سکولوں کو تحفظ دیا جائے

21 اکتوبر 2012

ہیومن رائٹس واچ نے حکومت پاکستان سے رابطہ کیا ہے کہ وہ طلبہ‘ اساتذہ اور سکولوں کی سیکورٹی یقینی بنائے‘ حملے روکنے کیلئے ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچانا ہو گا۔ طالبان سکولوں پر حملے نہ کریں‘ پاکستان کے کچھ علاقے نہایت خطرناک ہیں۔ رواں سال میں کل 96 سکولوں پر حملے کئے گئے۔
جو لوگ سکولوں پر حملہ کرتے ہیں اور وہ واقعتاً مسلمان نہیں۔دین اسلام ہرگز یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان اداروں کو تباہ کریں‘ جہاں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسے جس قدر عام کیا جائیگا‘ دنیا میں امن و آشتی اور بہترین اخلاق کا دور دورہ ہوگا۔ تعلیم ایک اجڈ انسان کو ہشت پہلو ہیرے کی مانند تراش دیتی ہے اور بالخصوص آج ہمارے ہاں مہذب افراد کی کمی کا باعث ہی تعلیم کی کمی ہے۔ حدیث نبوی ہے: ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے“۔ ایک متفق علیہ حدیث اور قرآن کی آیات کی خلاف ورزی ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔ اسلامی تاریخ میں تو حالت جنگ میں بھی قیدیوں کو مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے بدلے رہائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ چہ جائیکہ آج خود کو مسلمان کہنے والے‘ بلکہ درحقیقت مفاد پرست مذہب کے پیروکار سکولوں پر حملہ کرکے معصوم مسلمان بچوں کا خون کر دیں‘ انکی درس گاہیں نیست و نابود کردیں‘ اگر ایک سال کے دوران ان سکولوں پر حملوں کی تعداد 96 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ چند برسوں میں یہاں سے علم اٹھ جائیگا۔ بچوں کی تعلیم ہی سے مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے اس لئے حملہ آوروں کو یہ حملے روک دینے چاہئیں اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ سکولوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے کیونکہ ہماری شرح خواندگی جو نیپال سے بھی نیچے چلی گئی ہے‘ اس میں اضافہ ہو اور پاکستان خواندگی کی شرح میں اوپر کی صف میں شمار کیا جائے ۔