صیہونی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش ناکام: اسرائیل نے فلسطینیوں کی امداد کے لئے بحری قافلے کو پھر غزہ جانے سے روک دیا

21 اکتوبر 2012

مقبوضہ بےت المقدس (اےن اےن آئی) اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے حامی سر گرم عناصر اور پارلیمانی ارکان کے اس بحری جہاز کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے جو اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کرنے کی کوشش میں غزہ کے ساحلی علاقے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ یہ ایک پر امن آپریشن تھا۔ اےسٹےلے نامی اس بحری جہاز پر فن لینڈ کا پرچم آویزاں ہے اسے جنوبی اسرائیل کی اشدود بندرگاہ پر روک لیا۔ اس طرح غزہ کے علاقے پر لگی سخت بحری پابندی کو ختم کروانے کی یہ تازہ ترین کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہے۔ دریں اثنا ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہاکہ ہماری بحریہ کے فوجیوں نے 53 میٹر طویل بحری جہاز اےسٹےلے کو بغیر کسی تشدد کے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ مسافروں کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت بھی نہیں کی گئی۔ بحری جہاز میں 17 مسافر سوار تھے، جن میں یورپ کے پانچ ارکان پارلیمان اور کینیڈا کا ایک سابق قانون ساز بھی شامل تھا۔ اس قافلے میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر لے جائے جانے والے امدادی سامان سے لدا ایک جہاز بھی شامل تھا۔ بحری قایلے کے منتظمین کے بقول انہوں نے امن کی علامت سمجھی جانے والی 30 فاختائیں بھی ساتھ رکھی ہوئی تھیں، جنہیں جہاز کے مسافر غزہ پہنچ کر آزاد کر دینا چاہتے تھے۔