بھارتی آبی دہشت گردی میں اضافہ

21 اکتوبر 2012

بھارت نے دریائے چناب کا پانی روک لیا ہے جس کی وجہ سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد کم ہو کر 12774 کیوسک رہ گئی۔ دریائے چناب میں مسلسل پانی کی آمد کم ہو رہی ہے۔ دریائے چناب اور دریائے جہلم کا پانی روکنا بھارت کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ جب چاہتا ہے پاکستان کے حصے کا پانی روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے وافر مقدار میں چھوڑ کر سیلاب کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ مقبوضہ وادی میں وہ ڈیم تو بنا ہی رہا ہے ساتھ ہی اس نے مقبوضہ کشمیر میں بہنے والے 33 دریاﺅں کو مربوط کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ اس سے پاکستان کے حصے کے پانی کے آخری قطرے کو بھی روکنے پر دسترس حاصل کر لے گا۔ اس میں ہمارے آمر اور جمہوری حکمران اور سیاستدان بھی ذمہ دار ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق انہوں نے ملک میں ڈیم بنائے ہوتے تو بھارت کو ڈیم بنانے کا جواز نہ ملتا۔ اب بھی وقت ہے کہ کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے کو دفن نہ کیا جائے اس کی تعمیر کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ صرف بھاشا ڈیم کی تعمیر کا لولی پوپ دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بھارت کی آبی دہشت گردی روکنے کے لئے طاقت کے ساتھ ساتھ عقل و دانش بھی استعمال کرنی چاہئے۔