چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ توجہ فرمائیں

22 فروری 2017

مکرمی :آپ کی توجہ محکمہ مال تحصیل گوجر خان کے چند اہلکاروں کی جانب سے دھوکہ دہی کی جانب مبذول کروانا چاہتی ہے۔ میں کمسنی میں ہی اپنے والدین کے سایہ شفقت سے محروم ہو چکی تھی اپنے والدین کی اکلوتی وارث کو والدین کی جانب سے چھوڑی گئی قیمتی اراضی کے ریکارڈمیں درستگی کے لیے موضع صابہ شیر خان تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی کاریکارڈاراضی بشمول شجرہءنسب بندوبست1956/57درکار ہے جس کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ سالوں سے تحصیل آفس سے کمشنر صاحب راولپنڈی کودرخواستیں دیںجس پر غلط بیانی پر مبنی جوابات دیے گئے ۔محکمہ مال تحصیل کے اس متضاد بیانی پر مبنی رویہ سے تنگ آکرمیں نے ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں رٹ پیٹیشن دائر کی جس پر جسٹس مسٹر محمد فرخ عرفان صاحب نے 7-10-2015 کی آڈر شیٹ میں اسٹنٹ کمیشنر گوجر خان کے اس بیان کو مسترد کر دیا کہ ان کے لیے یہ تعین کرنامشکل ہے کہ ریکارڈکب اور کیسے گم ہوا۔جبکہ معزز عدالت نے ریکارڈکی دستیابی کا ذمہ دار ریونیو حکام کو قرار دیا۔31-5-2016کو مسٹر جسٹس عباد الرحمن لودھی صاحب کی عدالت میں محکمہ مال کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شاہد محمود عباسی نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ اگلے ہفتے متعلقہ ریکارڈ فراہم کر کے تحفظات دور کر دیے جائیں گے ۔ تاہم 10-6-2016کو دوبار ہ محکمہ مال کے کونسل کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی کے لیے وقت مانگا گیا جسے معزز عدالت نے منظور فرمایا۔21-9-2016کو جلد سماعت کی درخواست بذریعہ کونسل گزاری گئی اسی روز جناب مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی کی عدالت میں اسٹنٹ کمشنر گوجر خان ہمراہ حلقہ پٹواری حاضر ہوئے اور تحریری جواب کے ساتھ مصدقہ نقل شجرہءنسب 1956/57 معزز عدالت میں جمع کروا دینے کا غلط بیان دیا جسے بغیر دیکھے رٹ پیٹیشن کو ڈسپو ز آف کر دیا گیا ۔حصول انصاف کیلئے دوبارہ رٹ پیٹیشن بذریعہ ابرار احمد بیگ ایڈوکیٹ دائر کرنا پڑی کی جس پر مسٹر جسٹس امیر بھٹی صاحب نے اسٹنٹ کمشنر گوجر خان کو مذکورہ رٹ پیٹیشن کی کاپی اوردیگر دستاویزات حوالے کرتے ہوئے میرے بیٹے کوہدایت فرمائی کہ وہ 2-12-2016کو دن دس بجے اسٹنٹ کمشنر گوجرخان کے پاس حاضر ہوں۔ بیٹا مقر روقت پرپہنچا تاہم اسٹنٹ کمشنر کی جانب سے کسی قسم کی کوئی داد رسی نہ کی گئی بلکہ الٹا محکمہ مال کے بعض اہلکاروںکا رویہ انتہائی ہتک آمیز رہااور بیٹے کوچاردن بعد حاضر ہونے کا فرمان جاری کیا گیا ۔6-12-2016کو اسٹنٹ کمشنر کے پاس حاضری دی گئی۔ اسٹنٹ کمشنر صاحب نے یہ فرمان جاری کیا کہ وہ معزز عدالت کو جواب دے دیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ محکمہ مال کے ارباب ہر صورت مجھے نقول اراضی سے محروم رکھنے کا ارادہ کیے ہوئے ہے ۔آپ سے دست بستہ اپیل ہے کہ ایسی نا انصافی اور سنگین قانون شکنی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افراد کا محاسبہ کیا جائے اور قرار واقعی سزا کے دیے جانے کے ساتھ حکم صادر فرمایا جائے کہ مجھے متعلقہ ریکارڈاراضی،انتقالات اور شجرات کی مصدقہ نقول بمطابق استدعاء مہیا کریں ۔
(نساءفاطمہ عرف خالدہ عزیز اختردختر صفدر شاہ چھبر سیداں تحصیل سوہاوہ0333-5139715)

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...