جماعت اسلامی کے بغیر مجلس عمل ادھوری ہے: منور حسن

21 اکتوبر 2012

سیالکوٹ، لاہور (نامہ نگار+ سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی جماعت اسلامی کے بغیر ادھوری ہے۔ مولانا کسی طرح زرداری سے یاری نبھانا اور ایم ایم اے کو ایک ساتھ لے کر چلیں گے۔ جماعت اسلامی اپنے نشان اور منشور پر الیکشن لڑے گی اور سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کو ترجیح دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی سیالکوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا مغربی تہذیب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، اس تہذیب نے انسانی اقدار کو پامال کر دیا ہے ۔ مسلمان ایمان کی قوت سے کفر کے سامنے ڈھال ثابت ہوئے ہیں۔ منور حسن نے کہاکہ توہین رسالت کے واقعات سے ملت کفر مسلمانوں کے سینوں سے حب رسول نکالنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ معاشرتی بگاڑ اللہ کے غضب کو دعوت دے رہا ہے ۔ علاوہ ازیں منصورہ میں گفتگو کرتے ہوئےمنور حسن نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی پرےس کانفرس کو ”سراہتے“ ہوئے کہا ہے کہ بہتر ہوتا کہ وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ سے پیسے وصول کرنے والوں کے ساتھ ساتھ رینٹل پاور منصوبوں میں اربوں روپے سے ہاتھ رنگنے اور قومی دولت لوٹ کر سوئس بنکوں میں جمع کرانے والوں سے بھی ایک ایک پائی وصول کرنے کے عزم کا اظہار کرتے خود کرپشن کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے ہیں ان کے منہ سے ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور کرپشن کی کمائی کو تحفظ دینے کے لیے عدلیہ سے محاذ آرائی میں گزرا ہے خود وزیراعظم پر کرپشن کے کئی الزامات ہیں۔ زرداری نے ایوان صدر کو پیپلز پارٹی کے ہیڈ آفس میں بدل کر صدر مملکت کے غیر جانبدارانہ تشخص کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملالہ پر حملے کے مذموم مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ملکی حالات کو انتخابات کے لیے ناسازگار بنا دیا جائے سید منور حسن نے کہاکہ قوم حکمرانوں کو الیکشن سے فرار کا موقع نہیں دے گی۔