سیاست کرنا عبادت ہے گناہ نہیں ‘ صدر سیاست کرتے رہیں گے : کائرہ

21 اکتوبر 2012

لاہور (خصوصی رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے نے کئی سیاسی جماعتوں کے اصل چہروں کو بے نقاب کر دیا ہے، اس سے الیکشن میں دھاندلی کا صرف ایک باب کھلا ہمارا موقف درست ثابت ہوا کہ انتخابات میںا سٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ چراتی رہی ہے عدلیہ کا رویہ بھی سب کے سامنے ہے۔ وہ گورنر ہاﺅس میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر چودھری منور انجم اور میاں محمد ایوب بھی موجود تھے۔ قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے ساڑھے چار سالہ دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں عدالت کے حکم کے مطابق تحقیقات کرینگے کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا صدر سیاسی عمل کے ذریعہ منتخب ہوتا ہے صدر غیر سیاسی نہیں ہو سکتا البتہ اسے غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ صدر ایوان صدر میں سیاست کرتے رہیں گے سیاست گناہ نہیں عبادت ہے۔ صدر غلام اسحاق خان نے غیر جانبداری نہیں کی بلکہ ایک پارٹی کا ساتھ دیا اور دوسری پارٹی کا مینڈیٹ چھینا۔ 3 صوبے کالاباغ ڈیم مخالف ہیں طاقت کے زور پر یہ ڈیم نہیں بن سکتا اتفاق رائے وفاق کے لئے بہتر ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر 9 سے 10 سال لگیں گے اتنے عرصے میں بھاشا ڈیم بن سکتا ہے۔ کالاباغ ڈیم سے پنجاب کو پانی کا ایک قطرہ نہیں ملے گا صرف بجلی ملے گی۔ متنازعہ کالاباغ ڈیم کی جگہ ہمیں بیرون ملک سے 10 سے 12 ارب روپے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا فوجی آپریشن ہر معاملے کا حل نہیں مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر کے دہشت گردی سے ملک کو پاک کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ صرف فوج اور سکیورٹی ادارے دہشت گردی ختم نہیں کر سکتے عوام کا تعاون ضروری ہے۔ حکومت نے صوفی محمد سے بھی مذاکرات کئے تھے۔ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ ہم نے عمران خان سے بھی درخواست کی ہے کہ ان کے طالبان سے اچھے تعلقات ہیں وہ مفاہمت کرانے میں کردار ادا کریں۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے حقیقی طالبان کی بات کی تھی ہماری ان سے بھی درخواست ہے کہ امن قائم کرنے کے لئے حقیقی طالبان سے بات کریں۔ مسلم لیگ ن کے ترجمان کے اصغر خاں کیس پر بیان پر حیرانگی ہوئی، پی پی پی نے کبھی کسی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ قتل کے بارے میں کہا کہ ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عدالت نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہم کسی سے انتقام لینا نہیں چاہتے بلکہ ریکارڈ درست کرنا چاہتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس میں عدالت عظمٰی کے فیصلے کے بعد تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بن سکتی ہے۔ یہ تحقیقات غیر جانبدارانہ ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں صدر کے حوالے سے ریمارکس عجیب لگے۔ صدر کا چناﺅ سیاسی طریقے سے ہوتا ہے۔ صدر نے سیاست نہیں کرنی تو پھر کیا کرنا ہے۔ ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس کا خرچہ صدر خود برداشت کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ آتے ہیں مسلم لیگ ن ایوان صدر میں پروگرام کرنا چاہے تو کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے سیاست کرنی ہے اور کچھ نہیں۔ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔ یہ سیاسی عہدہ ہے۔ صدر ایک سیاسی شخص ہیں مگر ان کا عمل غیر سیاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاستدانوں میں زرداری کے پائے کا کوئی لیڈر نہیں۔ پاکستان کے حالات خراب کرنے میں بعض غیر ملکی قوتیں بھی ملوث ہیں۔ میں نے کبھی صحافی کو خریدنے کیلئے پیسے نہیں دیئے۔