پیپلزپارٹی والے 16سال کہاں تھے اب مظلوم نہ بنیں: علی اصغر

21 اکتوبر 2012

اسلام آباد (آئی این پی) تحریک انصاف کے رہنما اور ایئر مارشل (ر) اصغر خان کے صاحبزادے علی اصغر خان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی سے فنڈز وصول کرنے والوں کیخلاف حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی توقع نہیں ‘ پی پی پی عداتی فیصلے کے بعد ایک بار پھر مظلوم بننے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ اٹارنی جنرل نے کیس کے سلسلے میں عدالت سے کوئی تعاون نہیں کیا اور عدالتی احکامات پر ثبوت فراہم کرنے کی بجائے تاخیری حربے استعمال کئے ‘ آج فیصلے کی تعریفیں کرنے والے 16 سال تک کہاں تھے جب میرے والد91 سال کی عمر میں اکیلے کورٹ کا دروازہ کھٹکٹاتے رہے؟۔ وہ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر پارٹی رہنما اسرار شاہ اور احمد جواد بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ انہوں نے کہاکہ اس فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ فوجی افسران پرلازم نہیں کہ وہ ہائی کمان کے غیر قانونی احکامات کی بھی تعمیل کریں۔ ایئر مارشل اصغر خان نے خود ائر فورس کے جوان افسر کے طور پر حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا کے خلاف کارروائی کے انگریز افسر کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے حکمران ایک بار پھر مک مکاﺅ کر لیں گے اور عدالتی فیصلے پر معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے آئی ایس آئی سے پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں عام انتخابات سے قبل رقوم وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی سامنے آنی چاہیے اور جن پر یہ الزامات ثابت ہوں ان پر عام انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمشن پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابات سے قبل ماضی میں آئی ایس آئی سے پیسے لینے والوں کا فیصلہ کرے‘ خفیہ ایجنسیوں سے پیسے لے کر الیکشن لڑنے والے سیاستدانوں پر پابندی عائد کی جائے‘ 90ءسمیت ہر دور کے غلط کام کا حساب ہونا چاہئے‘ ملوث جرنیلوں کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے اگر پیپلزپارٹی یا وزیراعظم بہادر ہیں تو اسلم بیگ سے تمغہ جمہوریت واپس لے کر دکھائیں‘ سولہ سال کیس اصغر خان نے لڑا پیپلزپارٹی ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ علی اصغر نے کہا ہے کہ سٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں میں رقم پیپلزپارٹی کے خلاف نہیں بلکہ پیپلز ڈیمو کریٹک الائنس کے خلاف تقسیم کی تھی جس کا پیپلزپارٹی ایک حصہ تھی۔