عدل۔ آغاز گھر سے

21 اکتوبر 2012

عدل کی رسم کو روا رکھنا
اختیارات کو بجا رکھنا
تاکہ مظلوم کو پیام ملے
ہو گا اِنصاف، حوصلہ رکھنا
عدل ہوتا ہوا دکھائی دے
گُونج اِنصاف کی سُنائی دے
ہو جو قانون سب پہ بالا دست
کوئی مظلوم کیوں دہائی دے
عدل گھر سے شروع ہوتا ہے
جیسے سورج طلوع ہوتا ہے
ہر گلی کُوچہ جگمگاتے ہوئے
روزِ روشن وقوع ہوتا ہے
عدل یکساں سبھی پہ عائد ہو
ذرہ بھر کم نہ کہیں زائد ہو
اِس پہ کامل یقین ہو سب کو
خارج از بحث لفظِ شاید ہو
کوئی توڑے نہ، حد کو پار کرے
راستہ سیدھا اختیار کرے
روک پائے نہ کوئی عادل کو
کسی صورت نہ زیر بار کرے
ملک میں نظم و نسق قائم ہو
ہر سُو امن و امان دائم ہو
سب پہ قانون کی ہو سخت گرفت
ختم افزائشِ جرائم ہو
کسی دل میں بھی وسوسے نہ پلیں
سبھی خطرات راستے کے ٹلیں
عدل سے سرخرو ہوں گھر میں اگر
لوگ سینوں میں عدل لے کے چلیں