بلاول بھٹو زرداری ....سیاست کے آداب سے نا آشنا

22 فروری 2017

پیپلز پارٹی کبھی قومی سطح کی سیاسی پارٹی ہوا کرتی تھی۔ بینظیر کی شہادت تک یہ واقعی ہی چاروں صوبوں کی زنجیر تھی ۔ بینظیر کی شہادت کے بعد اس کا نام سیاسی پارٹیوں میں ضرور شامل رہا ہے۔ لیکن بینظیر کی شہادت کے بدلے الیکشن میں دیگر سیاسی پارٹیوں کی نسبت پیپلز پارٹی کو بہتر جیت ملی تھی۔ اقتدار کا ہما پیپلز پارٹی کے مقدر پر آ بیٹھا ۔پانچ سالہ اقتدار میں اس بہتر جیت کو مزید بہتر بنانے کے بجائے اس پارٹی کے چھوٹے بڑوں نے خود کو ہی بہتر سے بہترین بنانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013 ءکے الیکشن میں اس سیاسی پارٹی کے ساتھ عوام نے وہی کچھ کیا جو کچھ اس سیاسی پارٹی کے بڑوں نے عوام کے ساتھ کیا تھا ۔ پورے ملک کی آواز بننے والی یہ سیاسی پارٹی سندھ کے دہی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ قو می سطح کی سیاسی پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے اور کھوئی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بلاول کو میدان میں اتارا گیا ۔ بلاول جو بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہے ۔عوام کو امید تھی کہ جمہوری ممالک کا تعلیم یافتہ نو جوان جمہوریت کے راستوں سے اگاہ ، نہ صرف پیپلز پارٹی کو دوبارہ عوام میں مقبول بنانے میں کامیاب ہو گا بلکہ جمہوری اقدار کو فروغ دے کر ملک کو حقیقی جمہوریت کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ بلاول عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اور عوام سے وعدہ کرتا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں عوام کے ساتھ جو جو انصافیاں ہوئی ہیں۔ ان کا نہ صرف خاتمہ کیا جائے گا۔ بلکہ اقتدار برائے عوام ہو گا۔ عوام کو یہ بھی امید دلائی جاتی کہ پیپلز پارٹی کے بیانوں کی حد تک خود ساختہ رہنماﺅں کو فارغ کر کے عوام کی مرضی سے پارٹی عہدوں کی تقسیم کی جائے گی۔ یوں کوئی وجہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کھویا ہوا اپنا مقام دوبارہ حاصل نہ کر پاتی۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ بلاول کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ بیشک اس نے جمہوری نظام سے مالا مال ملک سے تعلیم حاصل کی ہے۔ جمہوریت کا قریب سے مطالعہ کیا ہے ۔ لیکن پاکستان آ کر بلاول بھی پاکستانی بن گیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ نمک کی کان میں جو جاتا ہے وہ بھی نمک بن جاتا ہے ۔ بلاول نے دو چار دن بڑی گن گرج سے ہوا میں للکارے مارے ہیں ۔ بلاول کا خیال تھا کہ سلطان راہی بن کر وہ پیپلز پارٹی کی ڈولتی کشتی کو ڈوبنے سے بچا کر کنارے پر لے آئے گا ۔ لیکن بڑھکوں سے کنارے نہیں ملا کرتے ۔ عوام کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ سیاست کے ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔ جمہوری ممالک کا تعلیم یافتہ ہونے سے جمہوری اوصاف خودبخود پیدا نہیں ہو جاتے ۔ تعلیم کے ساتھ جمہوری آداب بھی سیکھنے پڑتے ہیں۔ سیاست کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اور ان اصولوں کی کچھ حدود بھی ہو تی ہیں۔ حدود کی دوسری طرف جانا سیاسی آداب کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ لیکن بلاول کے دل میں شاید یہ بات موجو د ہے کہ اس کے باپ نے ان گنت دولت اگھٹی کر رکھی ہے اوردولت کے آنے کا سلسلہ ٹوٹا نہیں بلکہ جاری وی ساری ہے ۔ لہذا وہ جو کچھ چاہے کسی کے خلاف کہے ،اور کسی کے خلاف کسی طرح کا بے بنیاد الزام لگائے اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔ لیکن بلاول کو شاید یہ علم نہ ہو کہ " دوسرے بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں" لہذا بلاول دوسروں کے متعلق ایسی باتیں نہ کریں جیسی وہ خود سننا پسند نہ کریں۔ مثلاً پاکستان کے بہترین سیاستدانوں میں سے ایک بہترین سیاست دان وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے لیے یہ کہنا " چوہدری نثار انسان بنیں" یہ انتہائی قا بل اعتراض جملہ ہے ۔ اور یہ گالی کے مترادف ہے ۔ اگر یہی جملہ چوہدری نثار علی خان خود بلاول یا بلاول کے ابا جان کے لیے کہیں تو کیا وہ اچھا محسوس کریں گے اور خوش ہونگے ۔ بلاول حکمرانی کے لحاظ سے دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود برسوں سے سندھ پر مسلط اپنی پارٹی کی حکمرانی پر نظر دوڑائیں ۔ دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ڈاکٹر عاصم اور اس جیسے دوسرے جنھوں نے قوم کا مال کھا یا اور کھلایا ہے ان کے لیے دوسروں پر کیچڑ نہ اچھالیں ۔ عوام کی خدمت سیاست کی بنیاد ہوتی ہے ۔ چند دن قبل لال شہباز قلندر کے در بار پر خود کش حملہ کی بدولت نوے افراد تو صرف شہید ہوئے ہیں۔ وہ در بار جہاں عوام کی طرف سے لاکھوں روپے ماہانہ نذرانہ دیا جا تا ہے۔ لیکن دربار کے قر یب ڈھنگ کی ایک ڈسپنسری نذرانوںسے نہ بنائی جا سکی۔ تاکہ بوقت ضرورت کام آتی ۔ اس سے پہلے سندھ کے کئی در باروں پر دہشت گردی ہو چکی ہے۔ سند ھ حکومت کو فرصت ہی نہیں کہ وہ در باروں کی آمدنی سے یہاں پر آنے والے زائرین کو اس طرح کے حالات سے بچا سکے۔ باقی سندھ میں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو لوٹ مچی ہوئی ہے اس کے متعلق کچھ عدالتیں پوچھ رہی ہیں اور کچھ عوام کی زبان کہہ رہی ہے۔