آئین کی مکمل بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے ہی امن قائم ہو گا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

21 اکتوبر 2012

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ امن کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ امن اسی صورت میں قائم ہو گا جب آئین کی مکمل بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہو ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ”امن بذریعہ قانون “ کے موضوع پر منعقدہ عالمی جوڈیشل کانفرنس کے اختتامی سیشن میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی سے ہی قوموں کا معیار بلند ہوتا ہے، یہی چیز مہذب ہونے کا سب سے بڑا معیار ہے۔ معاشرے میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کےلئے عدلیہ اور حکومت سمیت ملک کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اگر ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے تو آئین میں دیئے گئے تمام حقوق ازخود مل جائیں گے۔ بدقسمتی سے ہر سطح پر دوہرا معیار بنا لیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر ترقی نہیں کر پاتے۔ موجودہ حالات میں قانون کی حکمرانی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وکلا برادری کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ وکلا میدان عمل میں آئیں عوام کو شعور دینے کے ساتھ عملی طور پر اپنے پیشے کو عبادت سمجھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اہم موضوع پر جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد پر سپریم کورٹ بار کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز قانون کی حکمرانی کے عملی نفاذ اور شہریوں کو اس بارے آگاہی کےلئے بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرے مملک سے آئے ہوئے قانون شعبے کے ماہریں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کر کے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے باہمی احترام سے ریاستوں اور اداروں کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔