انصاف کے لیے کہاں جائیں؟

22 فروری 2017

مکرمی :صوابی یونیورسٹی انتظامیہ نے تیرہ لیکچرارز کو گزشتہ دنوں یہ کہہ کر سروس سے معطل کردیا کہPC-I میں 32لیکچرارز سے زائد لیکچرارز کی گنجائش نہیں ہے جبکہ ان 13 لیکچرارز کوEATA کے ذریعے تعینات کیا گیا ان معطل شدہ لیکچرارز میں سے آٹھ پی ایچ ڈی سکالرز اور پانچ ایم فل سکالرز پاکستان کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ مزید براں ان 13لیکچرارز میں اکثریت نے اس جاب کی خاطر اپنی سترہ گریڈ کی پکی نوکری چھوڑ چکی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ ایک طرف میرٹ پر اترنے والے کوالیفائڈ لیکچرارز کو ہٹا رہی ہے تو دوسری طرف یونیورسٹی انتظامیہ مسلسل اپنی ویب سائٹ پر وزٹنگ لیکچرارز کیلئے اشتہارات دے رہی ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ کہ یونیورسٹی کو لیکچرارز کی اشد ضرورت ہے۔ ان معطل شدہ لیکچرارز نے انصاف کے حصول کیلئے ہر در کٹکٹایا۔ ہر صاحب اختیارشخص یعنی گورنر کے پی کے (چانسلر) چیف منسٹر کے پی کے سپیکر صوبائی اسمبلی اور سیکریٹری ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ تک اپنی آواز پہنچائی لیکن کسی طرف سے بھی مثبت جواب نہ پاکر بالآخر عدالت کا دروازہ کٹکٹایا۔ جس پر عدالت نے ان معطل شدہ لیکچرارز کو ڈیوٹی جاری رکھنے کاآرڈرجاری کیا مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے عدالتی حکم عدولی کرکے حکم دیا کہ ان لیکچرارز کے نام بائیومیٹرک سسٹم سے بھی نکال دیا جائے۔ اور جو لیکچرارز ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں انہیں ہاسٹل سے بے دخل کیا جائے۔کیا ان کا قصور یہی ہے کہ انہوںنے سیاسی سفارش اور رشوت تمام امتحاناتی مراحل سے گذر کر اور شفاف میرٹ کے ذریعے روزگار حاصل کیا۔ اب یہ لوگ انصاف کے لیے کس کا در کھٹکھٹائیں۔کوئی ان کی داد رسی کرنے والا ہے؟
(سرداریوسف زائی۔اسلام آباد)