علماءکرام کوائف جمع کرانے سے انکار کردیں‘ ملی یکجہتی کونسل

21 اکتوبر 2012

کراچی(خصوصی رپورٹر)ملی یکجہتی کونسل سندھ کا اہم اجلاس ادارہ نورحق میں کونسل کے صدر اسد اللہ بھٹو کی صدارت میں ہوا‘ اجلاس میں ملالہ واقعہ کی آڑ میں علمائے کرام کے خلاف بے بنیاد پرو پیگنڈے اور انہیں اپنے کوائف جمع کرانے کے احکامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی اور علمائے کرام پر زور دیا گیا کہ وہ کوائف جمع کرانے سے صاف انکار کردیں۔ اجلاس میں تحفظ ناموس رسالت کی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ۔ اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے سیکریٹری خالد محمود سومرو‘ڈپٹی سیکرٹری محمد بلال حیدر ‘ تحریک اسلامی کے مرزا محمد یوسف اور دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ممتاز سہتو ‘ محمد حسین محنتی‘ برجیس احمد‘ مسلم پرویز ‘ محمد احمد منصوری‘ جمعیت علمائے اسلام کے محمد اسلم غوری‘ عمر صادق‘ قاری عثمان ‘ جمعیت اتحاد العلماءکے مولانا عبدالوحید‘ محمد نسیم خان ‘ حیدر علی ‘ رابطہ المدارس کے ضیاءالرحمن فاروقی‘ تحریک اسلامی کے رجب علی حاتمی‘ جعفر علی سبحانی‘ تحریک اہلحدیث کے علامہ عبداللہ غازی‘ مرکزی جماعت اہلسنت کے مفتی محمد اسلم نعیمی ‘ سواد اعظم کے فضل عظیم قادری ‘پاکستان رابطہ کونسل کے مفتی عبدالمجید اشرفی‘ منہاج القرآن کے حافط ضیاءالمصطفی‘ تحریک فیضان اولیا کے عثمان علی ماجدی‘ تحریک اہلحدیث کے مولانا فاروق‘ جماعت الدعوة کے محمد کاشف اور دیگر بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ملالہ واقعہ اور علمائے کرام کی گستاخی کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔ اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ آج ایک بار پھر پاکستان اور اس کے نظرےے کے خلاف سازشوں کا آغاز کردیا گیا‘ بلا شبہ ملالہ پر ہونے والا حملہ قابل مذمت ہے۔ خالد محمود سومرو نے کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کے قیام کا مقصد باہمی یکجہتی اتحاد اور اخوت کو فروغ دینا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل