اتوار ‘ 4 ذی الحج 1433ھ 21 اکتوبر2012 ئ

21 اکتوبر 2012

نادراآفس صفدرآباد کا کمال ہے‘ خاتون کے شوہر کا نام خالدہ پروین درج کردیا۔ بیوی کا نام بھی خالدہ پروین ہے۔
انسان خطا کا پتلا ہے‘ مگر نادرا چونکہ انسان نہیں ایک سرکاری ادارہ ہے‘ اس لئے یہ محاورہ بھی اس پر فٹ نہیں بیٹھتا‘ ظاہر ہے کہ اس بیوی در بیوی شناختی کارڈ کی تصحیح تو ہو جائیگی‘ مگر ....
اک صفدر آباد کی پروین ہی نہیں شاکی
اس ملک میں نادرا کے ڈسے دیوانے ہزاروں ہیں
یہ تو اچھا ہوا کہ شوہر کا نام نادرا پروین نہیں لکھ دیا‘ وگرنہ نادرا کی بھی تبدیلی¿ جنس کا سانحہ رونما ہو جاتا۔ شناختی کارڈ کے بغیر بندے کی حالت یہ ہوتی ہے جیسے اسکے سینے میں دل ہی نہیں رہا۔ بہرحال نادرا اپنے لچھن درست کرے‘ پروین نام کا ستارہ بھی آسمان پر پریشان ہو گا کہ نادرا نے اسکی کایا ہی پلٹ دی۔ نادرا کے اوپر بھی ایک نادرا ہونا ضروری ہے تاکہ کم از کم مذکر مو¿نث کی تمیز تو گڈمڈ نہ ہو۔ نادرا جہاں اکثر بنیادی غلطیاں کر جاتا ہے‘ وہاں اس کا بننے کا دورانیہ بھی شیطان کی آنت ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے میں تیار ہو سکتا ہے کہ یہ آئی ٹی کا دور ہے اور کمپیوٹر برق رفتار ہیں۔نادرا میں بھی سفارش چلتی ہے‘ واقف کاروں اثر داروں کے کارڈ یا انکے ”لگتے لانوں“ کے کارڈ بنتے دیر نہیں لگتی اور وی آئی پی پروٹوکول اسکے علاوہ ہے۔ یہ نہیں کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز‘ بلکہ ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں ایاز ہی ایاز۔
٭....٭....٭....٭
لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے‘ لگتا ہے کہ حکومت کالاباغ ڈیم کے معاملہ پر سنجیدہ ہی نہیں۔
ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ حکومت کالاباغ ڈیم کے معاملے پر بے حد سنجیدہ ہے کیونکہ اس پر اسکی سیاست کی چھت کھڑی ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ یہ ڈیم چونکہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے اس لئے اسے کوئی بھی ایسی حکومت بنانے کی ہمت نہیں کریگی جس کے حقِ حکمرانی کا امریکہ بہادر سے دور نزدیک کا کوئی بھی واسطہ ہو گا۔ اب اور کسی سے کیا کہیں کالاباغ ڈیم سے ہی کہتے ہیں....
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
بہرحال یہ امر باعث اطمینان ہے کہ لاہور ہائیکورٹ ہی کالاباغ ڈیم کے ساتھ انصاف کریگی اور اس پر سیاسی گدی چلانے والوں کو معاف نہیں کریگی‘ جہاں اپنوں کیخلاف اپریشن کے امکانات ہوں‘ جہاں قومی مفادات نظرانداز اور ڈالروں کی برسات ہو‘ جہاں ان دریاﺅں کو دشمن کے ہاتھ بیچ دیا گیا ہو‘ جو ہمارے ڈیم بھرتے ہیں‘ جہاں شہ رگ کو بنیئے کا اٹوٹ انگ مان لیا گیا ہو‘ جہاں سے جہاد کا لفظ عسکریت سے لےکر عوامی سطح تک نکال باہر کردیا گیا ہو‘ وہاں کالاباغ ڈیم نہیں‘ صرف سبز باغ ڈیم بن سکتاہے اور ہرچند کہ ہم اس میں ہیں‘ پر نہیں ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے حصے میں یہ کامیابی لکھ دی گئی ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم بنوا کر رہے گی۔ ستاروں کی چال یہی کہتی ہے۔
٭....٭....٭....٭
یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں‘ ثابت ہو گیا کہ 90ءکے الیکشن چرائے گئے تھے۔‘ ہمارے مو¿قف کی تصدیق ہوئی۔
گیلانی صاحب پر پہلے یہ ثابت ہوا کہ وہ بحیثیت وزیراعظم نااہل تھے‘ اب اسکے بعد انکی گواہی قبول کرنا‘ شاید زیادہ ثقہ نہ ہو‘ البتہ انکی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ 90ءکے الیکشن پر شب خون مارا گیا‘ اور مجرم دھر لئے گئے۔ یہ کوشش پیپلزپارٹی ہی کا راستہ روکنے کیلئے کی گئی تھی تو ظاہر ہے کسی کیلئے تو راستہ کھولنے کیلئے ہی کی گئی ہو گی۔ ابھی تو اس فیصلے کی تفصیلات اور کھل کر سامنے آئینگی اور کچھ لوگ راتوں کو نیند میں کہیں گے....
ابتدائے عشق میں ہم ساری رات جاگے
اللہ جانے کیا ہو گا آگے‘ مولا جانے کیا ہو گا آگے
یوسف جب چاہ یوسف میں تھے‘ تو انہوں نے بڑے خواب دیکھے تھے‘ مگر یہ خواب ایک نمبر یوسفؑ کے خوابوں سے مختلف رہے کہ خواب کے خواب ہی رہے۔ اب تو میراثی والی بات ہے کہ بیٹا چاہے سارا پنڈ چودھری بن جائے‘ تیرے سر ”پگ“ نہیں رکھی جائیگی۔ وہ زرداری سے بوسیلہ¿ موجودہ وزیراعظم ملاقات بھی کر چکے‘ پر انہوں نے ایوان صدر میں قیام کی پیشکش ٹھکرا دی۔ اب وہ ایک بار پھر چاہِ یوسف میں ہیں‘ وہ سید زادے ہیں‘ کوئی کرامت دکھائیں اور ایوان صدر کے مجاور کو بھی چاہِ یوسف میں کھینچ لائیں۔ پھر زنانِ مصر کنویں کے کنارے آکر جھانکیں گی‘ تالیاں پیٹیں گی کہ چاہِ یوسف میں عزیزِ مصر بھی ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے اور دونوں مل کر گا رہے ہیں۔
آچنڑوں رل یار پیلوں پکیاں نی وے
٭....٭....٭....٭
میاں نواز شریف فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو مسلم لیگ (ن) ٹریک ریکارڈ کے مطابق قوم کی خدمت کریگی۔
ٹریک ریکارڈ تو یہ ہے....
سڑکے سڑکے جاندی ایں مٹیارے نی
کنڈا چبھا مرے پیر بانکیے نارے نی
جب میاں صاحب کو اللہ نے مواقع دیئے تھے تو اس ملک میں انکی خوش قسمتی سے حالات بگڑے نہ تھے‘ انہوں نے ایک سڑک بنائی تاکہ وہ خود ڈرائیو کرتے ہوئے ہر ہفتے لاہور اس طرح آئیں کہ انکے پیٹ کا پانی بھی نہ ہلے۔ آج یہ سڑک قوم کیلئے ایک ایسیٹ ہے اور خلق خدا اس پر رسم شریفا نہ ادا کر رہی ہے اور دعا دیتی ہے‘ میاں نواز شریف کہ چلو ایک سڑک تو بنا گئے جس پر سب کے ووٹروں کی موٹریں رواں دواں ہیں۔ ویسے وہ اگر ٹریک ریکارڈ سے ہٹ کر اب کی بار چلیں تو یہ ملک چل پڑےگا کیونکہ مسلم لیگ نون کا جواب بھلا کون لا سکتا ہے کہ....ع ”جھانجھر پھبدی ناں مٹیار بناں“
ٹریک ریکارڈ میں سارے پرانے گیت ہوتے ہیں‘ اب تو وقت ہے‘ اذانِ بلالی کا کہ وہ ڈوبتی نیّا کو ماجھی بن کر پار لگانے کا کوئی چارہ کریں۔ لوگ جو ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں‘ مذبذب ہیں اور انہیں سارے دکاندار رَلے ہوئے محسوس ہوتے ہیں مگر ایک بات ہے کہ میاں دی ہٹی سے پھر بھی سستے سودے کی توقع کی جا سکتی ہے کیونکہ قائد و اقبال کی جماعت کی لاج رکھنے کا بھی سوال ہے۔ دیکھئے وہ اس کا کیا جواب لاتے ہیں۔