قومی سلامتی کے تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں

21 اکتوبر 2012

ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کاایک مثبت اور دوسرا منفی پہلو ہے۔ مثبت پہلویہ ہے کہ ملالہ تعلیم نسواں سے متعلق انسانی حقوق کی علامت بن گئی ہے خصوصÉ ہمارے کچھ قبائیلی علاقوں اور افغانستان میں خواتین کو تعلیم نہ دینا ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔چونکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں خواتین کے حقوق کیلئے تحریکیں چل رہی ہیںاس لئے ملالہ پر حملہ ان کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ملالہ پر حملہ قابل مذمت ہے اس لئے کہ ہمارے معاشرے میں ہماری بچیاں تعلیم حاصل کرکے اپنا مقام حاصل کرتی ہیںاور ملالہ پر حملے سے یہ تحریک متاثر ہوتی ہے۔اسلئے یہ احتجاج جو عالمی سطح پرجاری ہے‘ پاکستانی قوم اسکے ساتھ ہے لیکن اس واقعے کے پس منظر میں ایک واضح سازش نظر آتی ہے‘ مثلÉ : 1994ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو نے سوات‘ دیر اور ‘ باجوڑ میں مولانا صوفی محمد کا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا کہ ان علاقوں میں شرعی نظام قائم ہوگا اور شرعی عدالتیں بھی قائم ہونگی لیکن جب پرویز مشرف بر سر اقتدار آئے اور وہاں کے لوگوں نے اس منصوبے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تو پرویز مشرف نے جواب دیا کہ ” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“ اور ان کےخلاف لشکر کشی کی گئی جس کے سبب تحریک نفاذ شریعت زور پکڑ گئی۔ مولانا صوفی محمد مرکزی راہنما تھے ‘انکے داماد مولانا فضل اللہ نے سوات کی قیادت سنبھالی لیکن حکومت کی طرف سے اس تحریک کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی گئی جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔مولانا فضل اللہ افغانستان میں ہیں اور وہیں سے پاکستان کے خلاف کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دسمبر 2004ءمیں پرویز مشرف پر دوحملے ہوئے تو اس میں ملوث 5افراد کو پھانسی ہوئی ۔ ان میں سے کسی کا بھی تعلق جنوبی وزیرستان سے نہیں تھا لیکن امریکیوں نے کہا کہ پرویز مشرف پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ وزیرستان میں ہے اور پرویز مشرف جنوبی وزیرستان پر فوج لے کر چڑھ دوڑے۔ سات آٹھ سو بے گناہ لوگوں کو مار ڈالا۔قبائلیوں نے بھی بدلہ لیا اور اسکے بعدفوج اور قبائیلیوں کے درمیان معاہدہ ہوا‘ اس وقت جنوبی وزیرستان کے قبائل کے رہنما مولوی نیک محمد تھے لیکن حکومت کے ساتھ معاہدے کے دوسرے ہی دن امریکہ نے ڈرون حملہ کر کے انہیںمار ڈالا ۔ اسکے بعد بھی معاہدے ہوتے رہے مگر ہر معاہدے کا یہی حشر ہواکہ ہمارے دوست نما دشمن ان معاہدوں کو سبوتاژ کرتے رہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وزیرستان کے قبائلیوں کےساتھ اس وقت سے لے کراب تک ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ان پر ہوائی جہاز بمباری کرتے ہیں‘ گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپ خانہ استعمال ہوتے ہیں اور قبائیلی‘ خود کش حملوں ‘ بم دھماکوں اور دوسرے طریقو ں سے جواب دیتے ہیں۔ یعنی ہم پاکستانی ایک دوسرے کو مار رہے ہیںجو ایک سازش ہے اور اس سازش کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ نے بھارت کو ہر طرح کی مدد فراہم کر کے خطے میں جاسوسی کا ایک بڑا نیٹ ورک قائم کرنے کا موقع دیا ہے۔اس نیٹ ورک کو سی آئی اے‘ موساد‘ جرمن انٹیلی جنس‘ ایم آئی6 اور نیٹو ممالک کے تمام اتحادیوں کی مدد حاصل ہے۔ اس فتنے کا تفصیلی جائزہ میں نے2007 ءمیں اپنے ایک مضمون میں پیش کیا تھاجو کئی قومی اخبارات میں شائع ہو ا۔
خرابی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری بعض تنظیموں کو مثلÉسپاہ صحابہ‘ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کوپاکستان نے کالعدم قرار دیا ہے جن کے کچھ لوگوں نے فرار ہو کر پاک افغان سرحد پر اپنے ڈیرے جمالئے اور کچھ نے افغانستان میں جا کر اپنا مرکز قائم کر لیا ہے اور وہاں پر قائم بھارت کے جاسوسی نیٹ ورک سے رابطے استوار کر لئے ہیں۔اس طرح سازشوں پر سازشیں شروع ہو گئیں اور آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ ہمارے دوست نما دشمن جو افغانستان میں آزادی کی جنگ کو کچلنا چاہتے ہیں جو پچھلے 32 سال سے جاری ہے لیکن ناکام ہیں۔اگرچہ ہم نے 2001ءمیں افغانیوں کےساتھ بے وفائی کی اور امریکہ کے ساتھ مل کر ان کےخلاف جنگ میں شامل ہوئے لیکن جنگ آزادی کے ان افغان مجاہدین اور طالبان نے آج تک پاکستان کےخلاف نہ آواز اٹھائی اور نہ ہی ایک گولی چلائی ہے۔ 1979ءمیں روس کی مداخلت کے بعد سے امریکہ کی مداخلت کےخلاف بھی مزاحمت کا مرکز یہی سرحدی علاقہ رہاہے جہاں پختون قوم جن کی آبادی ڈھائی کروڑ پاکستانی اور ڈیڑھ کروڑ افغانیوں پر مشتمل ہے وہ یہ تحریک چلا رہے ہیں۔اس تحریک کو دہشت گردی کا نام دیا گیا ہے جس کےخلاف امریکہ اوراسکے اتحادی جنگ ہار چکے ہیں اوراپنی کمین گاہوں میں دبکے بیٹھے ہیں‘ فرار کا راستہ ڈھونڈھ رہے ہیں لیکن ملتا دکھائی نہیں دیتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہماری فوج نے 2009ءسے لے کر اب تک بے شمار قربانیاں دی ہیں اور سوات‘ دیر‘ باجوڑ‘ وزیرستان اور بلوچستان میں حکومتی رٹ قائم کی لیکن حکومت نے آگے بڑھ کران علاقوں میںنہ تو سول انتظامیہ قائم کی نہ عدالتیں اور نہ ہی ان علاقوں میں کوئی سیاسی عمل شروع کیاجو حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی اور ملالہ پر حملے جیسے واقعات ہو رہے ہیں۔ اصل ذمہ داری حکومت کی ہے کہ ان علاقوں میں امن قائم کرے لیکن وہ ہر مسئلے کا حل لشکر کشی میں سمجھتی ہے اور ہمارے دشمن یہی چاہتے ہیں۔ یہ واقعے کا دوسرا رخ ہے جو نہ صرف منفی ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔یہ سارا فتنہ اس لئے ہے کہ افغانستان میں قابض فوجیں گذشتہ بارہ سال سے پڑوسی ممالک‘ خصوصاً پاکستان کےخلاف سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہونے کو ہے کیونکہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور بدحواسی کے عالم میں افغانستان سے نکلنے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے۔اب اسکی تمام تر کوششوں کا مقصد افغان عوام اور طالبان میں تفریق پیدا کرناہے تاکہ ماضی کی طرح افغان عوام خانہ جنگی کی کیفیت میں مبتلا رہیں لیکن اب افغانی عوام اور طالبان انکے جھانسے میں نہیں آئینگے اور باہم اتفاق رائے سے تمام طبقوں کیلئے قابل قبول قومی حکومت تشکیل دینے کے بعد امن و امان قائم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے۔
ہمارا قومی سیاسی منظر نامہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ طے پا چکا ہے کہ نگران حکومت بنے گی جو اگلے سال فروری یا مارچ تک قائم ہو جائےگی اور ساتھ ہی یہ شوراٹھ رہا ہے کہ انتخابات کو ایک سال کیلئے ملتوی کر دیا جائے تاکہ یہی پارلیمنٹ زرداری صاحب کو اگلی مدت کیلئے صدر منتخب کر لے‘ لیکن یہ غلط اور ناقابل عمل ہے۔اس حوالے سے جو منظر سامنے آتا دکھائی دے رہاہے وہ بہت اہم ہے۔ گذشتہ چار پانچ ہفتوں سے حکومت اور اپوزیشن کے سیاستدان لندن اور واشنگٹن کے دورے کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح کبھی افغانستان میں ملاقاتیں ہوئیں‘ کبھی پیرس ‘ دوبئی‘لندن اور واشنگٹن میں۔ دراصل یہ ساری دوڑ دھوپ اس سیاسی سیٹ اپ کیلئے ہے جو انتخابات کے بعد سامنے آنےوالا ہے۔ اس نئے سیاسی سیٹ اپ کی صورت کچھ اس طرح ہوگی کہ زرداری صاحب کو پیغام مل گیا ہے کہ انہوںنے پانچ سال حکومت کر لی۔ اب اگلی حکومت انکی نہیں ہوگی۔ یہ پیغام ملتے ہی وہ واشنگٹن بھی گئے‘ لندن بھی اور کراچی پہنچ کر ایم کیو ایم کے ساتھ لوکل گورنمنٹ کے معاملے پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اگر مرکز میں حکومت نہیں ہو گی تو صوبے میں ہی ہاتھ مضبوط کر لئے جائیں۔اس طرح انہوں نے اس امر کو یقینی بنالیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت بنائینگے کیونکہ یہ پیپلز پارٹی کی بھی ضرورت ہے اور ایم کیو ایم کی بھی۔دوسری طرف اپوزیشن کے رابطے بھی سعودی عرب سے ترکی اور لندن سے امریکہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان سے بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اب تمہاری باری ہے کہ مرکز اور صوبہ پنجاب‘ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں تمہاری حکومت ہوگی۔ اس طرح مرکزی حکومت اور سندھ میں اپوزیشن کی حکومت کی ڈورلندں اور واشنگٹن والوں کے ہی ہاتھ میں رہے گی۔
یہ نیا سیٹ اپ اس وقت بن رہا ہے جبکہ اہم علاقائی تزویراتی تبدیلیاں بھی روپذیر ہیں۔ مثلاً جنرل کیانی روس گئے اور روس کے صدر یہاں آرہے ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس تبدیلی سے خوفزدہ ہونے اور خوش فہمیاں پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان میں شکست کھا چکے ہیںاور تمام تر سازشوں کے باوجود عراق میںبھی انکے پاﺅں نہیں جمے تو امریکہ نے اپنا رخ ایشیا پیسیفک کی طرف کرلیا ہے جہاں بھارت‘ جاپان‘ نیوزی لینڈ ‘ آسٹریلیااور دوسرے ممالک کےساتھ مل کر چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کےخلاف بند باندھنا مقصود ہے۔ نتیجتاً افغانستان اور عراق کے خطے میں خلا پیدا ہوا ہے جسے پر کرنے کیلئے چین اور روس سامنے آئے ہیں۔ چین شنگھائی تعاون کونسل کے ذریعے اور روس اس کا حصہ بن کر معاملات میں دلچسپی لے رہے ہےں اور ان علاقوں میں اپنے مفادات کا تحفظ کرےنگے۔یہ تبدیلی پاکستان اور افغانستان کیلئے بہتر ہے کیونکہ ہماری کمزوریوں کے سبب امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے عالم اسلام کےخلاف جو ظلم و بربریت قائم کر رکھی ہے اب یہ سلسلہ رک جائےگا۔ اب پاکستان‘ ایران اور افغانستان کو مل کر سوچنا ہوگا کہ ان حالات میں ہمارا کیا کردار ہے۔ ماضی کے کردار کو کس طرح تبدیل کرنا ہے اور نئے کردار کی بنیاد ڈالنا ضروری ہے تاکہ ان تینوں ممالک کے اتحاد وسلامتی کےخلاف کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ یہ تصور میں نے 1988میں تزویراتی گہرائی (Strategic Depth)کے نام سے پیش کیا تھا‘جس کے خلاف مغربی دانشوروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مغرب زدہ دانشوروں نے شور مچایا اور اسے غلط انداز میں پیش کر کے لوگوں کے خیالات کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس میں شک نہیں کہ جب یہ تینوں ممالک متحد ہونگے تو ان کےخلاف کسی کو سازش کرنے کی جرائت نہ ہوگی۔
ہمارا ملک بیرونی سازشوں کےساتھ ساتھ اندرونی سیاسی کشمکش اوربد انتظامی جیسے معاملات میں گھرا ہوا ہے لیکن ہماری قوم ان حالات کا ہمت اور جوانمردی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ہماری پارلیمنٹ بھی موجود ہے ‘ عدلیہ آزاد ہے اور انصاف کے تقاضے پورے ہو رہے ہیں‘ افواج پاکستان چوکس ہیں‘ اپنی ذمہ داریا ں پوری کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہمارے میڈیا نے قوم کو بیدار کئے رکھا ہے۔ آزاد الیکشن کمیشن‘ جمہوری صبح نو کی امید ہے ۔یہ بڑی خوش آئند علامتیں ہےں اور قوم کے حوصلے بلند رکھنے کا سبب ہیں۔اب ہمارے ارباب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ قومی مفادات کی خاطر ایسے اقدامات کریں جس سے ہم دنیا میں ایک باوقار قوم کی حیثیت سے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں۔