ایمنسٹی انٹرنیشنل ٹیم کی حریت رہنماﺅں سے ملاقاتیں

21 اکتوبر 2012

ایک خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ٹیم نے حریت رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں اور حریت رہنماﺅں نے اسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں‘ گمنام قبروں‘ دوران حراست گمشدگیوں اور ریاستی مظالم سے آگاہ کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 22 سال سے کالے قوانین رائج ہیں اور ریاستی جبر و تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ علاقے میں ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں جن کو محض شک کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کرنے‘ گولی مارنے اور املاک کو بارود سے اڑا دینے کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ انکی موجودگی میں انسانی اور اخلاقی قدروں کا کوئی احترام نہیں رہا‘ عام لوگوں کو بھارت کیخلاف سمجھ کر اور بعض کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں اور بعض کو اسلام کی حمایت میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک اہم فریق ہے اور اس کا اپنا اصولی موقف ہے‘ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق اسکی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔ قائد کی وفات کے بعد پاکستان میں برسر اقتدار آنیوالے حکمران پاکستان کی شاہ رگ کشمیر تو بھارت کے قبضے سے چھڑانے کی کوئی ٹھوس اور جامع منصوبہ بندی نہ کرسکے‘ جس کا نتیجہ ہے کہ مقبوضہ علاقے کے کشمیریوں کو تاحال ان کا حق خودارادیت نہ مل سکا اور انہیں تنگ آکر آخرکار بھارت کے جبری قبضے کیخلاف بندوق اٹھانی پڑی۔ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نہیں‘ مذاکرات کرنے اور دوستی بھائی چارے کے بلند بانگ دعوﺅں کے باوجود پوری دنیا کے سامنے کشمیر کے متنازعہ علاقے کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کا راگ الاپنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ اسکی یہی دوغلی اور دوہری پالیسی علاقے میں پائیدار امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حریت رہنماﺅں کی ایمنسٹی انٹرنیشنل ٹیم سے ملاقات کی اہمیت اور افادیت بجا‘ لیکن یہ مسئلہ صرف ملاقاتوں سے حل نہیں ہو گا‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے اپنا وزن حریت رہنماﺅں کے پلڑے میں ڈالنا ہو گا۔