میدان کا فاتح ....

22 فروری 2017

گذشتہ سے پیوستہ
سوار محمد حسین شہید .... کی جرا¿ت و بہادری پر دشمن نے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ روک دی اور نہایت احترام کے ساتھ شہید کو ہمارے حوالے کیا اور قوم نے اسے نشان حیدر سے نوازا .... دل کو سکون نصیب ہوا .... اور وہ چلا گیااور میں ایک مرد کو گود میں لٹائے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو بہاتی رہی .... میں بھول جاتی .... لوگ انگلی اٹھا کر کہتے .... یہ ہے وہ سترہ سالہ بیوہ .... ایک با ہمت شہید کی عزم و ہمت والی بیوہ .... پھر بہت سے لوگوں نے بات کی .... اشاروں .... کنائیوں میں .... ایک آدھ دفعہ کھل کر بھی .... میں نے کورا جواب دے دیا .... میرے پاس اک مرد ہے ناں .... پہاڑ جیسے جوانی کٹ گئی .... بظاہر یہ فقرہ دو سیکنڈ میں ختم ہو جاتا ہے ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے .... لیکن ایک ایک لمحہ گن گن کر جب لمحے .... ساعتیں گزارنی پڑ جائیں تو کئی بار دل دھڑکنا چھوڑ دیتا ہے پھر ترس کھا کے رحم کر کے .... دل دھڑکنے لگتا ہے .... باپ کی پنشن .... گلیوں میں سائیکل پر اخبار فروخت کر کے چند روپے کما لینا اور ساری ساری رات پڑھنا پیسے کی کمی .... نے کبھی نصرت کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی .... اس نے باپ کی ٹوپی سنبھالی اورعہدکر کے .... نبھانے کی کوشش میں مگن رہا .... باپ نے جہاں سے ملک و قوم کی خدمت کا کام چھوڑا تھا اسے وہ کام وہیں سے شروع کرنا تھا .... اس سبز ہلالی پرچم کو باپ سے پکڑ کر چل پڑنا تھا .... دن آ گیا .... سترہ سالہ بیوہ چونتیس سال کی ہو گئی .... اور وہ سترہ سال کا ہو گیا .... جوڈو کراٹے والے استاد نے کئی بار اسے واپس بھیج دیا .... نہیں ابھی چھوٹا ہے آخر وہ ضدی تھا .... بہادر ضدی ہوتے ہیں .... وہ کلاس میں پہنچ گیا .... اس کی ہمت، ضد کارکردگی دیکھ کر خالق طائی (استاد) نے اسے اگلے گروپ میں بھیج دیا .... استاد کی خدمت .... پھر مقابلے شروع ہوئے .... سب رہ جاتے .... استاد کہتا .... اسے لاو¿ .... اسے .... غصے میں استاد اکثر اس کا نام بھول جاتا .... اسے لاو¿ .... اس کو .... ”بندر“ کو سب ہنس دیتے وہ بہادری کے جوہر دکھاتا اور میدان کا فاتح کہلاتا .... سرخرو ہو جاتا .... ماں .... آج اپنے کینسر جیسے موذی مرض سے محض اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے نبرد آزماءتھی .... مرض آخری اسٹیج پر تھا .... اور ادھر اسے ایک سپاہی کو .... بہادری کے جوہر بھی تو دکھانا تھے .... ماں کی دی ہوئی نصیحت .... بیٹا باپ کی طرح میدان میں جاو¿ دشمن سے پاک وطن کی خاطر اپنے مذہب اسلام کی خاطر لڑتے ہوئے شہادت کا درجہ پاو¿ .... اور میں جس نے زندگی اکیلے گزاری .... اس آس میں کہ قوم نے مجھے میرا آئیڈیل خوبصورت جوان دیا .... جو وطن پر شہید ہوا میں قوم کو اس کے بدلے میں اک خوبصورت سپاہی پیش کر کے دم لوں گی .... وہ ہنس کے بیٹے کو کہتی .... ”بیٹا سینے پر گولی کھانا“ .... وہ سینہ پھلا کے ماں کے پاس آتا اس کے ہاتھ چوم لیتا .... وہ کہتا ماں دعا کیا کر .... میرے دوست کہتے ہیں اپنی ماں سے کہو .... ہمارے لئے دعا کیا کرے .... اس عورت کی دعا قبول ہوتی ہے جس نے ایسی شفاف زندگی .... کسی نیک مقصد اور عظیم مشن کی خاطر گزاری ہو .... جس پر کسی میں انگلی اٹھانے کی ہمت نہ ہو .... تاریخ پھر سے دہرائی گئی .... ماں نے دروازے کی طرف دیکھا .... آ گیا .... نصرت .... چپ راست .... چپ راست خاموشی ٹوٹ گئی .... مخصوص دلکش آ واز جو صبح جب جوان ”ڈرل“ کرتے ہیں تو گراو¿نڈ میں گونجتی ہے .... ایک لاش صندوق (تابوت) میں بند نصرت جہانگیر کی لاش لئے ایک دستہ .... آ پہنچا .... آفیسر نے آ کر ماں کو سیلوٹ کیا .... خود کش حملہ آور نے جیپ پر حملہ کیا .... اور ہمارا یہ عظیم آفیسر اس حملہ میں .... شہید ہو گیا .... خود کش .... حملہ .... شہید .... ؟! بیوہ کے منہ سے تین لفظ نکلے .... اور اس کی آنکھیں پتھر سی ہو گئیں .... شاید .... اس کا سینے پر گولی لگنے اور دشمن سے جنگ کرتے ہوئے شہادت کے درجے تک پہنچنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا .... لیکن شہادت تو مل گئی .... ایک خوفناک خود کش حملے کے نتیجے میں .... ؟!؟