چشم کشا سانحہ سیہون شریف اور پیپلز پارٹی

22 فروری 2017

خودکشی کا مطلب خود کو ہلاک کرنا ہے‘ خودکشی حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ خودکش بمبار جو اپنے بدن پر بارود باندھ کر نہ صرف خودکشی کرتا ہے بلکہ ساتھ دیگر بے گناہ انسانوں کا قتل بھی کرتا ہے دوہرا عذاب اس کا مقدر ہے اس پر بھی وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے اس خودساختہ تجاہل پر شیطان بھی ہنستا ہو گا۔ اﷲ پاک نے فرمایا”اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہے گا اس پر اﷲ کا غضب ہو گا اور اس پر اﷲ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے“ (النسائ)اﷲ کا غضب کیا ہوتا ہے؟ زمین پر زندگی جیتے ہوئے اس کا کما حقہ‘ ادراک نہیں ہو سکتا‘ اﷲ کی لعنت کا مطلب ہے اﷲ مالک کل کائنات کی قطعی بے زاری اور نفرت (استغفراﷲ) اور جسے اﷲ‘ بڑا عذاب‘ کہے جو جہنم کی آگ کے ماسوا ہو‘ اس کا تصور ہولناک ہے۔ اﷲ کی طرف سے ایسی سخت وعید سن کر بھی یہ سوچنا کہ خودکش بمبار جنت میں جائے گا ایسی جرا¿ت خیال تو ابلیس نے بھی نہ کی۔
خودکشی کرنے والا جس طریقہ پر اپنی موت منتخب کرتا ہے وہ مرنے کے بعد کی زندگی (اور روز قیامت جو مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہے) اسی طریق پر مرتا اور پھر زندہ کیا جاتا رہے گا حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔”جو شخص جس چیز کے ساتھ خود کشی کرے گا اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا“ صحیح بخاری
حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے مروی ہے۔ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے لوہے کے ہتھیار سے خودکشی کی تو اسے جہنم کی آگ میں اسی ہتھیار سے مارا جاتا رہے گا۔اندازہ کر لیجئے کہ خودکش جیکٹ پہن کر خود کو مارنے والا عذاب کی موت مر کر عذاب کو اپنے بدن پر تا ابد خوش آمدید کہہ رہا ہوتا ہے اور اس عذاب میں اس کی مدد کرنے والے‘ اکسانے والے راہ ہموار کرنے والے‘ مالی امداد دینے والا‘ راستہ آسان کرنے والے ‘ تائید کرنے والے‘ سہولت کار سب کے سب انشاءاﷲ شامل ہیں اور ہوں گے۔درگاہ سخی شہباز قلندر سیہون شریف میں 16 فروری بعد نماز مغرب خودکش دھماکہ ہوا جس میں 88 زائرین شہید ہو گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مجھے یہاں اس اذیت ناک سانحہ پر ”مذمت“ جیسا بے ضرر لفظ استعمال کرنا مقصود نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ خواص کو خبر ہو یا نہ ہو عوام کو اچھی طرح خبر ہے کہ بھارت افغانستان میں خودکش حملے کی تربیت دے رہا ہے اسلحہ بارود اور مالی امدادکر رہا ہے۔ حکومتی سطح پر بھارت کا نام کُھل کرنہیں لیا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میںاولیاءکرام کے متعدد مزارات موجود ہیں۔ ان میں بلحاظ کثرت زیارات اور بلحاظ آمدن قلندر پاک سیہون شریف دوسرے نمبر پر ہے پہلے نمبر پر داتا دربار لاہور ہے۔ بعدازاں عبداﷲ شاہ غازی‘ بری امام‘ بہا¶ الدین زکریا‘ شاہ رکن عالم‘ حق باہو سلطان اور دیگر ہیں وہ سب قابل صد تکریم و احترام ہیں۔
آمدن برسر مطلب‘ ذوالفقار علی بھٹو سیہون شریف کے معتقد تھے اور سندھڑی دا سائیں“ کہہ کر خراج تحسین پیش کرتے تھے۔ بھٹو مرحوم سے کر تاحال نصف صدی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ ڈیڑھ عشرہ پیپلز پارٹی کی وفاقی و مرکزی حکومت رہی۔ پیپلز پارٹی بنیادی طور پر اندرون سندھ سے اٹھی اور آج بھی اس کا اکثریتی ووٹر سندھ کا ہے۔ سندھ کا کھا کر‘ سندھ سے پل کر جوان ہونے والی اس سیاسی جماعت کا اندرون سندھ کی خدمات میں کردار شرمناک ہے یوں تو اندرون سندھ مجموعی طور پر انتہائی غربت پسماندگی‘ کسمپرسی‘ ٹوٹی پھوٹی تنگ سڑکیں‘ کچے راستے‘ صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی‘ قلیل و ناکامی تعلیمی ادارے‘ عسرت زدہ لوگ‘ پھٹے ٹا¶ٹوں سے ڈھکے دروازوں والے مکانات‘ کچی اینٹوں کے چھپر پر لگا پیپلز پارٹی کا فاتحانہ جھنڈا‘ کچے راستے پر ایک محراب پر لگا کتبہ باب بے نظیر‘ جوہڑوں تالابوں پر انسان اور مویشی پانی پیتے اور بے روزگاری کے مارے ہوئے خالی ہاتھ نوجوانوں کے ریوڑ کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
ایسے میں سیہون شریف کی حالت کیسے مختلف ہو سکتی تھی۔ کئی باتیں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کے بعد سامنے آئی‘ مزار شریف کو جانےوالا راستہ ناپختہ اور تجاوزات سے بھرا ہوا ہے قصبہ کا ہسپتال محض ایک عمارت ہے جس میں بمشکل15/20 بستر ہیں سانحہ کے دوران اس عمارت کے تمام کمروں اور راہداریوں میں زخمی اور شہید فرش پر ڈھیر تھے۔ ادویہ‘ ڈرپس سٹینڈ‘ آکسیجن سلنڈر حتیٰ کہ ڈاکٹر تک نہ ہیں‘ سرجن یا آپریشن تھیٹر کا تو کیا سوال‘ ممکن ہے وہاں زرداریوں وڈیروں سائیں سرکار کے ڈھور ڈنگر بندھتے رہتے ہوں کیونکہ ایسا بھی متعدد ہسپتالوں اور سکولوں کے ساتھ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ان بے حس بے غیرت حکمرانوں کے علاقے ہیں جن کے وزیر کی بیٹی کی شادی تھائی لینڈ کے مہنگے ترین ہوٹل میں ہوتی ہے جن کے سرے محل اوردوبئی میں لگژری بنگلہ جات اور جانے کیا کیا ہے ان کا اپنے ووٹروں کے ساتھ سلوک اپنے کتوں اور گھوڑوں سے ابتر ہے۔سانحہ جیسا بھی ہو‘ سانحہ کی زد میں آنے والے زخمیوں کے لواحقین ہر ممکن طریقے سے اپنے پیاروں کی زندگیاں بچانا چاہتے ہیں۔ زخموں سے چور خون بہاتے پیاروں کو لاد کر تنگ اونچی نیچی سڑکوں پر ٹھوکریں کھاتے مسیحا اور ہسپتال کی تلاش میں گھنٹوں ضائع کرتے قطرہ قطرہ پیاروں کو مرتا دیکھتے لواحقین کی اذیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اگر ضمیر مردہ اور دل بے حس نہ ہو۔مال روڈ لاہور کی دہشت گردی کا بھی دکھ شدید اور نقصان ناقابل تلافی ہے مگر کم از کم 1122 کا میسر ہونا‘ اعلیٰ ہسپتال اور ڈاکٹرز‘ ایمبولینس کا رسائی میں ہونا پیاروں کی زندگی بچانے کی سعی میں معاون تو ہیں۔
پاکستان اتنے زخم کھا چکا ہے‘ اتنا لہو بہا چکا ہے کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے مقتدر طبقے کا احساس جاگے؟ فانی زندگی کی آسائشات پر ریجھنے کی بجائے فلاح قوم اور خدمت انسانیت کو ترجیح دیں؟کب بنیں گے ہم عوام اور خواص یکجا ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار؟ کب آنکھیں کھلیں گی خواص کی؟اب تو ستر سال بیت چکے ہیں اور سکت انتظار دم توڑ رہی ہے۔