توحید کا سفر

21 اکتوبر 2012

اسکے لب و لہجہ میں پورا اعتماد تھا‘ آنکھوں میں اعتماد کی چمک اور چہرے پر دلفریب رعنائی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ:
”مکہ میں رہنے والے کو بھی اس وقت تک حج بیت اللہ کی سعادت حاصل نہیں ہوتی جب تک رب کعبہ کی رضا اور حکم نہ ہو!“ حج کی سعادت کا براہِ راست تزکیہ نفس‘ خشوع و خضوع‘ سخاوت‘ نرمی و صلح جوئی اور صبر و تحمل سے تعلق ہے۔ پورے عالم سے فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ اور مدینہ منور پہنچتے ہیں‘ صرف اسلامی ممالک ہی سے نہیں غیر اسلامی ممالک کے مسلمان بھی سلطنت انسانیت‘ فلاح و رفاہ کی سلطنت اور برکت والی سرزمین پر پہنچتے ہیں۔ حج کے موقع پر حجاج کرام اور سارے عالم کی میزبانی کی سعادت آل سعودکا مقدر ہوتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مکہ مکرمہ رحمت اور بخشش کی امید کے آنسوﺅں سے تر‘ محبتوں سے معطر‘ رحمتوں سے مالا مال اور دعاﺅں سے باکمال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کی بہاریں‘ مہک اور روحانی کیفیات جنت الفردوس کے کھلے دریچوں سے فیضیاب دکھائی دیتی ہیں۔ فرش سے عرش تک اور عرش سے فرش تک ایک عجیب سا مواصلاتی رابطہ قائم دکھائی دیتا ہے یوں جیسے ایک شہر میں رب العالمین نے اپنا ہاتھ شفقت کے ساتھ احرام میں ملبوس لوگوں کے سر پر رکھ دیا ہو۔ یوں جیسے دوسرے شہر میں رحمت اللعالمین کا تبسم اور امت کی بخشش کی دعاﺅں کی بازگشت آنکھوں میں نور اور کانوں میں رس گھول رہا ہو۔ ان احساسات اور جذبات کا باقاعدہ جاگتا ہوا منظر دکھائی دیتا ہے۔
 حج کا عظیم الشان اجتماع امت مسلمہ کی اجتماعیت کا ثبوت ہے‘ اکمل نبی کی امت کی عظمت کا یہ منہ بولتا ثبوت چیلنجوں کے اس دور میں تقاضا کرتا ہے کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کےلئے۔
امت مسلمہ نے ایران‘ عراق‘ افغانستان اور پاکستان کی خانہ جنگیوں اور دہشت گردیوں سے بھی سبق نہ سیکھا تو آنےوالی نسلیں آج کے حکمرانوں کی حکمرانی اور قیادت کو اسلامی تاریخ کا سیاہ باب گردانیں گی۔ مسلمان کی اپنی اقوام متحدہ ہونی چاہئے‘ جو ظلم کو ظلم کہے اور انصاف پر مبنی ہو جو امن کی حقیقی علمبردار ہو اور بناﺅ کی اصل مثال ہو۔ امن کے قیام اور عالمی سطح پر مساوات کے پرچار کیلئے قرآن و سنت کی شاہراہ پر چلنا ہو گا۔ مسلمان اگر اکٹھے ہوں‘ او آئی سی متحرک اور جاندار ہو تو یہ پورے عالم کیلئے امن کا باعث ہو گی‘ کیونکہ مسلمان شورش کو پسند نہیں کرتا۔ خطبہ حجة الوداع جو کہ ایک عظیم الشان منشور انسانیت ہے‘ اس میں محسن انسانیت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ”لوگو! خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سب مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ تمہارے غلام تمہارے غلام ہیں‘ تم جو کچھ کھاتے ہو انہیں بھی کھلاﺅ اور جو خود پہنو انہیں بھی پہناﺅ“ اسی منشور میں آپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ”اے لوگو! میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے‘ میں تمہارے اندر ایک نعمت چھوڑے جا رہا ہوں‘ اگر مضبوطی سے اسے تھامے رہو گے تو گمراہ نہ ہو گے اور وہ نعمت کتاب اللہ اور میری سنت ہے“۔
حج کے موقع پر ہمیشہ امام کعبہ امت مسلمہ کو چیلنجوں سے آگاہ کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اس میں امت مسلمہ کی رفاہ ہے اور فلاح بھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام دشمن عناصر کو ہمارے اجتماعات کی بہت تکلیف ہوتی ہے۔ جب انکے پاس جواباً نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ کوئی مخالفت کا جواز تو پھر وہ ہمارے نبی کے خاکے بنانے اور عجیب و غریب شرانگیز فلمیں بنانے کی بات کرتے ہیں۔ کبھی قرآن حکیم کو جلانے کے عمل اور اعلان سے اپنی تسلی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان ناپاک ارادوں سے خود ہی ذلیل و رسوا ہوتے ہیں لیکن دشمن کی وہ چال جس سے وہ بہت خوش ہے وہ یہ کہ اس نے ہمارے ہی اندر سے میر جعفر اور میر صادق ڈھونڈ رکھے ہیں کو کبھی دہشت گردی ور کہیں خانہ جنگیوں سے ملت اسلامیہ کو بدنام کرتے ہیں۔ ان کی شناخت اور سدباب ضروری ہے۔ ملت اسلامیہ کو اور اس کے حکمرانوں کو غفلت کی نیند سے جاگنا ہو گا اور پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں قرآن و سنت کے نفاذ کو عمل میں لانا ہو گا۔
چند دنوں بعد حج ہے اور عیدالاضحی بھی اور میں اللہ کریم کے خصوصی فضل سے مکہ مکرمہ میں ہوں۔ راقم 16 اکتوبر کو سفر کے حج پر نکلا اور اس سفر کا مجھے 10 اکتوبر تک خود بھی معلوم نہ تھا۔ اچانک رب کعبہ نے بلا لیا.... اچانک!!! پھر تیاری بھی اس نے کرائی۔ بات کا آغاز اس سے ہوا تھا کہ ”مکہ میں رہنے والے کو بھی اس وقت تک حج بیت اللہ کی سعادت حاصل نہیں ہوتی جب تک رب کعبہ کی رضا اور حکم نہ ہو!“ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ رب کعبہ مجھے اپنے گھر کی زیارت اور محسن انسانیت کے مدینہ میں اس طرح اور اتنی جلدی بلا لیں گے۔
یہ رب کی شان ہے کہ وہ گنہگار کا بھی اس طرح خیال رکھے۔ رب کی بارگاہ میں میری درخواست ہو گی کہ اللہ امت مسلمہ پر فضل فرما دے۔ قارئین آپ میری استقامت کی دعا کیجئے گا۔ رب کعبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی شاہراہ پر گامزن کر دے۔ یہود و نصاریٰ کی سازشوں سے اللہ محفوظ رکھے۔ اسلام کے اس قلعہ، اس پاکستان کو اللہ تعالیٰ حفظ و امان میں رکھے.... رب کعبہ سب کو اپنے گھر بیت اللہ کی زیارت کی سعادت سے نوازے، قارئین!
عیدالاضحی پر ہمیں سفید پوشوں اور غریبوں کا خیال رکھنا ہے، یہ نہیں بھولنا.... لبیک اللھم لبیک! حج ہو کہ عیدالاضحی یہ محض اسلامی رسومات نہیں پیغام، سعادت اور رویوں کے متشکل ہونے کا ذریعہ ہیں۔