پاکستان لڑکیوں کی تعلیم کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا: یونیسکو

21 اکتوبر 2012


نئی دہلی (اے پی اے) بھارتی اخبار ٹائم آف انڈیا کے مطابق یونیسکو کا کہنا ہے پاکستان لڑکیوں کی تعلیم کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے، ملک میں جنسی عدم مساوات میں ہونے والا اضافہ باعث تشویش ہے۔ ملالہ پر حملے کے بعد یونیسکو کی طرف سے شائع کی جانے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے میں موجود دیگر ممالک بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش کی نسبت مرد و خواتین میں مساوات پیدا قائم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 3 ملین لڑکیاں آج تک سکول نہیں گئیں۔ ایجوکیشن فار آ ل کی گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ کی ڈائریکٹر پالین روز کا کہنا ہے پاکستان میں سکول جانے والی لڑکیوں کی تشدد میں تبدیل ہوتی مشکلات عالمی برادری کی توجہ طلب کر رہی ہیں۔ رپورت کا کہنا ہے ملالہ کے آبائی علاقے سوات میں دو تہائی لڑکیاں ایسی ہیں جو آج تک سکول نہیں جا سکیں اور صرف ایک تہائی لڑکیوں کا سکولوں میں اندراج ہے۔ رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو تعلیم نہ دینے سے نہ صرف معاشرتی عدم استحکام میں اضافہ ہو تا ہے بلکہ اس سے مستقبل میں امن عامہ اور ملکی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔1991ءمیں پاکستان کے غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی 78 فیصد لڑکیاں سکول ہی نہیں جاتی تھیں جبکہ آج بھی یہ شرح 62 فیصد پر ہے جو کہ کل تعداد کا دو تہائی حصہ ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے پاکستان کی طرف سے تعلیم کےلئے مختص کیئے جانے والا 2.3 فیصد بجٹ تعلیمی ترقی کی بجائے تنزلی کا باعث ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان نائیجیریا کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے جہاںکئی ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔