ہائی الرٹ اور ایمرجنسی صورتحال

22 فروری 2017

بڑی معنی خیز مثال ہے جو ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ شیر آیا شیرآیا ، نقلی شیر آتا ہے اور جنگل کے اصلی باسیوں کو کھا جاتا ہے اور ہر روز ایسے ہی ہوتا ہے ۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وزیر داخلہ اور نیکٹا کی طر ف سے ”ہائی الرٹ “ گزشتہ ایک ماہ سے سننے کو مل رہا ہے لیکن عمل ندارد ۔الرٹ جاری کرنے کا مقصد کسی بھی مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاری کرنا(جس میں ہسپتال، عملہ، ڈاکٹرز، دوائیاں، ایمبولینسز، ہیلی کاپٹر اور طبی ضروری طبی آلات شامل ہیں) ، اور ماضی کی کسی بھی طرح کی کوتاہی، غفلت اور لاپرواہی سے سبق سیکھنا ہے ۔ ملک میں اعلی عدلیہ ، سول اور قانون نافذکرنے والے اداروں اور میڈیا کے ہوتے ہوئے بھی ایسے واقعات کا رونما ہوجانا بے جان اور بے حس قوموں کی علامت ہے۔ایسے نازک حالات میں تباہی و بربادی کو گلے لگا کر اسکی روک تھا م اور بیخ کنی کرنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ،ملک و قوم کے خزانوں کو لوٹ کھسوٹ کر باہر کے اکاﺅنٹس کو بھرنا اور خانہ پری کے لیے تسلی و تشفی اور انتقام لینے اور کیفر کردار تک پہنچانے کے ببانگ دہل جھوٹے وعدے کرنا شاید ہمارے صاحبان اقتدار کا وطیر ہ ہی نہیں بلکہ شیوہ بن چکا ہے ۔ پچھلے چھے دنوں میں آٹھ اندوہنا ک واقعات کا ہونا ہماری انتظامیہ و مقننہ کی قلعی کھول دیتا ہے۔ جعلی مافیا اور دھونس حکمرانی کی زنجیروں میں قید پولیس و رینجرز اور دوسرے ادارے جہاں قابل گرفت ہیں وہاں حق و سچ کے لیے انصاف نہ ہونے کا گلہ بھی کرتے ہیں۔ آہ!چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی صرف کمیشن ،انعامات ، اعلانات ، رپورٹ اور جے آئی ٹی تک محدود ہیں۔
پاکستان ایک بار پھر دھماکوں، سسکیوں اور آہوں سے گونج اٹھا ہے۔ صوبہ پنجاب میں سانحہ چیئرنگ کراس، کے پی کے میں ججز پر حملہ، بلوچستان میں لیویز پر حملہ، سندھ میں سیہون شریف لعل شہباز قلندر کے مزار پر خود کش دھماکہ اور نہ جانے(خدانہ کرنے) کتنے مزید خود کش دھماکے ہمارے مقدر میں ہیں ۔جنرل مشرف کے سیاہ دورسے لیکر اب تک عام شہری، پولیس ، رینجرز اور فوج کے تقریباََ 62,000 نہتے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اگر ہم 9/11 کے بعد کی صورتحال دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم نے امریکہ کی چال کو اپنے کمزور اعصاب پر نہ صرف سوار کر لیا ہے بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے خود پر لازم قرار دیا ہے ۔ 9/11 سے پہلے اور بعد کو ماہرین نے ورلڈ آڈر اور ٹرمپ کارڈ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض ناقدین اور حالات کی نبض پر گہری نظر رکھنے والوں نے اسے امریکی اسٹیبلشمنٹ کی آئیندہ” نصف صدی پلان“ کا شاخسانہ بھی قرار دیا ہے۔غور طلب پہلو یہ ہے کہ اب طہ کرنا ہے کہ ہمیں آزاد خود مختار مملکت پاکستان بن کر اگلا لائحہ عمل مرتب کرنا ہے یا پھر ٹرمپ کے چکر میں اپنے قومی بیانیوں کو تبدیل کر کر کے دشمنوں کی ریشہ دوانیو ںکا شکار رہنا ہے ۔ عقاب کی طرح گردن اٹھا کر اپنے ملک وقوم کے تابناک مسقبل کے لیے کام کرنا ہی ہماری منزل مقصود ہے ۔ ہمیں”آپریشن پنجاب میں کرنا ہے یا نہیں!نیکٹا، ایف آئی اے اور ایجنسیاں کیوں بے بس ہیں!،فورتھ شیڈول میں کسے ڈالنا ہے وغیرہ،اس سے قطع نظر بس اب اپنے سسٹم کی کمزوری کو دور کر کے چھوٹے اور بڑے سب کو ایک ہی انصاف کے کٹہرے میں کھڑ ا کرنا ہے، پھر وہ دن دور نہیں ہو گا کہ جب ہمارا ملک پاکستان روشنی، امن اور عظمت کا مینا رہ ثابت ہوگا ۔
ہائی الرٹ اور ایمرجنسی کال لازم و ملزوم ہیں۔دنیا بھر میں کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے ایک ”سنٹرل قومی ایمرجنسی نمبر“ ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی ایمرجنسی کال پر نہ صرف ریسپانس ملتا ہے بلکہ فوری ایکشن کے ذریعے مصیبت زدہ افراد کی دادرسی بھی ممکن بنائی جاتی ہے۔ یوکے ، یو ایس ، برطانیہ، چین،روس، یورپ اورسعودیہ وغیر ہ میں ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر 112 استعمال ہوتی ہے۔ہانگ کانگ، نارتھ امریکہ،کینیڈا، میکسیکو میں 911 ، سکاٹ لینڈ، ملائشیا، قطر، عمان وغیر ہ میں999، آسٹریلیا میں000، بھارت میں108 ، ایران میں110 اور نیوزی لینڈ میں 111استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہیلپ لائنز112 ،999، 119 اور911 استعمال ہوتی ہیں ۔جبکہ وطن عزیز میں ایمرجنسی کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں جنرل ایمرجنسی ہیلپ لائنز ہیںجن سے کچھ خاص حاصل حصول نہیں ۔ ایمبولینس کے لیے115، فائربریگیڈ16،پولیس15،آرمی1125،رینجرز1101، پی آئی فلائٹ114،ریلوے انکوائری117 ،نیکٹا1717 ، وزارت انسانی حقوق کی ہیلپ لائن ، پیٹرولنگ پولیس کی 1099اور اسکے علاوہ بھی بے شمار ہیلپ لائینز ہیں جس میں انجمن ہلال احمر، بم ڈسپوزل،ایدھی ٹرسٹ، الخدمت فاﺅنڈیشن ،چھیپا ٹرسٹ، سوئی گیس ،سول ڈیفنس، ایف آئی اے، اور دوسرے سرکاری ، غیر سرکاری و نیم غیر سرکاری اداروں کی شکل میں موجود ہیں ۔

پولیس جس کا سب سے زیادہ تعلق ایمرجنسی سے ہوتا ہے اسکے ہر ڈیپارٹمنٹ میں بھی بیسیوں ہیلپ لائنز ہیں۔
اس لیے خدارا !ملک و قوم کی بھرپور حفاظت کے لیے ایک عام فہم مرکزی ایمرجنسی لائین نمبربنائیں جو ہر کسی کو یاد ہو اور جس کی مانیٹرنگ اور چیک اینڈ بیلنس کا کوئی معقول بندوبست بھی ہو۔ جب دنیا کی سپر پاورز ایک ایمرجنسی نمبرکو ہر قسم کی ہنگامی صورتحال کے لیے استعمال کرسکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں!!