خواجہ ناظم الدین

21 اکتوبر 2012

خواجہ ناظم الدین نوابانِ ڈھاکہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ متحدہ بنگال کے پرانے سیاسی کارکنوں اور مسلم لیگ کے چوٹی کے کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔
1894ءمیں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد انگلینڈ گئے اور کیمرج میں پڑھتے رہے وطن واپس آ کر مقامی سیاست میں قدم رکھا۔
1922ءڈھاکہ میونسپل کمیٹی کے صدر بنے۔ 1929ءڈھاکہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے بھی رکن رہے۔ 1929ءبنگال کی کابینہ میں لے لیا گیا اور وزیر تعلیم بنے۔ 1930ءانہوں نے بنگال میں لازمی ابتدائی تعلیم کا بل پیش کر دیا۔ 1937ءمیں 1935ءکے ایکٹ کی رو سے جب مختلف صوبوں میں وزارتیں بنیں تو آپکو بنگال کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ نومبر 1941ءمیں وزارت سے علیحدہ ہو گئے اور بنگال اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی کے ممبر چنے گئے۔ 1943ءاُنہوں نے بنگال میں مسلم لیگی وزارت قائم کی۔ وزیر دفاع اور امور داخلہ کے محکمے اپنے پاس رکھے اسی زمانے میں بنگال میں زبردست قحط پڑا اور آپکی شہرت کو خاصا نقصان پہنچا 1945ءتک آپ وزیر رہے۔ 1947ءآل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے صدر رہے۔ 1946ءمیں آپ نے جمعیت اقوام کے اجلاس جنیوا میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ کلکتہ سے پہلا مسلم اخبار (دی سٹار آف انڈیا) جاری کیا اور خان بہادر عبدالمومن کے ہمراہ کلکتہ میں مسلم ایوان تجارت قائم کیا۔ قیام پاکستان کے بعد آپ مشرقی پاکستان کے پہلے وزیراعلیٰ بنے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل بنے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اکتوبر 1951ءکو آپکو وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ اس عہدہ پر 1953ءتک فائز رہے۔
خواجہ صاحب کا دور حکومت
خارجہ پالیسی میں تبدیلی۔ آپ خارجہ پالیسی کو اُن خطوط پر نہ چلا سکے جن پر نواب زادہ لیاقت علی خان چلا رہے تھے۔ اُنکی پالیسی کا اہم ترین بنیادی نقطہ اسلامی ممالک کی حمایت اور ان کا اتحاد تھا۔ انہوں نے چودھری نذیر حمد خان کی ان سرگرمیوں کی حمایت کی جو اُنہوں نے دولت مشترکہ میں اسلامی ممالک کے سلسلے میں شروع کر رکھی تھیں۔ انڈونیشیا کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا قیام۔ ایران اور مصر کی برطانیہ کے مقابلے میں حمایت خاص طور پر مشہور تھیں۔ خواجہ صاحب نے ایران کی تیل کے مسئلہ پر رسمی حمایت کی اور سویز کے علاقہ میں برطانوی فوجوں کے اترنے کے بارے میں مصر کی بجائے برطانیہ کی حمایت کی نتیجہ یہ کہ بھارت کو مصر کی ہمیشہ حمایت رہی اور ایران میں بھی اگر ڈاکٹر مصدق زوال پذیر نہ ہوتے تو شاید ایران سے بھی تعلقات کشیدہ رہتے۔
”داستان پاکستان“.... چودھری نذیر احمد
گندم کی قلت 1952ءپاکستان کو شاید پہلی مرتبہ خوراک کے بحران سے دوچار ہونا پڑا جولائی 1953ءخواجہ نے اعلان کیا کہ اس سال خوراک کی قلت نہیں ہو گی نہ گندم نہ چاول مگر صرف دو ماہ بعد صورت حال بہت خراب ہوئی اور دنیا بھر کے ممالک سے گندم کے حصول کے لئے رابطہ قائم کرنا پڑا ایک توخواجہ صاحب کو صورتحال کا علم نہ تھا دوسرے سندھ اور بہاولپور کے بارڈر سے سمگل ہوئی اور سندھ میں محمد ایوب کھوڑو صاحب مرکزی حکومت کی مخالفت میں سماج دشمن عناصر کی پشت پناہی کرتے رہے لاہور میں آٹا ڈے منایا گیا۔ اور جن کو ناظم ملت کہا جاتا تھا دشمن قائد قلت کہنے لگے۔ اس وقت امریکہ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا قرض لینے کے لئے معاہدہ کیا جس کی گندم درآمد کرنی تھی لیکن گندم کی پہلی کھیپ محمد علی بوگرہ کے دور میں کراچی بندرگاہ پہنچی۔ دستور سازی کا مسئلہ۔ قانون ساز مجلس میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں برابر نمائندگی کا مسئلہ تھا جس کی وجہ سے آئین نہ بن سکا۔ تحریک ختم نبوت۔ ساہیوال کا ڈپٹی کمشنر مرزا مظفر احمد نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا مگر مجلس احرار سے ٹھن گئی۔ مگر بعد میں 14 دینی جماعتوں نے کنونشن طلب کیا اور تحریک ختم نبوت پر شہر میں ہنگامے ہونے لگے۔ مشرقی پاکستان میں اردو کی بجائے بنگالی کو قومی زبان بنانے پر طلبا جھگڑا۔
1952ءمیں تحریک چلائی گئی۔ فروری 1952ءمیں لاٹھی چارج آنسو گیس اور فائرنگ کے واقعات ہوئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہڑتال کی گئی اور انتظامیہ نے یونیورسٹی کو بند کر دیا۔
 افسوس کہ پاکستان کے ایک مطلق العنان گورنر جنرل ملک غلام محمد نے خواجہ صاحب کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں وزارت عظمٰی کے منصب سے غیر قانونی اور بلاجواز حکم کے ذریعے برطرف کر دیا۔ آپ کو اپنے مسلم لیگی رفقائے کار کی سرد مہری۔ موقعہ پرستی اور زمانہ سازی کا دلی صدمہ تھا آپ نے گوشہ نشینی اختیار کر لی صدر ایوب خان نے اپنی کنونشن مسلم لیگ کی صدارت کی پیشکش کی مگر آپ نے مادر ملت کے ارشاد کی تکمیل کی اور کونسل مسلم لیگ کو ازسرنو منظم کرنے 16 دسمبر 1962ءکو لاہور تشریف لائے تو زندہ دلان لاہور نے فقیدالمثال استقبال کیا۔ 1964ءمادر ملت کے صدارتی انتخاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور مادر ملت کے ہمراہ مشرقی اور مغربی پاکستان کا اتخابی دورہ بھی کیا۔ آپ کو کرکٹ، فٹ بال اور ٹینس کھیلنا بہت پسند تھا۔ کافی سال انڈین ہاکی فیڈریشن کے صدر رہے۔ انہیں مچھلی کے شکار کا بھی شوق تھا۔
1936ءمیں فریضہ حج ادا کیا۔ مادر ملت کی صدارتی مہم کے دوران 22 اکتوبر 1964ءڈھاکہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ کے ساتھ شیر بنگال اور سید حسین شہید سہروردی بھی مدفون ہیں۔
کرم کرو کہ ستم ہم گلہ نہیں کرتے
 خزاں میں پھول یقیناً کھلا نہیں کرتے
ملاﺅ خاک میں ہم کو مگر خیال رہے
کہ ہم سے لوگ دوبارہ ملا نہیں کرتے