زرداری نے پنجاب حکومت گرانے کے لئے آئی بی سے 50 کروڑ کی ڈیل کی ‘ تحقیقات کی جائے: شہباز شریف

21 اکتوبر 2012

لاہور + کلرکہار (خصوصی رپورٹر + ثناءنیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر اسے من و عن تسلیم کرتے ہیں ہم پر جو رقم لینے کا الزام ہے اس کے ثبوت لائے جائیں۔ عدالتی فیصلے سے ہمیں فرق نہیں پڑتا، رقوم کی تقسیم کی شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ قوم جانتی ہے اصل مجرم کون ہے۔ صدر زرداری نے 2009 ءمیں پنجاب میں ہماری حکومت گرانے کے لئے آئی بی کے ساتھ 50 کروڑ روپے کی ڈیل کی تھی اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔ 12 اکتوبر 1999ءکو نوازشریف کی حکومت کیسے ختم کی گئی اور نوازشریف کی پہلی حکومت گرانے کے لئے جو لانگ مارچ کیا گیا اس کے لئے پیسے کہاں سے آئے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ کشمیر کو طاقت کے ذریعہ حاصل کر سکتا ہے تو اسے یہ خوش فہمی ختم کر دینی چاہئے، جنگ سے دونوں ملکوں کو غربت، بے روزگاری اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ کشمیر کے حصول کیلئے ہمیں پہلے پاکستان کو رول ماڈل بنانا ہو گا۔ ملک کے موجودہ حالات 60 سالہ کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ ملک میں توانائی کا بحران حکمرانوں کی بری حکمرانی کی وجہ سے ہے، حکمران صرف ملک کو لوٹنے اور کرپشن میں مصروف ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شہباز شریف نے کلر کہار میں کیڈٹ کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوںکی محنت کی وجہ سے ملک ترقی کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور یہ بحران ہمارا اپنا کھڑا کیا ہوا چیلنج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہائیڈل، کوئلے، ونڈ اور دوسرے متبادل ذرائع سے نوازا ہے لیکن آج صنعت توانائی کے بحران کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے، مریض متاثر ہو رہے ہیں، تعلیم متاثر ہو رہی ہے، عام آدمی بھی توانائی بحران کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ سب خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے ہے۔ ہائیڈل کے شعبہ سے بھاری مقدار میں بجلی حاصل ہو سکتی ہے، ہم سالانہ 10 ارب ڈالر کا خام تیل درآمد کرتے ہیں اس کی بھی بچت ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی اور کرپشن بھی مسائل میں شامل ہیں ان مشکلات کا ملک کو آج سامنا ہے یہ سب ہماری اپنی وجہ سے ہیں کسی کو ان کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اچھی حکمرانی سے یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ملک کے مستقبل کی قیمت پر قومی دولت لوٹی جا رہی ہے، لوٹ کھسوٹ ہی واحد کام ہے جو آج ہو رہا ہے، اس کے نتیجہ میں پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر تباہ ہو رہا ہے۔ یہ چیلنجز ہیں جن سے قومی قیادت ہی نمٹ سکتی ہے۔ ہمارا فیصلہ ہے کہ ملک کے نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہےں اور ہم مشترکہ جدوجہد سے ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے اور صحیح معنوں میں پاکستان بنائیں گے، ہم انتھک کوششوں سے ملک کو اقبالؒ اور قائدؒ کا پاکستان بناسکتے ہیں۔ ہم گذشتہ 65 برسوں سے یہ بار بار دہرا رہے ہیں لیکن جب ہم اپنے اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں سبکی اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ جتنے بھی دنیا کے بڑے مسائل ہیں جن میں گذشتہ صدی کی جنگیں اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ ان کا اقوام نے مقابلہ کیا اور ان مشکلات سے نکل آئیں۔ طلبا، اساتذہ اور ملک کے عوام میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ تاریخ کا پہیہ تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہم مشکلات اور اندھیروں کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے اور اپنے آپ کو ایک قوم کے طور پر منوائیں گے، دنیا میں کھویا ہوا اپنا مقام واپس حاصل کر لیں گے۔ یہ سب کسی کھیل تماشہ سے نہیں ہو گا۔ یہ صرف سخت محنت اور جدوجہد سے ہی ممکن ہو گا۔ جرمنی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا لیکن ایک بھی گولی چلائے بغیر دیوار برلن گر گئی۔ مارگریٹ تھیچر جرمنی کا اتحاد نہ روک سکیں۔ جرمنی کے اتحاد میں روس کی مخالفت بھی کام نہ آئی، جرمنی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں تھی، صرف یورپ بلکہ پوری دنیا جرمنی کی طرف دیکھتی ہے۔ کشمیر حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو رول ماڈل بنانا ہو گا، یہ ہماری انتھک کوششوں سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ ایلیٹ کلاس، جنرلز، ججز، سیاستدانوں، سرمایہ داروں اور تاجروںکو سمجھنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا دانش سکولوں کا پروگرام ایک مثال ہے جس کی دوسرے بھی تقلید کر رہے ہیں۔ دانش سکول نہ صرف پاکستان کے کسی بھی گرائمر سکولوں کے مقابلہ کے ہیں بلکہ یہ لندن کے کسی بھی سکول سے کم نہیں۔ پاکستان کو دہشت گردی، لوڈشیڈنگ اور کرپشن جےسے سنگےن چیلنجز کا سامنا ہے اور فروغ تعلیم و قومی سوچ کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ حکمران بلٹ پروف گاڑیوں، اپنی عیاشیوں اور محلات کی تعمیر بند کرکے قومی خزانے کو تعلیم، صحت اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں، صرف اسی طرح ملک کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز لوگ مال بنانے میں مصروف ہیں جبکہ پنجاب حکومت پاکستان کو قائدؒ اور اقبالؒ کا ملک بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ 65 برس میں سیاسی اور غیرسیاسی حکومتیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کو جوابدہ ہیں اور عوام بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس حکومت نے ملک کی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے۔ پسماندہ تحصیلوں میں دانش سکول قائم کئے جا رہے ہیں جہاں سٹیٹ آف دی آرٹ کلاس رومز، لائبریری، لیبارٹری، کھیل کے میدان، ہاسٹل اور میس کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور یہ ملک کے اعلی معیاری تعلیمی اداروں سے بھی بہتر اور انگلینڈ کے ایڈن اور ہیرو سکولوںکے ہم پلہ ہیں۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں سو فیصد میرٹ کی پالیسی اپنائی ہے اور 35 ہزار ذہین طلبا و طالبات کو اعلی تعلیم کیلئے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے وظائف فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اس سال ذہین طلبا میں 2 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں آئندہ ماہ دانش سکول مکمل ہو جائے گا۔ صوبے میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر 75 ہزار اساتذہ بھرتی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر کیڈٹ کالج کلر کہار کے ذہین طلبا کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ دینے اور کالج کو 4 کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں مختلف کاموں کی رفتار پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی سرزنش کی ہے۔ وزیر اعلیٰ اچانک سروبہ اٹاری آشیانہ سکیم پہنچ گئے اور زیر تعمیر کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے پارک کی تعمیر میں تاخیر، سکول میں کلاسز کے اجرا اور بس سروس میںبے قاعدگی کے حوالے سے عوامی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ غریب کو چھت کے نیچے تمام ضروری سہولیات میسر آنی چاہئیں۔ آشیانہ پراجیکٹ کے معاملات فوری درست کئے جائیں۔ انہوں نے وارننگ دی کہ جو افسر یا اہلکار کام نہیں کرے گا اسے گھر بھیج دوں گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجھے آشیانہ آ کر انتہائی افسوس ہوا ہے کیونکہ یہاں معاملات صحیح ڈگر پر نہیں چل رہے اور رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو میں کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا، کام نہ کرنے والے افسروں کو عہدوں سے ہٹا دیں گے اور ان کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ روایتی بیوروکریٹک طرز عمل اب نہیں چلے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ آشیانہ سکیم میں زیر تعمیر پارک پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور اسے عیدالاضحی سے قبل مکمل کیا جائے۔ کلاسوں کا اجرا سات روز کے اندر ہو جانا چاہئے۔ رہائشیوں کی شکایات پر انہوں نے حکم دیا کہ آشیانہ کے روٹ پر فوری طور پربس چلائی جائے تاکہ انہیں تعلیمی اداروں اور دفاتر جانے کیلئے آسانی ہو۔ وزیر اعلیٰ نے حکام کو سکیورٹی کیلئے گارڈز رکھنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ آشیانہ میں پانی کا مسئلہ فوری حل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی شیخ علاﺅالدین، ایم پی اے میاں نصیر، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کمشنر لاہور ڈویژن، ڈی سی او لاہور اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف آشیانہ سکیم کے گھروں، پارک، سکول، مسجد، کمرشل ایریا اور دفتر کے علاوہ دیگر مقامات پر جاری کاموں کا ڈیڑھ گھنٹے تک پیدل جائز ہ لیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ کی موجودگی کی اطلاع پر رہائشی گھروں سے باہر نکل آئے اور وزیر اعلیٰ کو اپنے درمیان پا کر حیران رہ گئے اور مسرت کا اظہار کیا اور لوگوں میں گھل مل گئے۔ انہوں نے بچوں اور بچیوں سے بات کی۔ ایک بزرگ خاتون نے وزیر اعلیٰ کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے شہباز شریف کا رتبہ بہت بڑھایا ہے، مستقبل میں بھی شہبازشریف کی شان مزید بڑھے گی“۔ رہائشیوں نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آشیانہ کے رکے ہوئے کام اب جلد مکمل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماو سابق وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سردار مہتاب عباسی نے ملاقات کی۔ ایم این اے مرتضی جاوید عباسی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن چکی ہے۔ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ترقی کے لئے پنجاب یوتھ فیسٹیول کا انعقاد تاریخی اقدام ہے۔ اس سے نوجوانوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع مل رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان باصلاحیت ہےں، اگر انہیں کھیلوں کی سرگرمیوں کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں تو ےہ ملک و قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ اور کرپشن کے باوجود لوگوں کا پنجاب یوتھ فیسٹیول کے حوالے سے تقریب میں اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرنا ثابت کرتا ہے کہ وہ ملک سے علی بابا چالیس چوروں کو بھگا کر دم لیں گے۔ ےہ پنجاب یوتھ فیسٹیول نہیں بلکہ پاکستان فیسٹیول ہے۔ پنجاب کے نو ڈویژن کے کھلاڑیوں نے زبردست مارچ پاسٹ کیا اور اےسے منظر میں نے بہت کم دیکھے ہیں۔ ثابت ہو گیا قوم بہت سخت جان ہے۔ وہ نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں پنجاب یوتھ فیسٹیول 2012ءکے حوالے سے منعقدہ عظیم الشان تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، چیف آرگنائزر یوتھ فیسٹیول و ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود احمد خان، ارکان اسمبلی، گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے نمائندے گیریتھ ڈیوز، ان کی ٹیم اور معروف کھلاڑیوں کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔ وزیر اعلیٰ نے سٹیڈیم میں بیٹھے ہزاروں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ علی بابا چالیس چوروں کو بھگا دیں گے جس پر پورا سٹیڈیم بھگا دیں گے بھگا دیں گے کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔