افغانستان: پولیس اہلکاروں نے زہریلا کھانا کھلایا پھر فائرنگ شروع کر دی‘ 8 ساتھی ہلاک‘ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

21 اکتوبر 2012
افغانستان: پولیس اہلکاروں نے زہریلا کھانا کھلایا پھر فائرنگ شروع کر دی‘ 8 ساتھی ہلاک‘ طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

کابل /ہلمند /خوست/قندور(آئی این پی ) افغانستان میں پولےس اہلکاروںنے زہرےلاکھانا کھلانے کے بعد فائرنگ کرکے اپنے 6ساتھےوں کو قتل کردیا جبکہ پولیس وردی میں ملبوس شخص کی فائرنگ سے 3پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ، طالبان نے دونوں واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی فورسز کی فائرنگ سے 6طالبان مارے گئے۔صوبہ گریشک کے پولیس ترجمان احمد زیرک نے میڈیا کو بتایا کہ باروچی اور پولیس اہلکار نے مل کر اپنے ساتھیوں کو زہرےلا کھانا کھلاےا جس کے نتیجے میں ان کی حالت تشویشناک ہوگئی جس کے بعد انہےں فائرنگ کرکے ہلاک کردےا ۔انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث پولیس اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ باروچی تاحال مفرور ہے ۔صوبائی پولیس ترجمان فرید احمد فرہنگ نے واقعہ کی تصدیق کی ہے ۔ افغان طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں 8پولیس اہلکار ہلاک اوران کے اسلحہ کو قبضے میں لے لیا گیا ہے ۔دوسری جانب پولیس کانسٹیبل نے صوبہ خوست کے ضلع زئی میدن میںپولیس چیک پوسٹ پر موجود 3ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔ضلعی پولیس آفیسر نے بتایا کہ خون ریزی کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا طالبان کا ممبر تھا ۔ دریں اثنائافغانستان میں پولیس ، نیٹو اور افغان فورسز نے آپریشن کے دوران 6 طالبان کو ہلاک اوراہم کمانڈر ملاعبدالرحمن سمیت 9کو گرفتار کرلیا ۔ افغان وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق افغان پولیس نے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 6طالبان کو ہلاک اور 8کو گرفتار کرلیا ۔۔آپریشن کے دوران بھاری مقدرار مےں اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق ملا عبدالرحمن طالبان کے اہم کمانڈر سمجھے جاتے تھے اور ان کی گرفتاری طالبان کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے ۔