فلپائن کی تقسیم .... نئے اسلامی ملک منڈانو کا ظہور

21 اکتوبر 2012
فلپائن کی تقسیم .... نئے اسلامی ملک منڈانو کا ظہور

پیر کے دن فلپائن کی مرکزی حکومت اور مسلم اکثریتی صوبے" منڈانو" کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت سن 2016 تک "منڈانو" کے صوبے کو ایک الگ مسلم ریاست کی حیثیت حاصل ہو جائےگی۔ فلپائن میں آباد مسلمانوں نے 40سال سے زائد عرصے تک اپنے حقوق کی جنگ لڑی اور بالآخر اب انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
منڈانو کی آزادی کے اس معاہدے پر فلپائن کے صدارتی محل میں ہونےوالی تقریب میں دستخط ہوئے۔ معاہدے پر فلپائنی صدر Benigno Aquinoاور اسلامک لبریشن فرنٹ"مورو اسلامی لبریشن آرمی" کے قائد مراد ابراہیم نے دستخط کیے۔معاہدے کے تحت مورو اسلامی لبریشن آرمی اپنی مسلح جد وجہد ترک کر دےگی۔ نئی ریاست کی اپنی پارلیمنٹ ہو گئی اور وہ عوام پر ٹیکس لگانے کی مجاز ہو گئی۔ سول مقدمات میں مسلمانوں پر اسلامی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائےگا۔
الگ ریاست کی اس جدوجہد میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ فلپائن میں الگ مسلم ریاست کیلئے ہونےوالے مذاکرات میں ملائیشیا کی حکومت نے بڑی مدد کی ۔ اس حوالے سے حتمی مذاکرات بھی ملائیشیا ہی میںہوئے۔ فلپائن کے صدارتی محل میں ہونےوالے اس معاہدے میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ناجک رزاق بھی موجود تھے۔
معاہدے کے تحت مورو آرمی کے بارہ ہزار سے زائد گوریلے آئندہ ہتھیار نہیں اٹھائینگے۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران منڈانو کے صوبے میں مسلم اکثریت کم کرنے کیلئے فلپائنی عیسائیوں نے یہاں آباد ہونے کی کوششیں کیں لیکن مورو لبریشن آرمی کی جدو جہد کے آگے انکی پیش نہ چل سکی۔اعداد وشمار کےمطابق منڈانو کے مسلم اکثریتی صوبے میں اس وقت 90 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔
تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے "منڈانو" کا علاقہ اپنے الگ تشخص کا حامل رہا ہے۔ 15ویں صدی میں یہاں مسلمانوں کی عملداری شروع ہوئی ۔ 1565 عیسوی میں سپین نے جب فلپائن پر قبضہ کیا تو اس وقت بھی "منڈانو"کے علاقے میں مسلمانوں کی اکثریتی تھے۔اس دور میں بھی فلپائن پر سپینی حکمرانوں نے جو کہ عیسائی مذہب کے پیرورکار تھے بڑی کوشش کی کہ "منڈانو" کو زیر نگیں کر سکیں لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں نے فلپائن پر قبضہ کیا تو منڈانو کو بھی زیر کرنے کی کوشش کی لیکن منڈانو کے مسلمانوں نے گوریلا طرز کی جنگ شروع کر کے جاپانیوں کے عزائم کو پورا نہ ہونے دیا۔"اسلامک لبریشن فرنٹ" کی مسلسل جدوجہد کی وجہ سے 1970کی دہائی میں منڈانو کو علاقائی خود مختار حکومت نصیب ہوئی۔ یکم اگست 1989کو ایک قانون کے تحت پہلی بار اسے ایک مسلم خود مختار علاقہ قرار دیا گیا اور اس خطے کا نام "ARMM" "Autonomous Region of Muslim Midanao" رکھا گیا اور اسی صوبے کا دارلحکومت" کوٹاباٹو" کا شہر قرار پایا۔منڈانو کا مسلم صوبہ ابھی پوری طرح مستحکم نہ ہوا تھا کہ 14 اکتوبر 2008 کو فلپائن کی سپریم کورٹ نے اسکی تشکیل کو سات کے مقابلے میں آٹھ ججز کی اکثریت سے "قانون اور آئین کےخلاف"قرار دےدیا۔اس پس منظر میں منڈانو اور فلپائن کی انتظامیہ اور عوام کے درمیان ایک نہ ختم ہونیوالے چپقلش شروع ہو گئی جس سے علاقائی امن کو خطرے لاحق ہونے لگے۔مورو لبریشن آرمی نے اس فیصلے کے بعد گوریلا جنگ میں اضافہ کر دیا جس سے فلپائن کی معیشت اور امن و امان تہہ و بالا ہونے لگا اور بالآخر وہ دن آ گیا کہ فلپائن کی حکومت کو یہ دانش مندانہ فیصلہ کرنا پڑا۔ فلپائن کی معیشت میں منڈانو کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس صوبے میں سونے اور تانبے کے وسیع معدنی ذخائر ہیں۔ منڈانو مائی گیری کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حاصل ہے۔ فلپائن کی Paintاور Cosmeticsکی صنعت کا مرکز بھی یہی علاقہ ہے۔
فلپائن جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم ملک ہے۔ جمہوریہ فلپائن جنوب مشرقی ایشیامشرق بعید کا ایک اہم ملک ہے۔ مغربی بحر الکاہل میں واقع سات ہزار ایک سو جزیروں پر مشتمل یہ ملک ملائیشیا، انڈونیشیا اور تائیوان کا سمندری ہمسایہ ہے۔ فلپائن کے زیادہ تر جزیروں میں آتش فشان پہاڑ ہیں۔ ملک کا آدھا حصہ گھنے جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ فلپائن کی آبادی تقریباً پونے سات کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ دارالحکومت منیلا میں 20لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں۔سرکاری زبان انگریزی، ہسپانوی اور تگالوگ فلپینو ہے۔ اس کے علاوہ 87مقامی زبانیں بھی ہیں۔ انتظامی اعتبار سے فلپائن کے 73صوبے ہیں۔سرکاری مذہب رومن کتھولک ہے۔ پورے ملک میں مسلمانوں کی آبادی پانچ فیصد ہے جبکہ صوبہ منڈانو میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ فلپائن کی تاریخ بڑی قدیم ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ڈھائی لاکھ سال پہلے برف کے زمانے میں چین اور ملایا سے لوگ آ کر یہاں آباد ہوئے۔5ویں صدی میں ہندوستان اور دور دراز سے تاجر ان جزائر میں آنے لگے اور یہاں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا جس کا نام فلپینو تہذیب رکھا گیا۔ جدید فلپائن نے چار جولائی 1946 کو آزادی حاصل کی ۔ یہاں امریکی طرز کا صدارتی نظام قائم ہے جبکہ پارلیمنٹ دو ایوان پر مشتمل ہے۔
فلپائن کی جغرافیائی ، تاریخی اور سیاسی صورتحال کے پس منظر میں فلپائن کے مسلمانوں کو ایک الگ ریاست دینے کا معاہدہ یقینی اعتبار سے فلپائن میں امن کے قیام میں معاون ثابت ہوگا ۔ اس معاہدے کے حوالے سے ایک اہم قابل غور پہلو یہ ضرور ہے کہ منڈانو کی آزاد ریاست 2016 میں عمل میں آئےگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس دوران کوئی بین الاقوامی سازش یا علاقائی مفادات اس معاہدے کے عمل در آمد میں نئی درفنطنیاں نکال کر اس نئی مسلم ریاست کے عمل کو تکمیل پذیر ہونے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں ۔ ایک نظریاتی اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو بین الاقومی طور پر ایک احسن قدم قرار دنیا بھی ضروری ہے، بقول اقبال....ع
نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر
ہمیں اس نئے ملک کی انتظامیہ سے خصوصی تعلقات قائم کرنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لینی چاہیے۔ پاکستان ایک عالمی جوہری طاقت ہے۔ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے پاکستان بھی انشاءاللہ جلد اپنے اندرونی مسائل کو حل کر لے گا تو اسے جنوب مشرقی ایشیا پر بھی اپنے اثرات قائم رکھنے ہیں۔ ہماری وزارت خارنہ اس جانب یقینا خصوصی توجہ دے رہی ہو گی۔ پاکستانی تاجروں، سرمایہ کاروں اور میڈیا کے افراد کو فلپائن اور منڈانو کی جانب ابھی سے توجہ دینی چاہیے تاکہ وہاں کی آئندہ نسلوں میں پاکستان کیلئے خصوصی ہمدردی اوریگانگت پیدا ہو۔