دہشت گردی کی تازہ لہر اور بدلتی ہوئی ملکی صورتحال

22 فروری 2017

کہنے کو تو اداروں کا نظام اتنا مربوط اور منظم ہوتا ہے کہ افراد کے بدلنے سے اس کی ساخت اور ماہیت میں کوئی خاص تغیر محسوس نہیں ہوتا لیکن اداروں کے اہم افراد کی تبدیلی سے ادارے کے عمومی تاثر میں تبدیلی ضرور آتی ہے ۔جنرل راحیل شریف کے جانے اور جنرل باجوہ کے آنے سے سے فوج کے کام اور حکومت سے روابط میں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑا لیکن ارادی یا غیر ارادی طور پرچند حلقوں میں یہ تاثر ضرور ابھار گیاا کہ حکومت پر فوج کا پریشر کسی حد تک کم ہوگیا ہے۔حکومت پر عسکری قیادت کے اثر انداز ہونے کا سوال اپنی جگہ لیکن ایک بات طے ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے حالات پہلے کے مقابلے میں قدرے بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے سی پیک کا منصوبہ تیزی سے جاری تھا عالمی کرکٹ ایک بار پھر پاکستان میں لوٹ آنے کی امید بندھ چلی تھی اوریوں لگتا تھا کہ پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہونے کو ہے ۔
یوں تو دہشت گردی کے چھوٹے موٹے واقعات جنوری 2017 میں بھی پیش آتے رہے لیکن ان کا عروج فروری کے دوسرے عشرے میں آیا جب 12فروری کو ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے نمائندے کو کراچی میں نشانہ بنایا گیا اسی دن باجوڑ میں بم دھماکہ ہوا جس سے پانچ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے اور پھر اسی شام شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک دھماکے میں تین سیکورٹی اہلکار اپنی جان کی بازی ہار گئے 13 فروری کو لاہور میں خودکش حملہ کیا گیا جس سے 14افراد شہید اور 87 افراد زخمی ہوئے اسی دن کوئٹہ میں ہونے والے حملے میںدو افراد جان کی بازی ہار گئے 15فروری کو پشاور میں ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے اور پھر 16فروری کو سہون شریف میں ایک خود کش حملہ ہوا جس میں 88 افراد ہلاک ہوئے اور 350 افراد سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ ان حملوں نے جہاں دہشت گردوں نے اپنی موجودگی کا ثبوت دیا وہیں خوف کی ایک فضا نے بھی جنم لیا اور شاید یہ احساس بھی دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل جنگ ہے جو ابھی ختم نہیں ہوئی۔حکومتی اداروں کوشائد اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی پالیسی ایک بار پھر وضع کرنی ہو گی اور شائد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد کا بھی نئے سرے سے جائزہ لینا ہو گا۔
پہلے پہلے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے صرف کشمیر کا مسئلہ اور بھارت کا ہاتھ ہی تلاش کیا جاتا لیکن پھر ہماری کمزوریوں یا دشمن کی چالبازیوں سے ہمارے دشمن بڑھتے چلے گئے ۔ نائن الیون کے بعد شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کے باوجود ہم نے ہزاروں جانیں قربان کردیں لیکن دہشت گردی کا عذاب ایسا ہے کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔کہنے کو تو پاکستان 1979 میں افغان جنگ میں کودنے کے بعد سے کسی نہ کسی طرح دہشت گردی کا شکار رہا ہے لیکن یہ دہشت گردی اس پیمانے کی نہیں تھی جس نوعیت کی دہشت گردی نائن الیون کے بعد دیکھنے میں آئی 2003 سے پہلے پاکستان میں اوسطا 164 افراد سالانہ دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے ۔یہ تعداد 2001 کے بعد بڑھتی چلی گئی ۔ 2009 میں یہ اوسط 3318 افراد سالانہ تک پہنچ گئی ۔ دہشت گردی نے جہاں زندگی کو متاثر کیا وہیں معاشی اور معاشی فضا بھی تباہ ہوئی کہتے ہیں کہ پاکستان کو براہ راست یا بالواسطہ 2001 سے 2010 تک 68 بلین ڈالر خرچ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے پڑے ۔
تار یخی لحاظ سے دیکھا جایے تو دشمن اس دور میں طاقتور ہوتا چلا گیا اور ہماری منصوبہ بندی نسبتا ناقص رہی تا وقتیکہ 8 جون 2014کو جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی پر حملے کے نتیجے میں 15جون 2014 کو شمالی وزیرستان ضرب عزب شروع کیا گیا ۔اسی سال 16 دسمبر 2014سات دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور حملہ کیا گو اس حملے میں145 افراد شہید ہوئے جن میں سے 132سکول کے ننھے شہید تھے لیکن اس بزدلانہ کاروائی نے ساری قوم کو متحد کردیا حکومت اور عسکری قیادت نے مل کر نیشنل ایکشن پلان بنایا جس کے نتیجے میں آئین کی اکیسویں ترمیم کو 7جنوری 2015 کو پاس کی گئی جس کا مقصد بنیادی طور پر اس دہشت گردی کے اسباب اور بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کاروائیوں کو روکنا تھا ۔گو یہ سارا منصوبہ بڑے طمطراق سے لانچ کیا گیا اور آغاز میں اس منصوبے بہت سی توقعات بھی وابستہ کی گئیں لیکن موجودہ دہشت گردی کی لہر نے اس سارے امیج کو گہنا دیا ہے۔
یاد رہے بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کو کچلنے کے لئیے ٹاڈا کا قانون بنایا گیاتھا نائن الیون کے بعد امریکہ میں اسی نوعیت کی قانون سازی کی گئی لیکن یہ سارے پلان بڑے واضح اور اور ٹائم فریم کے ساتھ تھے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوا اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک ڈھیلا ڈھالا منصوبہ نظر آتا ہے ۔ ٹاڈا ایکٹ کے بعد انسانی حقوق کی تنظیمیں چیختی رہیں بھارتی سپریم کورٹ کو اس قانون کی کچھ شقوں کے حوالے سے ریمارکس دینے پڑے اندر ا گاندھی اپنی جان سے گئیں لیکن اس قانون کے نتیجے میں بھارت سرکار نے خاطر خواہ نتائج حاصل کئیے اور بظاہر کامیاب تحریک جس کی جڑیں عوامی سطح تک موجود تھیں ختم ہوگئی۔ ہمارے ہاں تو دہشت گردوں کی عوامی سطح پر کوئی پذ یرائی بھی نہیں اور اس جنگ میں عوام فوج اور تمام سیاسی جماعتیں اکھٹی ہیں ۔ہمیں اپنے عظیم مستقبل کے لئیے بڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور جارحانہ انداذ میں آگے بڑھنا ہو گا۔موجودہ دہشت گردی کے بعد عسکری قیادت جسطرح ابھر کر سامنے آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ فوجی قیادت کی تبدیلی سے فوج کی حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہی حوصلے ماند پڑے ہیں ایک مشن ہے جسے ہماری سیاسی اور عسکری قیادت احسن طریقے سے انجام دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ انہیں کامیاب کرے اسی میں ہماری فلاح ہے ۔