پی پی پی پنجاب کی نئی قیادت

21 اکتوبر 2012

پنجاب میں پی پی پی کے بانی صدر بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید اور جنرل سیکریٹری ملک غلام مصطفی کھر تھے۔ صدر کا تعلق لوئر مڈل کلاس اور سیکریٹری کا فیوڈل کلاس سے تھا۔ شیخ محمد رشید نے بسوں پر سفر کرکے نئی جماعت کو شہر شہر گاﺅں گاﺅں منظم کیا۔ پی پی پی نے 1970ءکے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی۔ بھٹو شہید نے ان انتخابات میں شب و روز محنت کی ۔ ایک دن میں پندرہ سے بیس جلسے کرکے عوام کے دل جیت لیے۔ اقتدار کے دوران میاں افضل وٹو اور ملک معراج خالد پنجاب کے صدر کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے دوران کچھ عرصہ رانا شوکت محمود پی پی پی پنجاب کے صدر رہے۔ ان کے بعد جہانگیر بدر پنجاب کے صدر نامزد ہوئے۔ بھٹو شہید اور بی بی شہید مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے۔ ان کی رہنمائی کرتے اور ان کے مشورے سے تنظیمی فیصلے کرتے تھے۔ جہانگیر بدر نے پنجاب میں بڑا متحرک اور فعال کردار ادا کیا ان کی صدارت میں پنجاب میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا 1986ءلاہور میں تاریخی، شاندار اور یادگار استقبال ہوا جس میں دس لاکھ افراد شریک ہوئے۔ 1988ءمیں پی پی پی نے انتخابی کامیابی حاصل کی اور اقتدار میں آگئی۔ 1993ءمیں بھی پی پی پی پنجاب کے صدر جہانگیر بدر تھے جب پی پی پی دوسری بار اقتدار میں آئی۔ جہانگیر بدر کے بعد ملک مشتاق اعوان پنجاب کے صدر نامزد ہوئے۔ پی پی پی 1997ءکے انتخابات میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ جیت سکی۔ فخرزماں، راﺅ سکندر اقبال، قاسم ضیائ، شاہ محمود قریشی، رانا آفتاب خان اور امتیاز صفدر وڑائچ پنجاب کے صدور رہے۔ جناب آصف علی زرداری نے پنجاب کو تنظیمی لحاظ سے جنوبی اور وسطی زونوں میں تقسیم کردیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم شہاب الدین ہیں جبکہ وسطی پنجاب کے لیے ایک نئی ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے۔ میاں منظور احمد وٹو پنجاب کے صدر اور تنویر اشرف کائرہ سیکریٹری جنرل نامزد کئے گئے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری کو ادراک ہے کہ صدر پاکستان کی حیثیت سے ان کی اگلی ٹرم کا انحصار پنجاب پر ہے اگر پنجاب میں ان کو قابل ذکر نشستیں مل گئیں تو وہ دوسری بار پاکستان کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔ میاں منظور احمد وٹو اور تنویر اشرف کائرہ کی نامزدگی آنے والے انتخابات کے تناظر میں کی گئی ہے گویا یہ انتخابی ٹیم ہے۔میاں منظور احمد وٹو کا سیاسی پس منظر شاندار رہا ہے۔ وہ 1983ءمیں ڈسٹرکٹ کونسل اوکاڑہ کے چیرمین منتخب ہوئے۔ 1988ءمیں پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے، 1993ءمیں ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہوئے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانے کے بعد کم و بیش ایک درجن نشستوں کے ساتھ پی پی پی کے تعاون سے پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔میاں منظور وٹو پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی رہے۔ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ پنجاب کی سیاست، سیاسی خاندانوں اور انتخابی حلقوں کو بخوبی سمجھتے ہیںجوڑ توڑ کے ماہر ہیں۔ پی پی پی کو پنجاب میں انتخابی مہم کی قیادت کے لیے ان جیسی سیاسی شخصیت کی ضرورت تھی جو پنجاب کے شریفین کا مقابلہ کرسکے۔ پی پی پی کے جیالے میاں منظور وٹو کی نامزدگی کو پسند نہیں کریں گے۔ جیالوں کو راضی رکھنے کے لیے تنویر اشرف کائرہ کو پی پی پی پنجاب کا سیکریٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے۔ وہ وفاقی وزیراطلاعات قمر الزمان کائرہ کے ہم زلف ہیں۔ پنجاب کے وزیرخزانہ رہے ان کے کزن توقیر اکرم کائرہ لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔ پی پی پی کے جیالے تنویر اشرف کائرہ کو پسند کرتے ہیں۔ پی پی پی اگر پنجاب میں انتخابات جیت گئی تو میاں منظور وٹو پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ وٹو صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آئیندہ انتخابات جیت کر پنجاب کا اقتدار جناب آصف علی زرداری کے حوالے کردیں گے۔ یہ بلند بانگ دعویٰ زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتا۔ نومبر میں پنجاب کی آٹھ نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں پی پی پی کی نئی قیادت کی اہلیت سامنے آجائے گی۔جیالے کارکنوں سے جڑے ہوئے اوکاڑہ سے پی پی پی کے ایم پی اے اشرف سوہنا نے پارٹی کے اجلاس میں گلہ کیا کہ اس بار قیادت نے کارکنوں کو یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ یہ ان کی اپنی پارٹی کی حکومت ہے۔ مخلوط حکومت میں پارٹی کارکنوں کو مطمئن کرنا آسان نہیں ہوتا۔ پی پی پی کی قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ جیالوں کو مایوسی سے باہر نکالا جائے اور وہ جوش و جذبے کے ساتھ ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں پر لاسکیں۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں تجربہ کار سیاسی کھلاڑی ہیں جو تخت لاہور کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑیں گے۔ کیا بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرح انتخابی مہم چلاپائیں گے۔ پی پی پی پنجاب کی نئی قیادت سیاسی تجربے اور اہلیت کے اعتبار سے معروضی حالات کے مطابق موزوں انتخابی ٹیم ہے جو تنظیمی اور انتخابی امور نپٹائے گی البتہ عوام میںاعتماد اور جوش پیدا کرنے کے لیے مرکزی کرشماتی شخصیت کی ضرورت ہوگی جو اپنے حامیوں کو پولنگ سٹیشنوں پر لاسکے۔