مڈ نائٹ جیکال سے عدالتی حکم اور فیکٹ فائنڈنگ کمشن تک

21 اکتوبر 2012

 سپریم کورٹ کے مہران گیٹ سکینڈل کے فیصلے کے باوجود اپریشن مڈ نائٹ جیکال کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا ہے اور نہ ہی کسی طرف بیٹھتا دکھائی دیتا ہے۔سپریم کورٹ نے جنرل اسلم بیگ،جنرل اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔یہ بھی کہا کہ 90 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔ سیاسی عمل آلودہ کیا گیا۔ صدر غلام اسحق خان،جنرل بیگ اور جنرل درانی نے آئین کی خلاف ورزی کی۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پیسے وصول کرنے والے سیاست دانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 90 کے انتخابات میں جمہوریت کو قتل اور عوامی مینڈیٹ سے فراڈ کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ان شواہدکی بنا پر اپنا فیصلہ سنادیا جن میں سے بہت سے شواہد کو اخفاءمیں رکھا گیا ہے۔بریگیڈئیر حامد سعید اختر نے اپنا بیان داخل کرتے کہا تھا کہ اس کو خفیہ نہ رکھاجائے لیکن اس کا ایک حصہ بھی اخفا میں چلا گیا۔لوگ امید لگائے بیٹھے تھے کہ سپریم کورٹ مہران گیٹ کے پیسے لینے والوں سمیت تمام کرداروں کو بے نقاب کرتے ہوئے سزائیں بھی دے گی۔ اس سکینڈل کے کردار تو میڈیا کے توسط سے دنیا کے سامنے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جن لوگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا انہوں نے رقوم کی تقسیم سے کبھی انکار نہیں کیا جنہوں نے رقوم وصول کیں ان میں سے کوئی بھی اعتراف کرنے پرتیار نہیں۔
مہران گیٹ سکینڈل میں متاثرہ فریق پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔آج و ہ حکومت میں ہے۔ سپریم کورٹ نے مڈ نائٹ جیکال کے کرداروں کے خلاف کارروائی کیلئے ہدایت اور حکم بھی اسی حکومت کو جاری کیا ہے۔یقینی بات ہے کہ حکومت اس معاملے کو این آر او کیس کی طرح تو نہیں لے گی البتہ اس کی طرف سے چابکدستی اور مستعدی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے بمعہ سود رقوم کی واپسی کا حکم دیا ہے۔اس وقت کے 14کروڑ آج کے 4ارب روپے بنتے ہیں۔ رقمیں وصول کرنے والے خود اور انکی اولاد یں،تمام سیاسی پارٹیوں کے بدن کا جزو بن چکی ہیں۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔دیگر پارٹیوںمیں سے کوئی پیپلز پارٹی کا اتحادی ہے اور کسی سے اٹوٹ مفاہمت ہوچکی۔ بظاہر دشمنی تک کے اختلافات کے باوجود کبھی وہ ان کے در اور کبھی یہ ان کے در پر حاضری دیتے ہیں۔عدلیہ کے متعین کردہ خطوط کے مطابق معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے بڑے حوصلے، عزم و ارادے اور اپنے سیاسی مفادات کو زک پہنچنے کے اندیشے سے بے نیاز ہوکر اصولی فیصلے اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ساڑھے چار سالہ حکمرانی کے دوران کسی ایک مرحلے پر بھی ظاہر نہیں ہوا کہ حکمران چیتے کا جگر رکھتے ہیں۔البتہ عدلیہ کو زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مہران گیٹ پر فیصلے میں تاخیر پر عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیتی رہی ہے۔اب اس فیصلے کی ستائش کر رہی ہے۔عدلیہ نے اس معاملے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری بھی اسی حکومت کے سر ڈال دی ہے۔دیکھئے اس میں حکومت اب کیا کردار ادا کرتی ہے۔عدلیہ کی طرف سے پارٹی کے سر پر رکھی گئی پگڑی کا شملہ اونچا ہوتا ہے یا سر سمیت رُل جاتی ہے۔دیکھ میرا سر بھی پڑا ہے دستار کے ساتھ۔تجزیہ نگاروں کی نظر میں عوامی جمہوری حکومت اس معاملے میں بے بسی کے سمندر کی ایک مزید لہر بن جائیگی۔
غلام اسحق خان اور جنرل اسلم بیگ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔غلام اسحق خان کی بھرپور توجہ، معاونت اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ساتھ دینے پر ہی پاکستان کا ایٹمی پروگرام بروقت تکمیل کے مراحل طے کرگیا۔جنرل بیگ نے ایک اور آمریت مسلط کرنے کے بجائے جمہوریت کے سفر کو رواں دواں رکھنے میں اپنا بہترین کردارادا کیا۔اسحق خان اور جنرل بیگ کا نام اگر محترمہ کی حکومت گرانے اور انہیں 90کے الیکشن میں پرے ہٹانے میں نام آتا ہے تو یہی لوگ تھے جنہوں نے 88ءمیں محترمہ کی حکومت بنوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔90ءمیں رقوم کیوں تقسیم کی گئیں ؟یقینا اس کی وجوہات عدلیہ کے علم میں ہیں جن کو مخفی رکھا گیا ہے۔حکومت آئندہ جو بھی کمشن یاکمیٹی بنائے گی اس میں سارا کچھ پیش ہوگا۔ یہ معاملہ مہینوں میں سمٹنے اور سنبھلنے والا نہیں۔ تحقیقات اور سفارشات کے بعد معاملہ پھر سپریم کورٹ میں ہی آنا ہے۔سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم، آئی جے آئی کی تشکیل بقول وزیراعظم جمہوریت کا قتل اور عوامی مینڈیٹ سے فراڈتھا۔ پہلے ریاست بنتی ہے۔ اس کیلئے آئین تشکیل دیا جاتا ہے پھر جمہوریت کے پودے کی آبیاری و نشوونما ہوتی ہے۔ ان میں ریاست اہم ترین ہے۔محب وطن حلقے سمجھتے ہیں کہ جب آئین کے تحت ریاست کے تحفظ کا حلف اٹھانے والوں کے سامنے تین میں سے ایک کو بچانے کا سوال آتا ہے تو فیصلہ وہی ہوتا ہے جو اسحق خان اور جنرل اسلم بیگ نے کیا تھا۔ جنرل بیگ نے سب کچھ صدر اسحق خان اور جنرل درانی نے جنرل بیگ کے کہنے پر کیا۔یونس حبیب رقم دینے سے انکار کرتے تو آج وہ لاپتہ افراد کی فہرست میں ہوتے ۔سیکرٹ اپریشن جنرل درانی نے بوجوہ طشت ازبام کیا۔ اب خود بھی اس کا شکار ہوگئے، ہور چوپو۔سپریم کورٹ نے غیر واضح فیصلہ دیکر گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑ دی۔اوّل تو اس معاملے میں پیشرفت کا امکان ہی نہیں ہے اگر ہوئی بھی تو کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔ جنرل بیگ کو اس معاملے میں سزا ہوئی تو پھر آئندہ ریاست کے تحفظ کی قسم کھانے والے اس کو بچانے کیلئے بے خوف کودنے کے بجائے آئین اور جمہوریت کو گزند پہنچنے کی فکر کریں گے۔ اسحق خان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جنرل اسلم بیگ ماشا ءاللہ حیات اور کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہیں” میر ے عزیز ہم وطنو“ کہنے کا موقعہ بھی ملا لیکن انہوں نے آپے میں رہنے کی کامیاب کوشش کی!۔90کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ بلاشبہ چرایا گیا۔ لیکن جیسی بھی تھی جمہوریت کا سفر جاری رہا۔آپ اس جرم کی پاداش میں جنرل بیگ کو پھانسی لگا دیں ۔جن جرنیلوں نے جمہوریت کا گلا گھونٹا۔ جمہوریت کو غارت کیا۔قوم کے 33سال آمریت کی بھینٹ چڑھا دئیے۔ایک نے پورا ملک گروی رکھ دیا۔ان سے کوئی باز پُرس نہیں۔ان کا کوئی محاسبہ نہیں۔ ان کو سب معاف۔ ضرورت ایک فیکٹ فائنڈنگ کمشن کی ہے۔ جو قوم کے 33سال برباد کرنیوالوں کا احتساب کرے اور ملک کو لوٹنے والوں کا تعین کرکے ان سے قوم کی پائی پائی بمعہ منافع کے وصول کی جائے۔ملک کو لوٹنے والوں پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کردئیے جائیں۔ ان میں مہران گیٹ سکینڈل کے وصول کنندگان کو بھی شامل کرلیا جائے ۔ اس سے ہماری سیاست کرپٹ سیاستدانوں کے وجود سے کلیتاً پاک ہوسکتی ہے۔