فن کار پرندے

22 فروری 2017

لکھتے وقت ہر مرتبہ سوچتاہوں ،اب کے شعر وادب اورفنون لطیفہ سے متعلق لکھوں گا،لیکن شعروادب بھی مافیائی مرض میں مبتلاہے۔کنویں کے برساتی مینڈکوں کی ٹرٹر شدید ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔اخبارات میںادبی صفحات کے انچارج شاعر بن بیٹھے،کتابیں چھاپنے والے صاحبِ کتاب اوربات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہماری جامعات کی وہ تدریسی مافیا کی اکثریت بھی اس کھیل میںشامل ہے،جو ڈاکٹر نامی مخلوق بنتے ہی اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھ کرطالب علموں کو نظروں سے گرادیتے ہیں ۔طلب کی دیوانگی اورتقسیم کااصول کسی کویادنہیں رہتا۔انسان فطری لحاظ سے پرندہ ہے۔اس لیے کہ یہ ان دیکھی دنیا کی اڑان بھرنا چاہتاہے۔اسی لیے کبھی یہ ناول لکھتاہے،کبھی تصویر بناتاہے اورکبھی لفظوں کو آواز میں انڈیل کر تاثیر کا جام تیار کرتاہے۔رنگوں کو زبان دیتاہے۔احساس کو قابو میں رکھتاہے مگر اظہار میں بے قابو ہوتاہے۔یہی سب کیفیات مل کر کسی کو فن کار بناتی ہیںاورفن کی تختی پر چاہے جانے کی روشنائی سے یہ زندگی کو لکھتاہے۔یہ میرافن کار۔۔۔پرندے ہجرت کرتے ہیں،یہ فن کار بھی ہجرت کرتاہے۔پرندے ڈار سے بچھڑتے ہیں،یہ بھی کوئے یار سے بچھڑ جاتاہے۔پرندے گھونسلوں میں واپس لوٹنے کی چاہ لیے دور کی مسافت طے کرتے ہیں۔فن کار کا من بھی گھر کے دروازے سے بندھا رہتاہے۔پرندے صرف رزق کی تلاش اورموسم کی سختی سے مجبور ہوکر ہجرت نہیں کرتے بلکہ انہیں اڑان بھرنے کی فطرت ودیعت ہوتی ہے۔فن کار بھی اپنے اندر کی تلاش میں باہر کی سختیاں سہتاہے۔ہمارا فن کار اس وقت اپنے دور کے سخت موڑ سے گزررہاہے کیونکہ ٹی وی کی اسکرین کو دیکھتاہے تو صرف بازارِ سیاست کاتذکرہ یا پھر صرف بازاری چیزوںکا تذکرہ دیکھنے اورسننے کو ملتاہے۔اخبارات میں شعر وادب کا ایک صفحہ مرتب ہواکرتاتھا،وہ روایت بھی دم توڑ رہی ہے۔ادبی رسائل وجرائد سے تو کب کی روح پرواز کرچکی۔مفت میں ملنے والا جریدہ بھی اب کوئی نہیں پڑھتاالبتہ کتابیں بہت چھپ رہی ہیں۔اس اندازِ چھپائی کو دیکھ کر لگتاہے کہ کتاب لکھنا کوئی مسئلہ ہی نہیں،ویسے واقعی اب کوئی مسئلہ نہیں۔کبھی وسوسے میرے فن کار کے ذہن سے چمٹے رہتے تھے ،لیکن اب اکثریت جن چھپنے والی کتابوں کی ہے،اس کو دیکھ کر لگتاہے کہ تعارف اب اپنی تعریف میں تبدیل ہوگیاہے۔شاید یہ ہماری جہالت کا اعلیٰ ترین دورہے۔جاہل کا بھی دل ہوتاہے۔اسے دل کی پریشانی ہوتی ہے ،بل کی نہیں۔وہ بل جو سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ”مافیا “کو دینا پڑتے ہیں۔یہ مافیا اشاعتی اداروں کی شکل میں بھی موجود ہے۔چند ایک ناشرین کو چھوڑ کرباقی سب نے مافیائی شاعروں اورادیبوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ایسی فضا میں پھر فن کار پرندے اپنے گھونسلوں سے باہر نہیں آتے۔میں نے اپنے ایک بہت عزیز فن کا رسے گوشہ گمنامی اختیار کرنے کی وجہ پوچھی تو جواب ملاکہ” سہاگن عورت بانجھ عورتوں میں بیٹھی اچھی نہیں لگتی۔“میں نے اس بات کے تناظر میں ادب کی مافیا کو دیکھاتوکنویں کے” جتنے “مینڈک تھے،ان کے ”جتن “کو”جان“پایا۔شعر وادب کو لاحق بیماریوں اوران بیمار صفت لوگوں کے رویے اورنام نہاد تخلیقات اورلابی کا ذکر بھی کروں گااور آپ کو بتاﺅں گاکہ ان آستین کے سانپو ںکے کیاکیاروپ ہیں۔اذیت کے اس منظر نامے پر میرا سچا فن کار پھر بھی آنکھیں موندے خواب دیکھنے کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ایسے خواب جن کو تصویری شکل دی جائے تو ایسا لگتاہے ،جیسے نیلے رنگ کے آسمان پر رنگ برنگی تتلیاں اڑرہی ہوں۔اس کو سُریلے گیت بے چین کردیتے ہیں۔یہ اچھی کتاب کی خاموشی کو پڑھتا ہے۔کینوس پر بنی پینٹنگ سے اس کی آنکھیں چار ہوتی ہیں تو رنگ بولنے لگتے ہیں۔ایسا فن کار بڑا قیمتی ہوتاہے۔اپنے اردگرد دیکھیں،ایسا فن کار گوشہ گمنامی کے حجرے میں ریاضت کا وظیفہ پڑھتارہتاہے۔اگر مل جائے تو دعا لیجیے،آپ کا فن نکھر جائے گااوربُرے کی بد دعابکھر جائے گی۔صحبت کا عِلم ذوق کا علم بن جاتاہے۔آپ کے فن میں کنندہ ،آپ کا صحیح تعارف۔۔۔

موسمی پرندے

خسرو بختیار نے چھ ایم این ایز اور دو ایم پی ایز کے ہمراہ ’’ جنوبی پنجاب ...