بلوچستان مسئلے کا حل صوبے میں نئے الیکشن میں ہی مضمر ہے

21 اکتوبر 2012
بلوچستان مسئلے کا حل صوبے میں نئے الیکشن میں ہی مضمر ہے

گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کیخلاف صوبائی حکومت کو نظرثانی کیلئے اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیلئے مجھے کوئی ٹاسک نہیں دیا گیا‘ امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ صوبے میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال کا اعتراف ہے ۔ وہ گورنر ہاﺅس میں صحافیوں کے وفد سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد صوبے میں کسی قسم کی تبدیلی سے متعلق بات درست نہیں۔ اس وقت صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے ۔ کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں مکمل حکومتی ڈھانچہ موجود ہے ‘ اس کو بروئے کار لا کر حالات کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاق نے این ایف سی ایوارڈ کے بعد ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اگر اس کو ہم استعمال میں نہیں لاتے تو یہ ہماری کمزوری ہے ۔ ہر ایم پی اے کو سالانہ تیس کروڑ روپے ملتے ہیں‘ لیکن گراﺅنڈ پر ترقیاتی کام نظر نہیں آرہے۔ کوئٹہ شہر کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں‘ جہاں گزشتہ پانچ سال کے دوران کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ہے ۔ اگر یہاں کے آٹھ ایم پی ایز‘ دو ایم این ایز‘ اور دو سینیٹرز مل کر سالانہ تیس کروڑ روپے خرچ کرتے تو شہر کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔
 پاکستان کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے اور عالمی اہمیت کے حامل صوبے میں امن کی بحالی اور حکومتی رٹ قائم کرنے کی اولین ذمہ دار صوبائی حکومت ہے ۔ اسکی ناکامی کے بعد مرکز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو تا ہے ۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں صوبائی اور مرکزی حکومت اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور ناکام ثابت ہوئی ہیں جس کے باعث غیرملکی قوتوں کو بلوچستان میں اپنے مفادات کا کھیل کھیلنے کا موقع ملا ہے ۔ شاہ زین بگٹی اور اخترمینگل سمیت متعدد بلوچ رہنما بلوچستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت سے انکار کرتے ہیں۔ ذوالفقار مگسی نے یہ بات ذرا گھما پھرا کر کی ہے کہ اگر امریکہ انڈیا یا دیگر ممالک کی مداخلت کی بات ہوتی ہے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ادارے اور حکومت کیا کر رہے ہیں؟ بھارت کو پسندیدہ ملک کس نے قرار دیا ہے ؟ ہم غیروں کو مداخلت کا الزام دیتے ہیں تو ہم نے بھی وہاں مداخلت کی ہے ۔
جہاں امریکی کانگرس میں بلوچستان کی آزادی کیلئے قراردادیں پیش ہونا بھی مداخلت کے دائرے میں آتا ہے ‘ وہاں صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمان ملک بھارت کا نام لئے بغیر بلوچستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کا بار بار ذکر بھی کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کو بلوچستان کی بدامنی میں ”را“ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی فراہم کئے تھے جس پر منموہن سنگھ نے ”را“ سے جواب طلب کیا ‘ نہ بلوچستان میں بدامنی میں کمی ہوئی لیکن آخر میں دشمن عناصر کو اپنی سرزمین پر دہشت پھیلانے سے روکنا ہماری ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا کام ہے ۔ افسوس کہ اس معاملے میں انکی کارروائی سے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید بگڑے ہیں۔
گورنر بلوچستان کی طرف سے کہنا کہ ہم نے بھی وہاں مداخلت کی ہے ۔ غلطی کا درست اعتراف ہےبلوچستان میں یقیناً خفیہ اداروں کو کھلی چھوٹ دی گئی اور اسکے نتیجہ میں محب وطن بلوچ عوام کے جذبات مجروح اور مشتعل ہوئے۔ گورنر بلوچستان کہتے ہیں کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیلئے انہیں کوئی ٹاسک نہیں دیا گیا۔ تعجب ہے کہ صوبے کا آئینی سربراہ بلوچوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ٹاسک ملنے کی بات کرتا ہے ۔ آپ کو گورنر بنا دیا گیا تو یہ ٹاسک خودبخود آپ کو مل گیا۔ اپنے صوبے کیلئے بنیادی کام بھی کسی کے ایماءیا ہدایت پر کرنا ہے تو آپ گورنر کس لئے ہیں؟البتہ گورنر بلوچستان کی کچھ باتیں توجہ طلب بھی ہیں۔ کوئٹہ ایک اہم شہر اور صوبائی دارالحکومت بھی ہے ‘ اگر اس شہر سے تعلق رکھنے والے بھی ترقیاتی فنڈز ہڑپ کر جاتے ہیں تو پسماندہ علاقوں کے عوامی نمائندگان کے احتساب سے ووٹر بالکل ہی قاصر ہیں۔ فنڈز کا آڈٹ بھی حکومت کو ہی کرنا ہوتا ہے لیکن حکومت نے ہی عوامی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کئے جانیوالے فنڈز کو سیاسی رشوت بنا ڈالا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں 60 سے زائد ایم پی اےز میں سے صرف ایک حکومت سے باہر ہے ۔ وہ بھی وزیراعلیٰ کی ذاتی مخاصمت کے باعث۔
 پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد صدر آصف علی زرداری نے بلوچوں سے معافی مانگی‘ معاملہ اس سے کہیں زیادہ توجہ کا متقاضی تھا لیکن بات زبانی معافی سے آگے نہ بڑھ سکی۔ مرکزی حکومت نے بلوچستان کیلئے حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا‘ یہ بھی عوامی نمائندوں کے ترقیاتی فنڈز کی طرح چند پیٹوں اور جیبوں میں چلا گیا۔ بلوچ بدستور محرومیوں کا شکار رہے۔ جلتی پر تیل کا کام ٹارگٹ کلنگ اور عام لوگوں کو اغواءکرکے لاپتہ کر دینے والے واقعات نے ڈالا۔ اغواءکی وارداتوں‘ ٹارگٹ کلنگ‘ بدامنی اور لاقانونیت کی آگ میں جلتے بلوچستان پر حکمرانوں کی بے نیازی و بے اعتنائی دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے نوٹس لیا۔ اسکی ہدایات و احکامات کو دوران سماعت خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوںنے سنجیدہ نہیں لیا۔ ٹارگٹ کلنگ رکی‘ نہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں خاطرخواہ کامیابی ہو سکی۔ سپریم کورٹ نے ایک موقع پر کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے باعث صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی اور حکومت بھی جا سکتی ہے ۔ اس وارننگ پر بھی کان نہ دھرے گئے تو بالآخر سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو نااہل قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات کا حکم دیا۔ بلوچستان کے حالات پر قابو پانے کا بہترین طریقہ تازہ انتخابات ہیں لیکن سپریم کورٹ کا ایک منتخب حکومت‘ چاہے جتنی ہی نااہل ہو‘ کو نااہل قرار دینا ایک نازک قانونی معاملہ ہے ۔ حکومت کو فیصلے کیخلاف نظرثانی کا حق حاصل ہے ۔ اگر حکومتی حلقے واقعی بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے میں سنجیدہ ہیں تو صوبے میں نئے انتخابات کرا دیئے جائیں‘ نظرثانی کی اپیل کرنی ہے تو نظرثانی کی مدت کے آخری دن کا انتظار کرنے کے بجائے یہ اپیل فوری طور پر کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے بلوچستان کے مسئلے کا بہترین حل تجویز کر دیا‘ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی کہہ چکے ہیں کہ حکومت انکے تحفظات دور کر دے تو وہ بیرون ملک بیٹھی تمام بلوچ قیادت کو پاکستان لے آئینگے۔ پوری بلوچ قیادت الیکشن میں حصہ لیتی ہے جس کی گارنٹی طلال بگٹی نے دی ہے تو یقیناً بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے ۔ بیرونی مداخلت کو ختم کرنے کا بھی یہی بہترین طریقہ ہے ۔ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو این آر او کے فیصلے کی طرح لٹکانے کے بجائے اس پر فوری طور پر عمل کرتے ہوئے عام انتخابات سے قبل بلوچستان میں انتخابات کرا دے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...