غلام اسحق بینظیر کو ملک کا وفادار نہیں سمجھتے تھے: بریگیڈئر (ر) حامد سعید

21 اکتوبر 2012

اسلام آباد (وقت نیوز) 1990ءکی دہائی میں بینظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکنے کا فیصلہ اس وقت کے صدر غلام اسحق خاں نے کیا تھا جو بینظیر کو ملک کا وفادار نہیں تصور کرتے تھے کیونکہ انہیں انٹیلی جنس اور دیگر ذرائع سے اطلاعات وصول ہوئی تھیں۔ ایم آئی سندھ شاخ کے سابق سربراہ بریگیڈئر حامد سعید نے وقت نیوز کے مطیع اللہ جان سے انٹرویو میں کہا کہ بینظیر کو اس لئے سکیورٹی کیلئے خطرہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ (بینظیر) ایٹمی پروگرام کیلئے خطرہ تھیں اور انہوں نے الذوالفقار کے دہشت گردوں کی تقرری پی آئی اے، ریلوے اور کسٹمز میں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج بینظیر کو اقتدار میں لائی تھی لیکن ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایٹمی پروگرام پر ریڈ لائن کو عبور نہیں کریں گی۔ بریگیڈئر حامد سعید نے کہا کہ بینظیر کے خلاف مزید شواہد بھی لئے جس کی بناءپر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انکا اقتدار میں رہنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ کرپشن اور آئین کی خلاف ورزی بھی فیصلے کی وجہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو اس وقت کے چیف آف سٹاف جنرل اسلم بیگ کی حمایت سے اقتدار میں آئی تھیں جنہوں نے صدر غلام اسحق کو قائل کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی رہنما کو حکومت بنانے کی اجازت دی جائے۔ ایک سوال کے جواب میں بریگیڈئر حامد سعید نے کہا کہ مرتضیٰ بھٹو الذوالفقار کے بانی تھے اور وہ بھارت جاتے تھے جہاں وہ ہر پاسنگ آ¶ٹ پریڈ کے بعد سرٹیفکیٹ وصول کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ غلام مصطفی جتوئی کو 5 ملین دو اقساط میں نقد دیدیئے گئے ان سے رقم وصولی کی رسید نہیں مانگی گئی۔ جام صادق کو بھی اتنی رقم دی گئی انہوں نے وصولی کی رسید دی جبکہ محمد خاں جونیجو کو 2.5 ملین روپے دیدیئے گئے لیکن انہوں نے وصولی کی رسید دینے سے انکار کر دیا۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کو 5 لاکھ کے چیک دیدیئے گئے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...