لارڈ بیڈن پاو¿ل کی سکاو¿ٹ تحریک

22 فروری 2017

سکاو¿ٹ تحریک کے بانی کا پورا نام رابرٹ اسٹیفن سمتھ لارڈ بیڈن پاو¿ل تھا۔ان کے والد ایچ جی بیڈن پاو¿ل تھے۔ جوکہ آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں پروفیسر تھے۔ ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک لارڈ بیڈن پاو¿ل تھے۔ جوکہ 22فروری 1857کو لندن میں پیدا ہوئے۔ تین سال کی عمر میں والد کاانتقال ہوگیا۔ ان کی والدہ نے ان کی پرورش کی۔ بیڈن پاو¿ل نے ابتدائی تعلیم روزہل سکول ٹن برج لند ن سے حاصل کی۔ 1870میں چارٹر ہاو¿س سکول لندن میں داخل ہوگئے۔ دوران تعلیم انہوں نے مطالعہ قدرت، ڈرائنگ ماڈل سازی، فوٹو گرافی میں مہارت حاصل کی۔ 1876کو تعلیم مکمل کرکے آرمی میں بھرتی ہوئے اور لیفٹینٹ جنرل کے عہدے تک ترقی کی۔ انہوں نے فوجی سروس کا زیادہ عرصہ افریقہ بھارت اور افغانستان میں گزارا۔ 1887میں افریقہ کے زولوقبیلہ سے جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ میٹابلی اور شنانتی قبائل کی سرکوبی کی 1899میں جنوبی افریقہ کے قلعہ سیف کنگ کا 217دن کا محاصرہ کئے رکھا۔ جوکہ جنوبی افریقہ کے عین وسط میں ہے۔ اس دوران مقامی لڑکوںسے جاسوسی کا کام لئے رکھا اور قلعہ کو فتح کرلیا۔ اس دوران یہ مشہور تھا کہ جس کے پاس سیف کنگ کاقبضہ ہوگا۔ وہی جنوبی افریقہ کا سربراہ ہوگا۔ قبائل کے ساتھ اچھے برتاو¿ کی وجہ سے زولو قبیلہ کے سردار ڈینی نے اسے ایمبا کا خطاب دیا جس کے معانی کبھی آنکھ نہ جھپکانے والا بھیڑیا کے ہیں۔ 1901میں بیڈن پاو¿ل جنوبی افریقہ سے واپس انگلستان آگیا۔ یہاں پر بوائز بریگیڈ کے بانی سرولیم سمتھ نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ ایسی تنظیم تیار کریں جس میں لڑکوں کو اعلیٰ شہری بنانے کی تربیت دی جاسکے۔ تو انہوں نے 1904میں لڑکوں کی پہلی تنظیم تیار کی اور انگریزی کتاب لکھی جس کا نام ایڈز ٹو سکاو¿ٹنگ رکھا۔ 1907میں جزیرہ براو¿ن سی لندن میں آ پ نے بیس لڑکوں کی مدد سے پہلا تربیتی کیمپ لگایا اور اسے سکاو¿ٹنگ کا نام دیا۔ اس کا پہلا دفتر 1908میں لندن میں قائم کیا۔ابتداءمیں سکاو¿ٹنگ کے بنیادی اصول یہ مرتب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ اور مذہب کے فرائض کی ادائیگی اپنے ملک سے وفاداری، دوسروں کی خدمت، سکاو¿ٹ وعدہ اور قانون کو تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا، رضاکارانہ رکنیت حاصل کرنا، تمام سیاسی اثرات سے آزاد اور مثالی طریقہ تربیت لارڈ بیڈن پاول نے 1909کو بحری سکاو¿ٹنگ کاآغاز کیا۔ 1910 میں گرلز گائیڈ تحریک شروع کی۔ 1918کو 18تا 30سال کے لڑکوں کو ایک تحریک میں شامل کیا اور اسے روورنگ کا نام دیا۔ اسی سال لندن سے سکاو¿ٹنگ کا پہلا ہفت روزہ رسالہ( دی سکاو¿ٹ) شائع کیا۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت انڈین سکاو¿ٹس کا 154سکاو¿ٹس کا ایک دستہ فرانس کے شہر موائزن گیا ہوا تھا۔ اس دستہ میں پنجاب کے مسلم سکاو¿ٹس کی تعداد زیادہ تھی۔ جن کی قیادت مسٹر قریشی اقبال اور ملتان کے سید عنایت علی گردیزی، سید خورشید عباس گردیزی اور ڈاکٹر کلیم ارشد کررہے تھے۔ سکاو¿ٹس کا پیغام محبت امن اور خدمت ہے۔ اب اس پیغام کو عام کرنے وطن کے شہریوں میں برداشت خود اعتمادی دوستی اور رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ سکاو¿ٹنگ کے نصب العین میں وہ سنہری اصول ہیں جو تعلیمات اسلامی کا حصہ ہیں اب پاکستان کے ہر صوبے اور ہر ریجن میں سکاو¿ٹ تربیتی سنٹر قائم ہیں تاکہ سکاو¿ٹس کی صحیح تربیت ہوسکے اور یہ سکاو¿ٹس اندرون ملک ہنگامی حالات میں زلزلہ، سیلاب، آتشزدگی، یوم عاشور اور حج جیسے مواقعوں پر سروس کیمپ لگاتے ہیں تاکہ متاثرین کی بروقت امداد کرسکیں۔