خادم پنجاب سے ایک خادم تعلیم کا شکوہ

21 اکتوبر 2012

مکرمی! نوائے وقت نظریہ پاکستان کا علمبردار روزنامہ ہے۔ پاکستان جن مقاصد کے حصول کے لئے معرض وجود میں آیا ان کا حصول ایک جہد مسلسل کا متقاضی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم سب پاکستان کو بھول کر فقط اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ دانشمندری عنقا ہے اور بحث و مباحثہ عروج پر ہے۔ پاکستان کو عظیم بنانے کے لئے ہر شعبے میں انقلاب لانا ہو گا لیکن زمینی حقائق کہہ رہے ہیں کہ یہ قوم ابھی تک سو رہی ہے۔ راقم الحروف تعلیمی شعبے میں انقلاب کا علم تھام کر نکلا ہے اور اس محاذ پر تنہا ایک انقلاب کے لئے برسرپیکار ہے۔ تعلیمی انقلاب کے لئے تحقیق، ایک بہترین نصاب کی تیاری اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہیں اور میں انہی شعبوں میں کام کر رہا ہوں۔ افسوس تعلیم کا نعرہ لگانے والے سب رسمی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ خادم پنجاب سے امید تھی کہ وہ تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے انقلابی کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کریں گے لیکن ان کا تعلیمی انقلاب بھی لیپ ٹاپ کی تقسیم جیسے سیاسی ایجنڈوں کی نذر ہو چکا۔ میرے خیال میں خادم پنجاب، ان کی پارٹی اور حکومت پنجاب کے پاس تعلیمی انقلاب کے لئے کوئی منصوبہ نہیں اور میرے پاس نہ صرف یہ کہ ایک منصوبہ ہے بلکہ میں اس منصوبے پر کافی کام بھی کر چکا ہوں۔ اگر کوئی بھی حکومت، ادارہ یا فرد پاکستان میں تعلیمی شعبے میں ایک نقلابی تبدیل کے لئے میرے اس منصوبے کے متعلق معلومات چاہتا ہو یا اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے میرا ساتھ دینے کا حوصلہ رکھتا ہو وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ اگر خادم پنجاب تعلیم کے شعبے میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں لا سکے تو ان کی خدمت میں یہی عرض ہے۔    تم نے چاہا ہی نہیں چاہنے والوں کی طرح
(ظفر حبیب سلیمی - سپر سکول سمندری 0302 7007471)