ادویات کی برآمد کے کنسائنمنٹس کی چیکنگ کو لازمی قرار دینے پر احتجاج

21 اکتوبر 2012

کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے ادویات کی برآمد کے کنسائنمنٹس کو کسٹمز اور اینٹی نارکوٹیکس کی کلیئرنس اور چیکنگ کو لازمی قرار دئیے جانے پر سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ادویات کی برآمد تباہ و برباد ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ گرمیوں کے دوران آم کی برآمد پر بھی یہی شرائط عائد کی گئی تھیں جس کی وجہ سے آم کی برآمد میں نمایاں کمی ہو گئی کیونکہ برآمدی کنسائنمنٹس جو ڈیپ فریز کنٹینرز پر مشتمل ہوتے تھے چیکنگ کے بہانے گھنٹوں کھول کر چھوڑ دئیے جاتے تھے جس کی وجہ سے ایک طرف تو روانگی میں تاخیر تو دوسری طرف آم خراب ہو جاتا تھا اب یہی قواعد ادویات کی برآمد پر بھی عائد کر دئیے گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ برآمد کی جانے والی ادویات کینسر اور دیگر امراض کی انتہائی حساس نوعیت کی ادویات ہوتی ہیں جنہیں مخصوص درجہ حرارت اور ماحول میں رکھا اور برآمد کیا جاتا ہے زیادہ درجہ حرارت اور روشنی کی وجہ سے نہ صرف ان کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں بلکہ بعض ادویات کے اثرات میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اینٹی نارکوٹیکس فورس انہیں کھول کر چیک کرنے کے بجائے اسکیننگ کے ذریعے چیک کرے۔