امریکہ اور افغانستان نے پاکستان میں کاروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف سخت آپریشن کی یقین دہانی کرادی

22 فروری 2017

اسلا م آ با د+کابل(آن لائن+این این آئی)امریکہ اور افغان حکومتوں نے پاکستان کو اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں یقین دہانی کرادی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور ایسے تمام گروپس اور تنظیموں کے خلاف ”انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں سخت آپریشن“ کیا جائے گا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کرانے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے پاکستان نے اپنی سلامتی کیلئے اقدامات اٹھاتے ہوئے پاک افغان سرحد کو بند کردیا اور پاک فوج کی جانب سے سرحد پار دہشت گرد گروپس کو نشانہ بنایا گیا۔ اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں کے بعد توقع ہے پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم ملاقاتیں جلد ہوں گی۔دوسری جانب افغانستان نے کہاہے کہ اس نے شدت پسندوں اور شدت پسندی کے مراکز سے متعلق مکمل تفصیلات پاکستان کے حوالے کر دیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کی وزارت خارجہ نے میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا اسلام آبادمیں افغان سفارتی اہلکاروں نے پاکستان کو 85 ا±ن شدت پسندوں کے پتے اور ان تک پہنچنے کے نقشے فراہم کیے ہیں۔بیان کے مطابق پاکستان کو دی گئی معلومات میں شدت پسندوں کے 32 مراکز کے پتے اور ان تک پہنچنے کے نقشے بھی شامل ہیں۔معلومات دینے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے ان کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔بیان کے مطابق اس فہرست میں طالبان کے رہبر شوریٰ، حقانی نیٹ ورک سمیت 85 ایسے دہشت گرد ہیں جو پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں موجود ہیں۔بیان میں کہا گیا یہ دہشت گرد افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہیں اور ا±نھیں افغانستان کے حوالے کیا جائے۔بیان میں پاکستانی حکام کی جانب سے مثبت جواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ا±نہیں یقین دلایا گیا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
امریکہ/افغانستان