ہزاروں طلبا و طالبات کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جائے

21 اکتوبر 2012

مکرمی ! قائداعظم نے طلبہ کو معمارانِ قوم قرار دے کر ہمارا سر ہمیشہ کے لئے فخر سے بلند کر دیا مگر بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہمارا سر جھکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ آپ کے توسط سے محکمہ تعلیم/ وزیر تعلیم پنجاب / چیف جسٹس پنجاب اور خصوصاً چیئرمین لاہور بورڈ کی توجہ طلبہ و طالبات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں : 0۔ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی انٹرمیڈیٹ پارٹ I کے نتائج اور پرچوں کی جانچ کا طریق کار ہمارے لئے بے شمار مسائل کا باعث بنا ہے۔ 0۔ پرچوں کی غیر معیاری چیکنگ / مارکنگ اور لاہور بورڈ سے باہر سے مارکنگ لاہور بورڈ کی مقامی مارکنگ کے معیار کے مطابق نہیں ہوئی۔ 0۔ لاہور بورڈ کی انتظامیہ نے MCQs کی مارکنگ بعض پرائیویٹ کپمیوٹر فرموں سے کروائی ہے جن کی کوئی وقعت نہیں۔ 0۔ بورڈ نے ری چیکنگ فی پرچہ 700/- روپے ہزاروں طلبا و طالبات سے کروڑوں روپے تو وصول کر لئے ہیں لیکن ری چیکنگ کے دوران طلبا و طالبات سے دوبارہ ناانصافی اور زیادتی کی جا رہی ہے جو کچھ اس طرح ہے : چیکنگ کے دوران اگر کوئی سوال یا اس کا جُز ”اَن مارکڈ“ ہوتا ہے تو بجائے اسے دوبارہ ایگزامینر سے مارک کروایا جائے بورڈ کے ملازمین اسے خود ہی کراس کر کے طلبہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ڈرا دھمکا کے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ MCQs کی مارک شدہ شیٹس نہیں دکھائی جاتیں جن میں بے شمار خامیاں موجود ہوتی ہیں۔ کئی جوابات کو ممتحین نے درست کر کے (ٹِک) کیا ہوتا ہے مگر آخر میں مارکس زیرو دئیے گئے ہیں۔ اس تفاوت کو دور نہیں کیا جاتا۔ چیئرمین لاہور بورڈ سے ہماری اجتماعی درخواست ہے کہ وہ ہمارے مسائل کے حل کے لئے خصوصی توجہ کریں کیونکہ وہ اپنی اچھی شہرت اور دیانتداری کی وجہ سے لاہور سیکنڈری بورڈ کے چیئرمین تعینات ہوئے ہیں اور بورڈ ملازمین کو ہدایات جاری کریں کہ وہ طلبا و طالبات کے ساتھ نہ صرف اپنا رویہ درست کریں بلکہ ان کے ساتھ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے مرتکب نہ ہوں۔ (متعدد لائق طلبا و طالبات ۔ جملہ کالجز لاہور)