شاکر رضوی کے قتل کیخلاف وکلا کی ہڑتال، عدالتوں کا بائیکاٹ

21 اکتوبر 2012


لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگاران) معروف قانون دان شاکر علی رضوی کے قتل کے خلاف ہفتہ کو پنجاب بار کونسل کی کال پر لاہور سمیت صوبے بھر میں وکلا نے ہڑتال کی اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ شاکر علی رضوی کو گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے قریب فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ لاہور میں ہفتہ کو ہائیکورٹ، سیشن کورٹ، ایوان عدل، ضلع، کینٹ اور ماڈل ٹاﺅن کچہری میں وکلا پیش نہیں ہوئے، عدالتی کام مکمل طور پر بند رہا جس سے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قتل کیخلاف میانوالی عدالتی کام بند رہا، پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر ڈسٹرکٹ بار ظفر اقبال خان، ممبر پنجاب بار اکرم اعوان، ملک زبیر اعوان، ثناءاللہ خان، نثار عباس جوڑا ایڈووکیٹس نے قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پنجاب حکومت وکلا کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔ راولپنڈی سرگودھا،فیصل آباد منڈی بہاءالدین، بھکر میں عدالتی کام ٹھپ رہا، پاکپتن بار کے صدر ریاض ارشد نیازی نے حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ سیالکوٹ بار کا اجلاس صدر شاہد میر کی صدارت میں ہوا ، شاکر رضوی کے قتل کیخلاف قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ مقتول کو عرصہ دراز سے دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور اس سے قبل بھی ان پر دو بار قاتلانہ حملے ہوئے، پولیس افسروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد انتہائی پروفیشنل تھے۔ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو آئی جی پنجاب کی طرف سے شاکر علی رضوی کے قتل کے بارے ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے جس کے مطابق تھانہ پرانی انارکلی میں سید نعیم عباس رضوی کی مدعیت میں پرچہ درج ہو گیا ہے۔ بعدازاں اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کر دی گئی ہے۔ ملزموں کی گرفتاری کیلئے تین ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔ پولیس نے اعوان ٹاﺅن کے 2 افراد پرویز عرف پیجا اور طارق کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ صدر لاہور بار چودھری ذوالفقار علی، سیکرٹری سید اسد عباس زیدی، سیکرٹری چودھری جواد اکبر گل و دیگر نے کہاکہ سید شاکر علی کے قتل سے پیدا ہونے والا خلا برسوں تک پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ وکلا اور عدالتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔سید شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ وی رسم قل آج 9 بجے صبح 81-A1 غازی آباد اسلام پورہ میں ادا کی جائے گی۔ قرآن خوانی کے بعد مجلس عزا سے علامہ غضنفر عباس تونسوی اور شوکت رضا شوکت خطاب کریں گے۔