اب چپ رہو گے تو مر جاو¿ گے

22 فروری 2017

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جو ریاست مجرموں پہ رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں۔ مجھے اپنے اجداد پہ فخر ہے کہ میں اس قوم سے ہوں جس کے دامن میں صدیق کی سچائی۔ عمر کی دانائی۔ عثمان کی سخاوت اور علی کی شجاعت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا دور تو اسلام کا وہ سنہرا زمانہ ہے جس کی طرز حکومت کو اپنے کیا غیر بھی مثالی قرار دیتے ہیں اور اس سے راہنمائی پاتے ہیں۔ عدل و انصاف ہو یا خوشحالی۔ امن و امان ہو یا اخوت و الفت کی فراوانی -سب کچھ ہی تو ملتا ہے۔ جزا و سزا کا وہ معاشرہ بس چین ہی چین لکھتا ہے۔ سرحدیں ہزاروں میلوں پہ پھیلی ہوئی ہیں لیکن حاکم با خبر ہے اپنے عوام کی حالت زار سے اور فرات کے کنارے کوئی ذی روح بھوکا پیاسا جان دے دے یہ فکر شب بھر سونے نہیں دیتا ہے۔ رفاہ عامہ کا کام ہو تو کندھے بھی حاضر ہیں بوجھ اٹھانے کو۔ سوکھے ٹکڑے چبانے والا گندم کمر پہ لادے مدینہ کی گلیوں میں ایک خادم بنا نظر آتا ہے اور کسی کو شکوہ یا شکایت ہو تو جمعہ کا خطبہ دینے اور خدا کے سامنے دوزانو ہونے سے پہلے ہی جواب دہ ٹھہرا لیا جاتا ہے۔ سزا کا معاملہ ہو تو اپنی کمر باقی ماندہ کوڑوں کے لئے حاضر کردے۔ بیٹے کی تجارت میں گورنر کی معاونت نظر آئے تو گورنر کو معزول کر کے پرسش کے لئے مدینہ بلا لے۔ کار سرکار میں تھک جائے تو اپنے جوتے تکیہ بنا لے اور درخت کی چھاو¿ں ہی میں کچھ دیر کو سستا لے۔ سوار غلام کی سواری کا مہان بنے اور اس کی لگام سنبھالے یروشلم کا قبضہ لینے کو صحراو¿ں کا مسافر ریگزاروں کے تھپیڑے کھاتا پہنچے اور غیر مسلموں کے لئے امان ہی امان لکھ دے۔ آج جب دہشتگردی کے سائے پھر گہرے ہو گئے ہیں۔ وطن کی فضائیں پھر سوگوار ہیں۔ آنکھیں پھر برس رہی ہیں اور گالوں سے جذب ہوتے نمکین آنسو گلوں میں اٹک رہے ہیں۔ سینوں سے ابلتا سرخ لہو چمن کے ہر گلاب کا منہ رنگ رہا ہے۔ دادو کے باسی اپنے پیاروں کو ہسپتالوں کے سپرد کئے کراچی کے کھلے آسمانوں تلے بے گھر بیٹھے ہیں۔ ان کے گرد پروٹوکول کے سجے قافلے آتے۔ میڈیا کی زینت بنتے انہی سائرنوں کے سازینوں میں واپس سدھار رہے ہیں۔ حاکم علاج میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کے وعدہ وعید کرتے ان سے ایسے مخاطب ہیں کہ جیسے احسان کر رہے ہوں۔ وہ طبی امداد جو گھر کے دروازے پہ ملنا چاہئے تھی اس کے لیے بے گھر ہوئے غریب لوگ آنکھوں میں سوال لئے لبوں سے خاموش ضرور ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ اب خاموش رہے تو سب مارے جائیں گے۔ انہیں طفل تسلی نہیں عمل کرتی حکومت اور حکمران چاہیں۔ آپ کے مردے مر کے بھی زندہ اور ہم زندہ بھی آپ کے لیے مرے ہوئے ہیں۔ آپ پہ سختی آئے تو دوبئی میں محل اور ہمارے لئے کھلے آسمانوں کے شامیانے۔آپ کے علاج کی گولی امریکہ سے ہمارے خرچ پہ درآمد ہو اور ہمارا علاج ٹھنڈے فرشوں پہ۔ ہمارے پیٹ بھوک کاٹیں اور آپ کی تنخواہیں اور مراعات کئی گنا بڑھ جائیں کہ کوئی پوچھ گچھ ہی نہ ہو سکے۔ ہم پیاس بجھانے کو گرم ریت نچوڑیں اور آپ کے باتھ روم کی تزئین و آرائش پہ کروڑوں خرچ آئیں۔ ہمارے گھر کی دیوار نہ چھت۔آپ کے گھر سجانے کے لئے حکومتی خزانوں کے منہ کھل جائیں۔ ہم حالات زمانہ کی چکی پسیں اور خاک بنا دیے جائیں۔ آپ لوہے کے وہ چنے ثابت ہو ں کہ چباتے دانت ہی ٹوٹ جائیں۔ہم بے گناہ پھندوں پہ جھولیں ، عدالتوں کے چکروں میں زندگی کھو دیں اور آپ کو کہی چند باتیں ہی آپ کی تضحیک کر دیں اور ہمیں سرِ بازار بے پردہ کردیا جائے تو جسم کو قبا دینے والا نہ ملے-بہت ہو چکا یہ استحصال اور غربت کا مذاق۔ ٹیکس نیٹ یا آپ کا پھیلایا ٹیکس کا جال ہمیں ایسے پھانسے کہ ہلنے نہ دے اور آپ کی ٹیکس ریٹرن صفر ہو۔ ہم آپ کے جلسوں میں جان وارنے مردانہ وار آئیں اور آپ کے لیے ہر چیز بلٹ پروف ہو۔ میرے قائد کی جان بغیر ایندھن کی ایمبولینس میں سڑک کنارے نکلے ، آپ کے دانت درد کا علاج بیرون ملک ہو اور آپ کے اہل خانہ کی آمدو رفت کو ملکی جہاز ہر وقت سرکاری اخراجات پہ چاک و چوبند نظر آ ئیں۔زیارت میرے قائد کی آخری میزبان بموں کے نشانے پر ہو اور آپ کے محل کے اطراف میلوں ایسے دیواریں اٹھا دی جائیں کہ کوئی پر ہی نہ مار سکے۔ میرے قائد کے مزار کے لئے تحائف کو ہاتھ پھیلائے جائیں اور آپ ایک سال کا کروڑوں میں صرف اپنے کچن میں ہی ڈکار جائیں۔ ہمارا گنا کوڑی کے بھاو¿ بکے اور آپ کے کارخانوں کی چینی سونے میں تلے اگر منافع کچھ کم ہو تو سبسڈی کی مد میں آپ پہ دھن برسے۔ ہمارے کارخانوں کے پہیے گھومنا بھول جائیں ، آپ کی بیرون ملک ملیں آپ کے بنک بیلنس ایسے بھر دیں کہ گننا بھی دشوار ہوجائے نہ صاحب اب ہم چپ رہے تو مر جائیں گے۔ نہیں چاہئے رحم و کرم ایک مساوات چاہئے۔ ہمیں بھی جینے کا حق چاہئے۔ ہمیں بھی ہسپتال اور تعلیم چاہئے۔ ہمیں بھی روزگار چاہئے۔ ہمیں بھی سر سبز کھیت کھلیان چاہئے منڈیوں میں حصہ آتا دام چاہئے۔ ہمیں بھی جان کی امان چاہئے۔ ہمیں سزا دینے کی بجائے گناہ گاروں کو لٹکائیے۔ جزا اور سزا بہتر بنائیے۔ نہیں تو بے گناہ بے رحمی سے مرتے رہیں گے اور جب کچھ نہ ہوگا تو آپ بھی انہی کے نشانے پہ ہوں گے جن کے سامنے آج ہم ہاتھ ہوا میں بلند کئے موت کے منتظر ہیں –

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...