ملالہ ایک نہیں

21 اکتوبر 2012

یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے کہ سوات کی ایک 14 سالہ بچی کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ گولی درحقیقت تاحال اندھی ہے اور اس کو چلانے والوں کو پکڑنے کے دعویدار ان کو سامنے نہیں لا سکے۔ اس لئے کہ عدم کو تو صرف خدا ہی وجود بخش سکتا ہے۔ ہمارا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ عوام کو اصل صورتحال بتا کر بھی بتا نہیں پاتے اس لئے کہ جو خبر امریکی صہیونی میڈیا اپنے مقصد کے مطابق مرتب کرتا ہے ہمارا میڈیا اس کو جوں کا توں اپنے قومی و زمینی احوال کو سامنے رکھے بغیر پیش کر دیتا ہے حالانکہ ہم اس خبر میں حقیقت کا وہ رنگ بھی بھر سکتے ہیں جو اس سے نکال لیا گیا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ خبر کو اور زیادہ ہولناک بنا کر اور کسی کے مقصد کو پروموٹ کرکے ہم اپنے خلاف ہی فضا قائم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ عوامی مزاج بھی ایسا بنا دیا گیا ہے کہ خبر کے کسی ایک سرے کو پکڑ کر اسے اپنی حاشیہ آرائی سے اسے کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے ہم آج تک اپنے دشمنوں کی سازشوں سے بے خبر رہے اور دوسروں کو الزام دیتے رہے کہ وہ ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ حالانکہ ہم اپنی ترقی کی راہیں خود مسدود کر رہے ہیں۔ ملالہ کو اللہ صحت دے، وہ قوم کی بیٹی ہے اور بڑی زیادتی ہوئی کہ اس کے سر میں گولی مار دی گئی۔ کس نے ماری اب بھی حتمی طور پر کسی کو مورد الزام قرار نہیں دے سکتے۔ موبائل فونز پر تو ہر روز کسی نہ کسی جانب سے ایسی افواہیں، اطلاعات، دھمکیاں اور ذمہ داری قبول کرنے کی شرارتیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ اگر کوئی اشتہاری ہو، تو کوئی بھی واقعہ سانحہ ہو جائے پولیس سب سے پہلے اس پر جھپٹتی ہے۔ طالبان ایک ایسا استعارہ بن گیا ہے دہشت گردی کا یا بنا دیا گیا ہے کہ جو بھی دہشت گردی رونما ہوتی ہے وہ فی الفور طالبان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ اب طالبان کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ حقیقی یا پیشرو طالبان جو افغانستان میں امریکہ کے خلاف برسر پیکار ہیں اور قابض امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور ایک قسم مقامی یعنی پاکستانی طالبان کی ہے۔ یہ بھی کوئی امر واقعی نہیں کہ یہ پاکستانی طالبان وجود رکھتے ہیں یا یہ بھی کسی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔ ملالہ پر جو بیت رہی ہے، اس کا دکھ پوری قوم محسوس کر رہی ہے اور دعا گو ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ملالہ کی داستان غم آج سے شروع نہیں ہوئی۔ یہ تب کی بات ہے جب ملالہ سوات کے ایک سکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ تھی، ان دنوں یہ بات عام تھی کہ طالبان سکولوں کو گرا رہے ہیں اور بالخصوص لڑکیوں کو پڑھنے سے روکتے ہیں۔ ایسے میں ملالہ نے بی بی سی کو خطوط لکھے جو بی بی سی نے بعینہ نشر کر دئیے۔ یہ خطوط اگر آج بھی دیکھے جائیں تو نہیں لگتا کہ یہ کسی چھٹی کلاس کی بچی نے لکھے ہیں کیونکہ ان کی زبان درست شستہ اور مدلل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملالہ کے والد محترم نہایت پڑھے لکھے استاد ہیں۔ اب خدا جھوٹ نہ بلوائے مگر ہمیں ہر بات کو بلاتحقیق جوں کا توں تسلیم نہیں کر لینا چاہئے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ اگر کوئی تمہیں خبر دے تو اس کو تحقیق کے بغیر نہ مان لیا کرو اور نہ ہی آگے پھیلاﺅ۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بیرونی پاکستان دشمن ایجنسیاں جب کوئی کارروائی کرتی ہیں تو وہ اس میں براہ راست سامنے نہیں آتیں بلکہ غربت، محروم اور زیادتی و مہنگائی کی ماری قوم کے بعض افراد جنہیں کوئی روزگار بھی میسر نہیں آتا یہ ایجنسیاں ان کو ڈھونڈ نکالتی ہیں ان کی جیب بھر دیتی ہیں۔ پھر برین واشنگ اور ضروری تربیت کے بعد ٹاسک دے دیتی ہیں اور کسی جانب سے نہایت محفوظ انداز میں اطلاع کرا دیتی ہیں کہ ہم طالبان اس سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ ملالہ کیس، ایبٹ آباد ڈرامے کی دوسری قسط بھی ہو سکتی ہے۔ پھر یہ کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لئے راہ ہموار کرنا بھی ضروری ہے اور جب ملالہ کو گولی لگی تو اس کے بعد ہی یکمشت 5 ڈرون حملے ہوئے جس میں کئی بے گناہ پاکستانی مارے گئے۔ جن میں بچے بچیاں اور بزرگ و جوان شامل تھے۔        (جاری)