قانون سے انحراف نے ہمیں بھٹکا دیا‘ ریاست آئینی دائرہ میں رہ کر عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے: چیف جسٹس

21 اکتوبر 2012
قانون سے انحراف نے ہمیں بھٹکا دیا‘ ریاست آئینی دائرہ میں رہ کر عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے: چیف جسٹس

لاہور (وقائع نگار خصوصی + این این آئی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ افراد کا اداروں سے زیادہ مضبوط ہو جانا مسائل کو جنم دیتا ہے، ریاست کو چاہئے کہ وہ آئینی دائرہ میں رہتے ہوئے عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ آئین توڑنے اور قانون کی حکمرانی سے انحراف نے ہمیں بھٹکایا، آئین کی عزت کر نے والی قومیں ہی کامیاب رہتی ہیں، سپریم کورٹ عدلیہ کی بالادستی کےلئے بہت محنت کر رہی ہے، مستقبل میں کوئی غیر دستوری اقدام نہیں ہو گا، اسلام امن کا مذہب ہے، تشدد کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں، ریاستوں کے درمیان تنازعات دہشت گردی کی بڑی وجہ ہیں، شدت پسندی سے متعلق ریاست قانون میں رہتے ہوئے کارروائی کرے، قانون قربانیاں مانگتا ہے، آئین و قانون کی پاسداری کی جائے تو دہشت گری کیلئے کوئی جگہ نہیں، تمام عالمی تنازعات پرامن طور پر حل کئے جانے چاہئےں، معاشرے میں نفاذ قانون کمزور ہو تو لوگ انصاف کےلئے تشدد پراتر آتے ہیں۔ آئین کی موجودگی میں مفادات کا ٹکراﺅ نہیں ہوتا، آزاد عدلیہ، میڈیا، سول سوسائٹی ملک میں اچھی لیڈرشپ کیلئے ضروری ہے، میڈیا اور سول سوسائٹی پالیسیوں کی شفافیت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں، پاکستان اور بھارت میں قانون کی حکمرانی کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ” قانون کی حکمرانی کے ذریعے امن کا قےام“ کے موضوع پر بےن الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ نوع انسانی اپنے ارتقا سے امن کی تلاش مےں مشغول ہے امن دراصل افراد، اداروں، رےاستوں اور قوموں کے مابےن طمانےت کی اےک کےفےت کا نام ہے امن محض تنازعہ کی غےر موجودگی نہےں بلکہ ےہ معاشرتی اصلاحات اور معاشرتی ترقی کی خاطر صحت مند اور بہترےن بےن الاقوامی تعلقات، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا نام ہے۔ بنی نوع انسان نے ہزار ہا برس تک جنگوں اور تنازعات کے تجربات کئے لےکن سب جانتے ہےں کہ اُسکا نتےجہ صرف تباہی کی صورت مےں ہی نکلتا ہے۔ وقت گواہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد محارب رےاستوں نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اےسی حکمت عملی اختےار کرنے کی حد درجے کوشش کی ہے جس سے مستقبل مےں جنگ و جدل کے دروازے بند ہو سکےں۔ عصرِ حاضر مےں بنی نوع انسان نے اتحاد اور مفےد بقائے باہمی کی اہمےت کا ادراک کر لےا ہے۔ انسانےت اِس وقت ”جامع ےگانہ سماج“ کا درجہ حاصل کرنے کی جدوجہد مےں مصروف عمل ہے اور قانون کے ذرےعے امن کا قےام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قےام امن کے قوانےن کو مستعدی اور م¶ثر طور پر استعمال کرنے کےلئے تمام سٹےک ہولڈرز کو عالمی سطح پر عمل پذےر قانون اور امن کے باہمی تفاعل کو وسےع پےرائے مےں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا عظےم مذہب اسلام ”امن“کا درس دےتا ہے۔ اسلام مےں تشدد کی گنجائش نہےں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے سورہ یونس کی آیت نمبر 25 کا ترجمہ پڑھا ”اور اﷲ سلامتی و امن کے گھرکی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سےدھی راہ کی طرف ہداےت فرماتا ہے“ چیف جسٹس نے کہاکہ قرآن پاک کی بےشتر آےات کا مقصد تصّورِ امن کو عام کرنا اور ظلم و تشدّد سے نفرت کرنا ہے۔ اِسی طرح ہمارے پےارے نبی کرےم کی قےادت مےں فتح مکہ کا ےاد گار موقع امن دوستی کی زندہ مثال ہے۔ جب مسلمانوں نے دشمنوں پر غالب ہوتے ہوئے پورے شہر کو خون کا اےک قطرہ بہائے بغےر بلا کسی جبرو ستم کے فتح کےا تھا۔ اسلامی تعلےمات حصولِ امن، بھائی چارے اور فلاح انسانی کا درس دےتی ہےں۔ مجھے ےقےن ہے کہ مذہب اسلام کی طرح دےگر مذاہب عالم بھی قےامِ امن اور تشکےلِ امن کی تعلےمات عام کرتے ہےں۔ ےہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج انسانےت فلسفہ، انسانی و مذہبی تعلےمات کی بنےادی روح کو سمجھے بغےر مذہبی و نسلی فرقہ بندےوں مےں اُلجھی پڑی ہے۔ پیچےدہ اور جڑوں تک پہنچے ہوئے جھگڑوں نے دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور دےگر برائےوں کو جنم دےا ہے جو انتہا پسندی اور بنےاد پرستی کی افزائش کرتے ہوئے عالمی امن کو مسخ کرنے کی وجہ بن رہی ہےں۔ اِن تمام مسائل سے نمٹنے کا بہترےن طرےقہ ےہ ہے کہ قانون ، امن اور تہذےب کی بنےادی تعلےمات کو بنےاد بناتے ہوئے افراد اور رےاستوں کے درمےان حائل فاصلے کو طے کےا جائے اور اُن مواقع کی تلاش کی جائے جو عالمی امن کے قےام مےں مددگار ہوں۔ قانون کی حکمرانی کے ذرےعے امن کا قےام چاہے مقامی سطح پر ہو ےا بےن الاقوامی سطح پر تنازعات اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ہمےشہ انتہائی مفےد ثابت ہوا ہے۔ مےری رائے کے مطابق تنازعات مےں الجھے ہوئے لوگوں کے مابےن حقیقی امن مصالحانہ تصفےہ کی بدولت ہی قائم کےا جا سکتا ہے۔ ارتقا کے قرآنی نظریے پر کامل ےقےن رکھتے ہوئے مےں ےقےن سے کہہ سکتا ہوں کہ فطرت کا اصل محور امن ہے فساد نہےں۔ وکلا کی اےک ذمہ داری مخصوص مقدمات مےں انصاف رسانی کے لئے عدالتوں کی اعانت کرنا بھی ہے اور آپ سے عدالتوں مےںاسی ذمہ داری کو پورا کرنے کی امےد کی جاتی ہے بجز اِس کے وکلا برادری اتنا ہی اہم اےک اور کردار بھی ادا کر سکتی ہے اور وہ ےہ ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے اصول کے تحفظ کے لئے آواز بلند کرےں۔ گذشتہ پانچ برس مےں پاکستانی وکلا نے ےہی کےا ہے وہ زندگی کے ہر شعبے مےں قانون کی حکمرانی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم نے دےکھا کہ اےک دفعہ لوگ قانون کی حکمرانی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو بہت سے لاےنحل تنازعات جن کی بابت گمان ہوتا ہے کہ وہ کبھی حل نہ ہو سکےں گے خود اپنی موت مرنا شروع ہو جاتے ہےں اور امن اےک دفعہ پھر اےک مقصد کے طور پر نظر آتا ہے۔ قومی سطح پر ہمارا سےاسی منظر نامہ فرقہ وارانہ بنےادوں پر مذہبی ادارہ سازی کا شور مچاتا نظر آتا ہے۔ بشمول اس کے ہمارے ہاں دےگر نظرےاتی، سےاسی اور معاشی مسائل ہےں۔ ےہ تنازعات صرف پاکستان مےں ہی نہےںہےں بلکہ تقرےباً تمام اقوام اور معاشروں کو اِسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ جب تک آئےن موجود رہتا ہے مفادات کا ٹکراﺅ پےدا نہےں ہوتا لےکن جےسے ہی آئےن کو غےر م¶ثر ےا کالعدم قرار دےا جاتا ہے تو تنازعات کا حل مشکل ہو جاتا ہے۔ اےسا جب ہوتا ہے جب طاقتےں اِسے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی ہےں اور ےہ زےادہ تباہ کُن ہے۔ پاکستان آج اےسے حالات کا سامنا کر رہا ہے جہاں امن اےک سُہانا خواب ہی لگتا ہے تو ہمےںسمجھ لےنا چاہئے کہ ہم اِس غمزدہ رےاست کا حصہ خود ہی نہےں بنے بلکہ ہم ماضی مےں کئے گئے گناہوں کی قےمت چُکا رہے ہےں۔ ےہ اےک ناگوار حقےقت ہے کہ عر صہ دراز سے ہم نے اپنے آئےن کے ساتھ وہ برتاﺅ نہےں کےا جس کا وہ حقدار تھا۔ وہ قومےں جو کہ آئےن کی تکرےم کرتی ہےں اور اُسے حقیقی طور پر رائج کرتی ہےں وہ چےلنجوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے اور تنازعات کا تصفےہ کرنے مےں کامےاب رہتی ہےں۔ محققےن مشترکہ طور پر اس نتےجے پر پہنچے ہےں کہ کامےابی سے آئےن توڑنے اور قانون کی حکمرانی سے انحراف نے ہمےں بھٹکاےا اور قانون کی حکمرانی کو پاکستان مےں نابود کےا ہے اور ےہی وہ حالات ہےں جنہوں نے تشدد اور لاقانونےت کی ےہ فضا قائم کی، جس نے ہمےں عرصہ دراز تک اذےت مےں مبتلا رکھا۔ 1971ءکے ناخوشگوار واقعے کو بھی ہم 1956ءاور 1962ءکے آئےن کی تحلےل سے علےحدہ نہےں کر سکتے اور اِسی طرح موجودہ فرقہ وارانہ تخرےب کاری، انتہا پسندی اور نسلی فسادات جنکا ہمےں گذشتہ دہائی سے سامنا ہے کو بھی 1977ءاور پھر 1999ءمےں 1973ءکے آئےن کی تباہی سے مکمل طور پر غےر منسلک نہےں کر سکتے۔ اِسی طرح آئےنی شقوں سے اور بہت سے انحرافات جو کہ آج بھی جاری ہےں نے بھی قومی ترقی کی راہ مےں روڑے اٹکائے ہےں۔ ماضی مےں آئےنی انحرافات اور ناتواں قانون کی حکمرانی نے ہی موجودہ دور مےں ملک کے کچھ حصوں مےں عسکری اور تخرےب کارانہ نظرےات کو جنم دےا جہاں پر ابھی عسکرےت پسندی نے جنم لےنا شروع کےا جو کہ بعد ازاں حکومتی رٹ کے اجرا مےں بھی مزاحم ہو سکتی ہے لہٰذا حتمی طور پر رےاست کو ان عسکری تنظےموں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے لےکن ضروری ہے کہ کارروائی آئےن کے دائرہ کار مےں رہتے ہوئے کی جائے۔ ےہ مےرا ذاتی خےال ہے کہ اگر آئےن اور قانون کی پاسداری اِن کی بنےادی رُوح کے مطابق کی جائے تو تخرےب کاری کی کوئی گنجائش ہی نہےں رہتی اور تمام دوسرے مسائل کا بھی خاطر خواہ حل نکل آتا ہے۔ موجودہ اعلیٰ عدلےہ، قانون کی حکمرانی اور کرپشن کے نظام کو جڑوں سے ختم کرنے کی جدوجہد مےں مصروف ہے تاکہ اےک شفاف اور قانون پر مبنی فضا تشکےل دی جا سکے جہاں سرماےہ کاری بڑھے اور سرماےہ کار کو ملکی نظام پر مکمل اعتبار ہو تاہم پاکستان کی عدالت عظمٰی کے فی زمانہ اصولِ قانون سے ےہ حقےقت عےاں ہے ہم نے ناصرف حکومت کے مشکوک معاہدوں سے اربوں روپے برآمد کرائے بلکہ قابلےت پر مبنی بہترےن اسلوب حکمرانی شفاف پالےسےوں اور معاشی سرگرمےوں کے شفاف انعقادکی بابت واضح ہداےات جاری کی ہےں۔ بہت سے اےسے عوامل ہےں جو کہ قانون کی طاقت کو ازلی امن کے قےام کے لئے سازگار سمجھتے ہےں جن مےں سے اےک اہم عنصر مےڈےا بھی ہے جو اےک محافظ کے طور پر عوامی مفاد مےں بننے والی پالےسےوں اور اِن کے اجرا پر بڑے پےمانے پر نظر رکھ سکتا ہے اور ےہ بات بہت خوش کُن ہے کہ پاکستانی مےڈےا پرنٹ ےا الےکٹرانک دونوں ہی گذشتہ بہت سے برسوں سے اپنا ےہ کردار خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہےں۔ گذشتہ دہائی مےں مُجھے اور دےگر سپرےم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کو آئےنی اصولِ قانون کو اےک نئی جہت دےنے کا موقع ملا۔پاکستان کی سب سے بڑی آئےنی عدالت کا جج ہونے کے ناطے مےں اپنے تجربے کی بنےاد پر کہہ سکتا ہوں کہ جب آپ قانون کی خاطر کھڑے ہونگے تو قانون بھی آپ کو ماےوس نہےںکرے گا۔ قانون قربانےاں مانگتا ہے اور معاشرے کے کسی دوسرے شعبے سے بڑ ھ کر ججوں اور وکلا کو ےہ قربانےاں دےنی پڑےں گی۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ بار کے صدر یٰسین آزاد نے کہا کہ پاکستان کے نظام کی بہتری مین عدلیہ کا کردار قابل تعریف ہے۔ شروع سے ہی عدالتیں یہی کردار ادا کرتیں تو ہم اس قدر مسائل کا شکار نہ ہوتے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے سلسلے میں اہم ثابت ہو گا، حکومت کو مدت پوری کرنی چاہئے، جن سیاستدانوں نے پیسے لئے انہیں سیاست میں رہنے کا حق نہیں۔ انتظامیہ کو عدالتی فیصلوں پر عمل کرنا ہی پڑے گا جیسا این آر او کیس میں ہوا۔ کرپشن روکنے میں عدلیہ کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ بار کے صدر پراوین ایچ پاریکھ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے وفود کے تبادلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ نسل اور قوم کی بنیاد پر تفریق سب سے بڑی لاقانونیت ہے۔ سفر اور ملازمتوں میں مسلمانوں کے ساتھ تفریق کا مظاہرہ درست نہیں۔ ان بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو عدالتیں ہی قانون کے مطابق یقینی بنا سکتی ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ بھارت اور پاکستان کی عدالتیں دونوں ممالک کے قیدیوں سے متعلق ان کی بھرپور دادرسی کر رہی ہیں۔ کانفرنس کے پہلے سیشن میں جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس شیخ عظمت سعید، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا بندیال سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور وکلا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کراچی سے وقائع نگار کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ ججوں کی ڈیوٹی انصاف فراہم کرنا ہے انہیں ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے کہ وہ دل لگا کر اپنے کام پر توجہ دے سکیں۔ کراچی میں روز بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔ بدامنی پر قابوپانے کے لئے قانون پر عمل درآمد ناگزیر ہے، کراچی میں سپریم کورٹ کے ججز کے لئے تعمیر شدہ انیکسی بلڈنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ججز ریسٹ ہاﺅس اور سٹاف فلیٹس کا افتتاح چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری نے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی زیادہ ججز کراچی آتے تھے۔ رہائش کا مسئلہ لاحق رہتا تھا اب وہ حل ہو گیا حکومت سندھ نے منصوبے کے لئے بروقت فنڈز فراہم کئے۔ بدامنی پر قابو پانے کے لئے قانون پر عمل درآمد ناگزیر ہے، کسی کو بھی قانون اور بندوق ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ تقریب میں سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ کے ججز اور بار ایسوسی ایشن کے عہدیدران نے بھی شرکت کی۔
لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے جس کے لئے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے، عوام کو فوری اور سستے انصاف کے لئے بار اور بنچ کے ذریعے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ آئینی حقوق کے ساتھ لوگوں کے لئے قانونی مدد کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں جوڈیشل ایکٹوزم میں توازن کی ضرورت ہے۔ عدالتیں عوام کے روزمرہ زیرالتواءمقدمات پر زیادہ توجہ دیں، اب قومی اور عالمی سطح پر سائبر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے م¶ثر قانون نہیں نہ ہی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اس اہم مسئلے پر اعلیٰ عدالتوں کو نوٹس لینا چاہئے تاکہ م¶ثر قانون سازی ہو سکے۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بار ایسوسی ایشنز کے زیراہتمام ایسی کانفرنسز کا انعقاد ہو تاکہ بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ کانفرنس نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور بلوچستان اور کراچی جیسے اہم مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید کہا گیا کہ عوام کو فوری اور سستے انصاف کے لئے بار اور بنچ کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ”امن بذریعہ قانون “ کے موضوع پر منعقد 2 روزہ بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس گذشتہ روز ختم ہو گئی جس میں پاکستان سمیت بھارت کے وکلا کے سو رکنی وفد نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں اور وکلا نے خطاب کیا۔
کانفرنس/ اعلامیہ