پاکستان ریلوے کے فنڈ ٹیچرز کے مطالبات

21 اکتوبر 2012

مکرمی ! ہم ریلوے پاکستان کے تحت چلنے والے سکولز اور کالجز میں عرصہ دس سال سے پڑھا رہے ہیں۔ ہمارے لئے اصطلاح میں فنڈ ٹیچرز کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ ریلوے کے ملازم نہیں ہیں آپ کو تنخواہ ڈائریکٹ ریلوے کے فنڈ سے دی جاتی ہے۔ سکولز ٹیچرز بی اے بی ایڈ/ ایم اے بی ایڈ/ ایم ایس سی بی ایڈ میں ان کی تنخواہ 7500، 8500 اور 9000 روپے ہے۔ کالج ٹیچرز ایم ایس سی بی ایڈ/ ایم اے بی ایڈ میں ان کی تنخواہ دس ہزار روپے ہے۔ چار سال سے ایک روپے کا انکریمنٹ نہیں ملا بلکہ 89 دنوں کے بعد ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، کام لیا جاتا ہے اور اس دن کی اُجرت نہیں دی جاتی جبکہ مستقل ریلوے ٹیچرز 40 سے 70 ہزار روپے تک تنحواہ وصول کر رہے ہیں اور ان کو ریلوے پاس، بڑی بڑی رہائش گاہیں میڈیکل الا¶نس اور ٹرانسپورٹ الا¶نس وغیرہ کی سہولیات بھی حاصل ہیں۔ ہمیں کسی بات کی سزا دی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے 12 اکتوبر 2012ءکو ایک خبر کے مطابق ایل ڈی اے کے 13 ملازمین کو 1996ءسے مستقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہماری تمام ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ہمیں 2008ءسے مستقل کیا جائے اور تمام واجبات ادا کئے جائیں۔ ( پاکستان ریلوے فنڈ ٹیچرز)