سپریم کورٹ موجودہ کرپٹ ٹولے کے خلاف نوٹس کیوں نہیں لیتی: ممتاز بھٹو

21 اکتوبر 2012

لاڑکانہ (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر اعلیٰ سندھ سردار ممتاز علی خان بھٹو نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہے، سیاستدانوں کو 22 سال قبل الیکشن کیلئے دی گئی رقم کی تحقیقات کرنے کا حکم مناسب ہے، یہ بھی واضح ہے کہ یہ پیسے سیاسی پارٹیوںکو چندہ کے طور پر دئیے گئے، پیپلز پارٹی کے سوا سیاسی پارٹیاں نہ پہلے اور نہ ہی اب چندے کے بغیر چلتی ہیں، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 22 سال پرانے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے لیکن موجودہ کرپٹ حکمرانوں کے خلاف سپریم کورٹ نوٹس کیوں نہیں لیتی؟ کارکنوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ ممتاز بھٹو نے کہا کہ زرداری کے خلاف کرپشن کے دو سوئس مقدمات تو ثابت ہو چکے ہیں جن پر اسے سزا ملنے کی بجائے ملک کا صدر بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خود زرداری کےخلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔ بے نظیر کے قاتلوں کے خلاف درخواست اگر خونی رشتہ نہ ہونے کی بنا نہیں سنی جاتی تو پھر میں اس سے کہوں گا کہ وہ یہ درخواست میری طرف سے دائر کرے۔