو،مولانا شفیق قادری،مولانا مفتی نورالنبی سکندری، مولانا مشرف محمود قادری،مفتی غوث بغدادی، عبدالحفیظ انصاری، محمد معین شیخ،مستقیم نورانی، مولانا زاہد قادری، مولانا تاج الدین نعیمی، زبیر صدیقی ہزاروی،جنید مصطفی سرھیو بھی موجود تھے۔ قبل ازیں سہون گیسٹ ہاآس میں پریس کانرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمد اویس نورانی صدیقی، پیر میاں عبدالخالق بھرچونڈی شریف، مفتی منیب الرحمن ،مفتی محمد جان نعیمی کا کہنا تھا کہ لعل شہباز شاہ قلندر کے مزار پر ہونے والا خودکش دھماکہ قومی سانحہ ہے اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،حیرت انگیز بات ہے کہ ہر سانحہ کے بعد آپریشن کیا جاتا ہے، حادثے کے بعد بہت سی کاروائیوں میں دہشت گرد عناصر مارے گئے، آخر یہ کاروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی؟جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ ہمارے اکابرین کی نسبت مزاروں اور درگاہوں سے ہے، پاکستان بنانے والے صاحب مزارات سے تربیت یافتہ تھے،اکابرین کی تاریخ امن و محبت کے ساتھ اسلام کی ترویج و اشاعت پر مبنی رہی ہے، مزارات مقدسہ پر دھماکے کرنے والے مسلمان نہیں ہیں، بلکہ انتہاپسند اور دہشت گرد ہیں،کوئی بھی مذہبی و سیاسی جماعت ان دہشت گردوں کو قبول نہیں کرسکتی ہے اور نہ ہمدردی کا اظہار کرسکتی ہے جو لوگ ان دہشت گردوں کے سہولت کا ر ہیں، ان لوگوں کو نشان عبرت بنایا جائے، سہون شریف کے ایک سو کلومیٹر کے دائرے میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں ہے، صوبہ سندھ کو ہمیشہ جاگیردارانہ انداز سے چلانے کی کوشش کی گئی،عوام بے بس ہے،تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان کے صدر اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سانحہ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی لاشوں کے اعضاءنالے میں پھینک دئیے گئے، یہ کہاں کی انسانیت ہے؟اوقاف میں من پسند بھرتیاں کی گئی اور ان لوگوں کو ذمہ داری دی گئی جنہیں مزار اور صاحب مزار سے کوئی عقیدت نہیں ہے بلکہ انہیں مزار کے چندے کی فکر ہے،اوقاف میں سنجیدہ لوگوں کو شامل کیا جائے اور مقامی اوقاف کمیٹیوں کوعلماءکرام کے زیر اثر کیا جائے،مرکزی جماعت اہل سنت سندھ کے امیر مفتی اعظم سندھ مفتی محمد جان نعیمی نے کہا کہ مزارات مقدسہ سے چرس، افیون، ناچ گانا اور ڈھول جیسی خرافات بند کی جائیں،مزارات پر مخلوط نظام کو ختم کیا جائے۔مرکزی جماعت اہل سنت و جمعیت علماءپاکستان کے مشترکہ پلیٹ فارم سے گیسٹ ہاﺅس سہون شریف میںہونے والی اہم ترین پریس کانفرنس میںکہا گیا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد بھی کیا ہم اس مقام پر کھڑے ہیں؟کیا ابھی کسی پلان یا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے؟ ہمارے سیکورٹی ادارے مزید کتنے اختیار ات کے بعد ملک میں امن و امان قائم کرسکیں گے؟کراچی میں آپریشن کیا گیا ہم بار بار کہتے رہے کہ مجرم اندرون سندھ بھاگ گئے ہیں مگر ہماری نہیں سنی گئی، اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے،اب معلوم ہورہا ہے کہ خیرپور اور شکارپور میں دہشت گردوں کے اڈے ہیں، یہ رویہ سنجیدہ نہیں ہے، پہلے ہی سے کچھ نہ کچھ کرنا چاہیے تھا۔
200علماء کا دورہ