شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی قومی ترانے کا ورلڈ ریکارڈ

21 اکتوبر 2012

پاکستان تو وجود میں ہی اس لئے آیا تھا کہ مسلمان ایک الگ ریاست میں ترقی کرنے کے تمام مواقع مساوی طورو پر حاصل کر سکیں۔ خوشی کی بات ہے کہ پاکستانیوں نے ہر شعبہ میں تمام مشکلات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا سکہ منوایا ۔ تعلیم کے شعبہ میں پاکستانی ہونہار طلبہ نے ورلڈ لیول پر ہونے والے اے اور او لیول کے امتحانات میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرکے ثابت کر دیا کہ دنیا میں پاکستانی طلبہ کا ”آئی کیو“ سب سے زیادہ ہے۔
 گزشتہ روز نیشنل سٹیڈیم لاہور میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے ہونہار طلبہ اور جوانوں نے ایک ساتھ پاکستانی قومی ترانہ یک آواز ہو کر گایا او دنیا بھر میں اس قومی ترانے کی گونج اس لئے سنی گئی کہ دنیا بھر میں ریکارڈ مرتب کرنے والی معتبر کتاب گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ایک پوری ٹیم اس ریکارڈ کو وجود میں آتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور پوری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ اس سے پہلے انڈیا نے پندرہ ہزار کم تعداد میں قومی ترانہ ایک ساتھ گانے کا ریکارڈ جو اپنے نام کیا تھا اسے گراﺅنڈ میں موجود پندرہ ہزار سے زیادہ اتھلیٹ اور پچاس ہزار سے زیادہ شائقین نے بیک آواز پاکستانی قومی ترانہ گا کر ختم کر دیا۔ اس موقع پر گراﺅنڈ اور پنڈال میں موجود طلبہ اور شائقین کا جوش وخروش قابل دید اور لائق تحسین تھا۔
حفیظ جالندھری نے جب اس قومی ترانے کو تخلیق کیا تھا تو یقیناً اسے یقین کامل تھا کہ جس طرح پاکستانی پرچم دنیا کے پرچموں میں منفرد ہے اسی طرح سے اس کا لکھا ہوا قومی ترانہ بھی دنیا کے قومی ترانوں میں منفرد مقام کا حامل ہو گا اور یہ بات سچ ثابت ہوئی۔ آج درحقیقت وزیراعلیٰ پنجاب نے درست بات کی ہے کہ یہ پاکستان کا ریکارڈ ہے اور یہ پنجاب نے نہیں پاکستانیوں نے بنایا ہے۔
جس وقت پاکستانی قومی ترانہ یک آواز ہو کر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے لئے گایا جا رہا تھا تو اسے پاکستان کے تقریباً تمام چینلز نے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا۔ سب سے اچھی اور بھرپور کوریج وقت ٹی وی نے دی لیکن حیرت کی بات ہے کہ پنجاب سے اربوں روپے پی ٹی وی بجلی کے بلوں کے ذریعہ اکھٹے کرتا ہے اور کوئی سرکاری حیثیت نہ ہونے کے باوجود بلاول کا خطاب براہ راست دکھایا جاتا ہے، زرداری کی خبر کو مسلسل پانچ بار آگے پیچھے چلایا جاتا ہے لیکن پاکستان کے قومی ترانے کی لائیو کوریج نہ کرنے کا اس کے پاس کوئی جواز نہیں ۔ اب پنجاب حکومت کو چاہئے کہ اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں آواز بلند کرکے عام پاکستانیوں کو پینتیس روپے ماہانہ کے جگا ٹی وی لائسنس سے نجات دلائے۔