برمنگھم -اردو کی اہم نئی بستی

22 فروری 2017

لندن کے بعد برمنگھم برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ ممکن ہے مانچسٹر ‘ بلیک پول یا دیگر بڑے شہروں کے رہنے والے اس بات سے متفق نہ ہوں مگر کم از کم برمنگھم کے مکین تو ا سی بات پر یقین رکھتے ہیں۔
برمنگھم کے برطانیہ کا دوسرا بڑ شہر کہلانے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں برمنگھم کی آباد ی‘ جغرافیائی پوزیشن اور رقبہ‘ اس کے ارد گرد موٹر ویز کا جال ‘ معیشت اور تجارت کا ایک بڑا مرکز ہونا ‘ اس کے مضافات میں مختلف اقسام کی خصوصاً بہت بڑی موٹر کار انڈسٹری‘ درآمدات و برآمدات‘ بلند بالا قدیم و جدید طرز کی عمارات‘ خوبصورت و پرکشش باغات‘ قدیم برطانوی معاشرت کی تاریخ یاد گاریں‘ ماضی میں آمدورفت خصوصاً مال برداری کے لئے استعمال ہونے والا عظیم الشان نہری نظام اور جدید دور کا شاندار طرز تعمیر‘ بڑے بڑے عظیم نمائشی اور کنونشن ہال اور اسی طرح کی کئی اور وجوہات شامل ہیں۔
مذکورہ بالا وجوہات کے علاوہ ایک اور بہت اہم بات جو برمنگھم کو ایک بڑے شہر کا درجہ دیتی ہے وہ اس شہر کا ایک بہت بڑا اکثر التمدنی اور کثیر ا للسانی معاشرہ ہے۔ ذرا قریب ہو کر دیکھیں توبرمنگھم ہمارے لئے اس وجہ سے بھی بڑا شہر ہے کہ برطانیہ کی پاکستانی آبادی کا ایک بڑا حصہ برمنگھم ہی میں آباد ہے۔
2001 کے سینسس کے مطابق برطانیہ بھر میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ کے قریب پاکستان آباد ہیں ( یہ تعداد اب تقریباً ایک ملین کے قریب ہے ) جن میںسے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ برمنگھم ہی میں رہائش پذیر ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستانی برمنگھم کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہیں‘ جبکہ پاکستانی برطانیہ بھر کی کل آبادی کا تقریباً ایک اعشاریہ تین فیصد ہیں۔ ان چھ سات سال پرانے اعداد شمار میںیقیناً اس وقت تک قابل ذکر اضافہ ہو چکا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی برمنگھم میں تقریباً ساٹھ ہزار ہندوستانی بھی آباد ہیں۔ اس ملی جلی پاکستانی اور ہندوستانی آبادی کا ایک بڑا حصہ اردو بولتا‘ سمجھتا اور لکھتا ہے۔ اگر مزید اعداد و شمار جمع کئے جائیں تو یہ کہنا غلط نہ وہوگا کہ انگریزی کے بعد اردو ہی برمنگھم کے کثیر اللسانی معاشرہ کی بڑی زبان ہے۔
برمنگھم میں اردو سے تعلق رکھنے والے عموماً اور خصوصاً پاکستانی تاریکیں و طن اگر چہ غم حیات و روزگار کی تگ و دو میں مصروف رہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہی قابل ستائش انداز اور ر فتار سے اردو زبان کو بھی اس معاشرے کا ایک اہم ستون بنانے میں بھی فوراً مصروف ہو گئے اور تادم تحریر یہ کام پوری لگن اور خلوص سے ہو رہا ہے۔
برصغیر سے باہر اردو ادب شاعری تنقید نثر و صحافت کے میدان کی اکثر معروف شخصیتیں برمنگھم ہی سے متعلق ہیں اس عظیم کا رنامہ کو انجام دینے والی چند شخصیات کا انتہائی مختصر تذکرہ صرف حوالہ کے لئے پیش نظر ہے اور اختصار کے لئے ان تمام شخصیات سے معذرت خواہ ہوں۔
اردو شاعری اور فن شاعری کے حوالے سے برمنگھم کے ڈاکٹر عنایت حسین شاداں ( مرحوم) کا نام پوری دنیا ئے اردو میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ برطانیہ کے معروف سینئر صحافی اور داشنور جناب محمود ہاشمی‘ معروف شاعر اور ایڈییٹر لطیف کلیم (مرحوم) معروف ادیب شاعر اور قانون دان ڈاکٹر الحاج محمد یوسف قمر‘ مقبول صحافی سلطان محمود ( مرحوم) استاد شاعر عطا جالندھری ( مرحوم ) معروف و مقبول شاعر سرمد بخاری ( مرحوم ) معروف سینئر شاعر جناب حکیم منیر احمد قریشی‘ اردو فورم کے ڈائریکٹر ارو معروف شاعر اور مصنف جناب ملک فضل حسین‘ معروف دانشور اور اقبال اکیڈمی کے بانی ڈاکٹر سعید اختر درانی‘ اردو کی بے لوث خدمت کرنے والی معروف کاروباری شخصیت انور مغل ( مرحوم ) معروف شاعر اور افسانہ نگار جاوید اختر چوہدری ‘ معروف شاعر اور سائنسدان ڈںاکٹر حسنی صفی‘ معروف دانشور ‘ کالم نگار اور شاعر منصور آفاق‘ عالمی شہرت یافتہ دانشور ‘ محقق اور نقاد جناب عمران شاہد بھنڈر اردو کے لئے اپنے وسائل وقف کرنے والے معروف کاروباری شخصیت جناب عبداللہ وہاب‘ برمنگھم میںپاکستانی نوجوان نسل اور انگریزی کمیونٹی کو اردو سے متعارف رکوانے والی نعت کی معروف شاعرہ محترمہ طلعت سلیم‘ معروف صحافی اور شاعر جناب صداقت حسین سوز‘ معروفی و مقبول شاعر فاروق ساغر‘ حسین جذبات و کیفیات کے پختہ اور مستند شاعر جناب قاضی عنایت الرحمن‘ نئے دور اور خواتین کی نمائندہ شاعرہ اور سماجی کارکن ڈاکٹررضیہ اسماعیل ‘ کشمیر کے موضوع پر انتھک لکھنے والے شاعر جناب سردار محمد یوسف‘ جدید دور میں نظم ک پختہ شاعر اور دانشور جناب اقبال نوید‘ سے انسانی جذبات اور اعلیٰ معاشرتی روایات کے نوجوان مگر پختہ شاعر جناب محمد عارف ‘ خوبصورت نظم و غزل کے مقبول شاعر جناب پرویز مظفر‘ اردو اورفارسی پر عبور رکھنے والے مقبول مزاحیہ شاعر اور انشائیہ نگار ممتاز احمد‘ خوبصورت آواز کے مالک اور خوبصورت کلام کے خالق جناب آدم چغتائی ‘ خوبصورت جذبات و احساسات کی مقبول شاعرہ محترمہ یاسمین حبیب‘ پختہ کلام اور منجھی ہوئی مقبول شاعرہ محترمہ طاہرہ صفی‘ معروف عالم دین‘ انشاءپرداز اور مقبول شاعر جناب قاری غلام رسول تانف‘ نئی نسل کے نئے رحجانات کے نمائندہ شاعر جناب شاہد محمود‘ معروف عالم دین اور خوش الحان‘ شاعر جناب ڈاکٹر عبدالرب ثاقب‘ سچے اور کھر ے ا نسانی جذبات کے بے ساختہ شاعر جناب محمد اقبال بھٹی‘ اردو نظم کے بے ساختہ اہل زبان شاعر جناب محمد فاروق نسیم‘ برصغیر اور برطانیہ میںیکساں مقبول مصنفہ اور شاعرہ محترمہ نسیم اختر‘ اردو اور انگریزی میںخواتین کی نمائندہ شاعرہ محترمہ سعیدہ یونس‘ معروف اور خوبصورت اشعار کی خالق محترمہ سیارہ سید‘ معروف سماجی شخصیت اور خوبصورت اشعار کی خالق محترمہ آصفہ بی بی ‘ معروف صحافی‘ تجزیہ نگار اور شاعر جناب عباس ملک‘ غزل کے معروف شاعر جناب حنیف عثمانی‘ ابھرتے ہوئے مزاحیہ اور سنجیدہ شاعر جناب عبدالرشید چغتائی ‘ نئی جہتوں کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر جناب عبد اللہ آزاد‘ اردو ارو پنجابی کے مقبول نوجوان شاعر جناب افتخار احمد‘ خوبصورت آواز اور پختہ کلام کے شاعر جناب علیم اشرف‘ نوجوان ادیب شاعر اور صحافی جناب جہانگیر اشرف ‘ عالمانہ کلام کے خالق چوہدری محمد سلیمان (مرحوم) معروف عالم دین طبیب اور پختہ کلام شاعر جناب ڈاکٹر اختر الزمان غوری‘ عارفانہ اور عالمانہ شاعر جناب ڈی اے چندا ‘ اردو ارو پنجابی کے معروف شاع جناب حاکم سنگھ راہی ‘ معروف کاروباری شخصیت اور شاعر جناب عطمت اللہ بیگ‘ غزل کے معروف شاعر جناب خواجہ واصف تنہا اور راقم السطور شامل ہیں۔
مذکورہ بالا میں اکثر خواتین و حضرات کے کئی شعری و افسانوی مجموعے ‘ تحقیقی و تنقیدی مضامین اور کتب اور دیگر تصانیف چھپ کر شہرت پا چکی ہے۔ انہوں نے اور ان کے علاوہ بھی بہت سارے خواتین و حضرات نے اور تنظیموں اور اداروں نے اپنے اپنے انداز میںبرمنگھم میں اردو زبان کے فروغ کے لئے قابل ستائش کام کیا ہے۔ ان سب شعرا و ادبا ء‘ صحافیوں اور ناقدین پر اور ان کے کام پر علیحدہ علیحدہ کئی مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔
برمنگھم ابتدا سے ہی اردو دانوں کاگڑھ رہا ہے اور مذکورہ بالا شخصیات کی اردو سے محبت اور انتھک محنت اور کام نے برمنگھم کو اردو کی ترقی اور ترویج کے لئے ایک انتہائی زرخیز زمین کے طور پر پوری دنیا میں متعارف کروادیا اور یہ ان شخصیات کے کام اور کامیابی ہی کی کشش ہے کہ برطانیہ کے دیگر شہروں میںآباد بہت سارے ادیب‘ شعرائ‘ دانشور ‘ مصفین اور صحافیوں نے بھی یہاں کی مناسب ادبی فضا کے پیش نظر وقتاً فوقتاً برمنگھم میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان شخصیتوں میںمعروف شاعرہ‘ صحافیہ اور مصنفہ محترمہ سلطانہ مہر کا نام شامل ہے جو امریکہ سے نقل مکانی کر کے برمنگھم میںآباد ہو چکی ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب جناب عاشور کاظمی کے نام اور کام سے ادبی دنیا بخوبی آگاہ ہے۔ آپ نے بھی لندن سے نقل مکان کر کے برمنگھم میں رہائش پذیر ہونے کا فیصلہ کیا اور پچھلے چند سالوں سے یہیں مقیم ہیں۔ اردو کے معروف افسانہ نویس جناب قیصر تمکین بھی کچھ عرصے پہلے ویلز سے نقل مکانی کر کے برمنگھم میںآباد ہو چکے ہیں اور اب یہاں سے اپنے تخلیقی کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
کسی زبان کی ترقی‘ ترویج اور مقبولیت کے لئے جہاں شاعری ‘ افسانہ تنقید وغیرہ ضروری ہوتے ہیں وہیں اس عمل میںصحافت کا بھی ایک اہم کردار ہے کیوں کہ اب کے بغیر ترویج واشاعت کا عوام الناس تک پہنچنا قدرے دشوار ہے۔
برمنگھم سے مختلف اوقات میںاردو کے کئے معروف اخبار اور رسالے نکلتے رہے جن میںچند قابل ذکر مندرجہ ذیل ہیں۔
برطانیہ سے نکلنے والا یہپہلا اردو اخبار ”مشرق“ برطانیہ کے معروف ادیب ‘ نقاد اور سینئر صحافی جناب محمود ہاشمی کی زیرادارت نکلنا شروع ہوا جنکی سکونت برمنگھم ہے۔ 1963ءمیں جناب حبیب الرحمن نے ہفت روزہ ” ایشیا“ شروع ہوا۔1967ءمیں لطیف کلیم نے ہفت روزہ ”ملت“ کی ابتداءکی۔ 1972ءمیںشمیم چشتی نے ہفت روزہ ” گھرانہ“ کے نام سے پرچہ نکالا۔فی الحال برمنگھم سے ” کشمیر پوسٹ“ اردو پوسٹ“ اور ” عوام “ جیسے اخبارات باقاعدگی سے چھپ رہے ہیں۔ البتہ کسی مخصوص ادبی جریدہ کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ مندرجہ بالا اخبارات کے علاو مختلف تنظیموں اور انجمنوں کے ترجمان رسائل بھی نکلتے رہتے ہیں۔ ان میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ترجمان ماہنامہ ” وائس آف کشمیر انٹر نیشنل“ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں 1877ءمیں نکلنا شروع ہوا تھا۔ اسی زمانے میں جمعیت اہل حدیث کا رسالہ ” صراط المستقیم “ جاری ہوا تھا جو ابھی تک نکلتا ۔ ہے 1980ءکے ابتدائی سالوں میںکونسل آف برٹش پاکستانیز کی سرپرستی میں ادبی اور سیاسی ماہنامہ ”سویرا “ بھی باقاعدگی سے چھپا کرتا تھا۔ تحریک استحکام پاکستان برطانیہ کا ترجمان ماہنامہ ” نوائے پاکستان“ کے نام سے نکل رہا ہے۔ ان کے علاوہ چند جرائد ایسے بھی ہیں جن کی اشاعت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ ان میں ”آزادی“ - التوحید “ -”نظام اسلام“-”پاسبان“ - ”لبیک“ اور ”پاکستان“ وغیرہ شامل ہیں۔ ” نوائے پاکستان“ الصلوةٰ والسلام“ وغیرہ وجرائد بھی کبھی کبھی منظر عام پرآتے رہے ہیں۔ 2000 میں ” کشمیر ڈائجسٹ“ کے چند شمارے بھی اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ مزید تحقیق پر چند اور نام ملنے کی بھی توقع کی جا سکتی ہے۔
برمنگھم میں اردو کے ارتقاء اورترقی کے سفر میں بہت ساری ادبی تنظیموں اور انجمنوں کابہت دخل رہا ہے‘ ایسی کئی تنظیمیں برمنگھم میں قائم ہوئیں اوراپنے اپنے انداز میں اردو کیلئے بخوبی کام کرتی رہیں اورابھی تک کررہی ہیں۔ 1966ءمیں یہاں رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی گئی جس نے اپنے اندازمیں اہم کام کیا۔ 1970ءمیں برمنگھم میں انجمن ترقی اردو کی بنیاد ڈالی گئی۔ 1979ء میں اردو فورم یو کے کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ اقبال اکیڈمی‘ فانوس‘ بزم علم و فن‘ بزم ادب فیض اکیڈمی اور کچھ دیگرتنظیمیں بھی قائم کی گئیں اور ان سب نے اپنے اپنے اندازمیں اردو کی ترقی و ترویج کے لئے کئی مشکلات کے باوجود قابل تعریف کام کیا اوربرمنگھم شہرکو اردو کا گہوارہ بنانے میں تادم تحریرمصروف ہیں۔ برمنگھم میں ریڈیو‘ بی بی سی‘ ریڈیو ایکسل اور یونٹی ٹی وی اورریڈیو نے بھی ریڈیومشاعروں کے ذریعہ اردو زبان کوفروغ دینے میں قابل قدرکارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ان کے علاوہ جز وقتی ریڈیو جو عام طورپررمضان اور ربیع الاول کے مہینوں میں جاری ہوتے ہیں‘ اپنے اپنے اندازمیں فروغ اردوکا سبب بنتے رہے ہیں۔
یقیناً ابتداءمیں تخلیق و ترویج کا کام مشکل ہوا ہوگا کیونکہ اردوبولنے پڑھنے والے تارکین وطن کوبے شمار معاشرتی‘ معاشی‘ خانگی اور دیگر مسائل کا سامناکرناپڑا ہوگا اور جدید ذرائع ابلاغ اوروسائل بھی میسرنہیں ہوںگے مگراس کے باوجود مخلص اور اردو سے محبت رکھنے والے ادیبوں‘ شاعروں‘ تنقید نگاروں اور صحافیوں نے انتھک کام کیا جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
آج برمنگھم میں باقاعدہ مشاعروں‘ مذاکروں اور دیگرادبی محفلوں کے اہتمام کے ساتھ انعقاد ہوتاہے اور ان کی رپورٹیں باقاعدگی سے اخبارات و رسائل میں چھپتی ہیں۔ اس طرح اردوکی نئی بستیوں میں برمنگھم کا نام ایک اہم حیثیت سے جانا جاتا ہے۔
(جاری ہے )