صدر صاحب ! بلوچستان آپکی مفاہمتی سیاست کا منتظر ہے!

21 اکتوبر 2012

 صوبائی تعصب کو ہَوا دینے والے، مذہبی منافرت پھیلانے والے، آئے روز کی شورش برپا کرنے والے، فرقہ واریت بھڑکانے والے، بے گناہوں کو ٹارگٹ کر کر کے مارنے والے، اُٹھا لے جانے والے --- ہمارے اپنے پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ ظلم و تشدد روا رکھنے والے، اس ظلم و تشدد کو تواتر سے جاری و ساری رکھنے والے --- ہمارے مسلمان بھائی نہیں ہو سکتے۔ آزاد بلوچستان ؟ بلوچستان کے حالات کو سقوط ڈھاکہ کے المیے کی طرف پلٹانے والے ہاتھ کس کے ہیں۔ آزاد بلوچستان کی حالیہ سازشی کھیر کس کی بھوک اور کس کی مرغوب ہو سکتی ہے ؟ انہیں ہاتھوں نے پہلے مشرقی پاکستان میں سازشوں کی کھچڑی پکائی --- انہیں کے جال میں ماضی میں ہمارے ارباب اعلیٰ اقتدار و اختیار کے نشے میں مست پھنسے رہے اور یہ خفیہ ہاتھ تقویت پکڑتے گئے۔ پھر کیا ہے کہ بلوچستان کے حالات پر نہ قابو پایا گیا اور نہ ہی ان حالات کے سلجھا¶ کی سنجیدہ کوشش کی گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ بلوچستان کی علیحدگی کے شرانگیز خیال کو اقوام متحدہ تک لے جانے کے لئے راہیں بنائی گئیں، بیرون ملک مقیم بلوچ رہنما¶ں کو بیرونی طاقتوں نے خوب استعمال کر کے انہیں ظلم و حق تلفیوں سے نجات کے لئے علیحدگی کی تحریک چلانے پر آمادہ کر لیا۔ یہ بلوچستان میں شر انگیز عناصر غیر ملکی طاقتیں ہیں جو متحرک ہیں تاہم ان غیر ملکی شرپسندوں کو نہ تو بے نقاب کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف متحرک ہونے پر کچلا جاتا ہے ۔ یہ بیرونی و غیر ملکی فتنے ہمارے صوبہ بلوچستان میں متحرک کیونکر یا کیسے ہوئے۔ ہم ہی نے آخر کیوں ہزاروں غیر ملکیوں کو سرزمین پاک میں داخل ہونے کے دھڑا دھڑ ویزے دئیے۔ آخر کیوں بھارتیوں کو ملک پاک میں داخل ہونے کی شرائط کو سافٹ کر دیا گیا؟ سکاٹ لینڈ یارڈ کو ہی کیوں بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات کےلئے وطن آنے کی دعوت دی؟ امریکی و برطانوی ہیومن رائٹس سوچ ممبران ہم نے کیوں مسنگ پرسنز دیکھنے کے لئے بلائے؟ کیا ہم پورا ملک، ملکی معاملات پر ایشو کے لئے غیر ملکی اہلیت، طاقت و ہُنر کے بھی فقیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہماری استعداد کو کیا ہو گیا؟ بھارتی و امریکی ایجنسیوں کے اہلکاروں و صحافیوں کو وطن عزیز کے جس مقام اور جس جگہ وہ چاہیں انہیں ڈیرے ڈالنے کی کھل دے دی گئی، وہ یہاں پلاٹ، گھر خرید رہے ہیں، گھر تو کیا ہمارے اپنے خرید رہے ہیں۔ یہ حالات تو اندرون خانہ ہیں بیرون خانہ صورتحال دیکھئے کہ عرصہ دراز سے پاکستان اور افغان سرحد پر افغان اور نیٹو دونوں طرح کی افواج صف آرا ہیں۔ ان افواج کی صف آرائی سے ہماری سالمیت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ افغان ہمارے مسلمان بھائی ضرور ہیں لیکن ان ماضی کے افغان مجاہدین و موجودہ دہشت گردوں کی ملک پاک میں پناہ گزین کھیپ نے منشیات کے کاروبار اور اسلحے کی راہداریوں سے ہمارے سسٹم و آرڈر کو سخت گزند پہنچائی۔ اپنے قوانین و سسٹم کو ان افغانیوں پر لاگو کرنے کی بجائے ہم نے اپنے شمالی علاقہ جات کو انہیں کے فرسودہ و انتہا پسند کلچر کے ہاتھ دے دیا۔ آئیے روز یہاں گولہ و بارود کی دھول اٹھتی ہے ۔ نہلا پہ دہلا یہ کہ ہماری اپنی حکومت کی بے اعتنائیوں اور نالائقیوں کے سبب یہ علاق یعنی فاٹا، بلوچستان، خیبر پی کے جدید انفرا سٹرکچر و علمی و تکنیکی ترقی سے محروم رہے۔ ان علاقوں کے قبائل کلچر کے ساتھ حکمرانوں نے بھی ہر مسئلہ کا حل گولی کی آواز ہی کہ سمجھا اور مشرف دور میں اکبر بگٹی کے قتل سے تو بلوچستان کے جلتے حالت کو جیسے ایندھن مل گیا۔ بگٹی قبیلہ شروع ہی سے پاکستان کی سیاست میں سرگرم رہا ہے اور بلوچستان میں یہ چند اثر و رسوخ رکھنے والے قبائل میں سے ایک ہے ۔ اکبر بگٹی کے قتل کے بعد اس قبیلے کے لوگوں میں شدید غم و غصے کی آگ بھڑک رہی ہے اور یہ قبیلہ جس نے کبھی بلوچستان کی علیحدگی کی بات نہ کی تھی آج اپنے تحفظات کے ساتھ ملک توڑنے کی باتیں کر رہا ہے اور غیر ملکی فتنہ پرور عناصر اس آگ کو جلائے رکھنا چاہتے ہیں اور جلتی پر تیل ڈالنے کا یکسوئی سے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو ملکی سالمیت و بلوچستان کے امن کے پیش نظر اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنا چاہئے تھا۔ بگٹی قبیلے کے تحفظات کو ختم کر کے ان کے تعاون سے بلوچستان کے دیگر مسائل کو قابو میں لانا چاہئے تھا لیکن وفاق و صوبائی حکومت بلوچستان کے حالات کی درستگی میں کوئی عملی پیشرفت کرتی نظر نہیں آرہی اگر صورتحال یہی ہے تو پھر سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے مطابق بلوچستان میں جتنی جلدی ممکن ہو سکے انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ بلوچستان کے قبائلی رہنما¶ں کے اثر و رسوخ کو قومی سالمیت کے لئے استعمال کرنے یا پھر بلوچستان کی فرقہ واریت و صوبائی تعصب کو رفع کرنے کے لئے اگر صدر صاحب افہام و تفہیم کی پالیسی لے کر بلوچ رہنما¶ں سے ڈائیلاگ کریں تو بلوچستان کے بگڑے حالات میں بہتری کی گنجائش نکل سکتی ہے ۔