دو قومی نظریہ یا نظریہ¿ پاکستان سے بدکتے دانشور

21 اکتوبر 2012

پاکستان میں امن و امان کی دن بدن ابتر ہوتی صورتحال پر ہر پاکستانی کو تشویش ہے۔ دہشت گردی کے ناسُور نے ہر پاکستانی کو عدم تحفظ اور اعصابی تناﺅ کا شکار بنا دیا ہے۔ روشن خیال اور لبرل فاشسٹوںکے ہر دل عزیز آمر پرویز مشرف کے غاصبانہ دورِ حکومت میں بڑے چاﺅ سے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کی اپنی جنگ قرار دے ڈالا گیا۔ پاکستانی قوم کو باور کرایا گیا کہ طویل المدت قومی مفادات‘ تزویری اثاثہ جات کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر اس جنگ کو اپنے گھر کی بہو بنانا ناگزیر ہے۔ اس ڈائن نما دلہن کی خون آشامیاں اب تک ہزاروں پاکستانی دلہنوں کے ارمانوں کا خون کر چکی ہے۔ ہزاروں بہنیں اپنے بھائیوں کو کفن پہنا کر گھر سے رخصت کر چکی ہیں۔ خود کش حملے ہوں یا امریکی ڈرونز کی تباہ کاریاں‘ شورش زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کرتے صحافیوں کا قتل ہو یا سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ‘بھتہ خوری کے لیے اغواءکیے جانے والے تاجر ہوں یا بلوچستان کے نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں‘ سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی قوم کے اعصاب شل ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ وہ جنازوں کو کندھے دے دے کر تھک سے گئے ہیں ۔ ان کا پیمانہ¿ صبر لبریز ہونے لگا ہے۔ چنانچہ آ ئے روز ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جب کسی بھی قومی یا مقامی ایشو پر عوامی ردعمل پُرتشدد صورت اختیار کر جاتا ہے اور عوام جی بھر کر اپنا غصہ پولیس اور املاک پر نکالتے ہیں۔ ان حالات میں قلم قبیلے سے وابستہ افراد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سچ اور صرف سچ بات لکھیں کیونکہ یہ وقت وطن کی مٹی کا قرض اتارنے کا ہے۔ اگر وہ اب بھی مصلحتوں ‘ ذاتی مفاد ات یا گروہی تعصبات سے اپنی تحریروں اور تقریروں کو مرصّع کرنے سے باز نہ آئے تو یقین کریں کہ ان کے” گریبان“ بھی عوام کی پہنچ سے زیادہ دور نہیں ہیں ۔
دختر پاکستان ملالہ یوسف زئی کے معاملے کو دیکھ لیجیے۔ کوئی سنگ دل سے سنگ دل شخص بھی اس کی جان لینے کی کوشش کی مذمت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہر دردمند پاکستانی کے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کو اپنی پناہ میں رکھے‘ سلامت رکھے اور جلد از جلد صحت کاملہ سے سر فراز فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر تمام پاکستانی بچوں بالخصوص امریکی ڈرون حملوں میں زخمی ہونے والے بچوں کو بھی اپنے حفظ و امان میں رکھے کیونکہ اُن بچوں کی عالمی ذرائع ابلاغ تو کجا خود پاکستانی میڈیا میں بھی تصویر تک شائع نہیں ہوتی۔ پاکستانی صحافیوں کو ڈرون حملوں سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی اور یہ نا انصافی قومی مفاد کے نام پر روا رکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم اپنی قوم کے تمام بچوں کی خیر و عافیت کے طلبگار ہیں۔ انہی بچوں نے بڑے ہو کر اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے، اسے تعمیر و ترقی کی ان بلندیوں پر پہنچانا ہے جہاں اُسے دیکھ کر دنیا کی ہر قوم ہم پر رشک کرے تاہم بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس معصوم بچی پر جو آزمائش آئی ہے‘ اس کی آڑ میں کچھ بزعم خویش دانشوروں نے اپنی قلمی توپوں کا رخ نظریہ ¿ پاکستان کے خلاف کر دیا ہے۔ دو روز قبل ایک معاصر میں ”ملالہ یوسف زئی اور نظریہ ¿ پاکستان“ کے عنوان سے شائع شدہ ایک کالم میں فاضل کالم نگار نے جہاں نظریہ ¿ پاکستان کو ایک بے بنیاد نظریہ قرار دیا‘ وہاں اس کے دہشت گرد عناصر کے قبضے میں چلے جانے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ ہر ذی شعور قاری پہلی نظر میں ہی محسوس کر لیتا ہے کہ فاضل کالم نگار نے اصل موضوع کے سیاق و سباق سے ہٹ کر بالکل بے تکے انداز میں نظریہ ¿ پاکستان کے خلاف یہ زہر آلود خیالات قلمبند کیے ہیں۔ میدان صحافت میں ان کا جو تجربہ اور مقام ہے‘ اس کے پیش نظر قارئین ان سے ایسی بے بنیاد باتوں کی ہرگز توقع نہیں رکھتے جو اُن کے قارئین کا اُن پر اعتماد اور ان کے الفاظ پر اعتبار مجروح کر دیں۔
اس ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ لوگ اس سرزمین پاک کی کوکھ سے پیدا ہونے والا اناج کھا کر بھی اس کی وجہ¿ تخلیق یعنی نظریہ ¿ پاکستان کے خلاف زہر افشانی کو دانشوری کی معراج سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو اپنی عمر رفتہ میں اشتراکی سوویت یونین کے خوشہ چین تھے مگر جب سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ اس کا اشتراکی نظریہ بھی زمین بوس ہو گیا تو ان دانشوروں نے سوویت یونین کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کی گود میں پناہ لینے میں ذرا تامل نہ کیا۔ نام نہاد دانشوروں کے ایک دوسرے طبقے کی افزائش روشن خیال اعتدال پسندی کے مکروہ دور میں ہوئی۔ یہ عناصر ہر اس امر کی مخالفت اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں جو پاکستان کے اسلامی تشخص کی طرف خفیف سا بھی اشارہ کرتا ہو۔ لہٰذا ان لوگوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ اپنے کالموں اور مضامین میں بلا وجہ نظریہ ¿ پاکستان کو رگیدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئی وہ کبھی تو نظریہ ¿ پاکستان کو صدر جنرل آغا محمد یحییٰ خان کے دور کی ایجاد قرار دیتے ہیں تو کبھی اس کے اختراع کا سہرا جماعت اسلامی کے سر باندھ دیتے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میںنظریہ¿ پاکستان یا دو قومی نظریہ کی ابتدا کے حوالے سے اصل حقائق روز روشن کی مانند واضح ہیں اور ان میں سے کچھ وسیع المطالعہ دانشوروں کے علم میں بھی ہیں مگر ”میں نہ مانوں“ کے مصداق وہ اپنے سرپرستوں کی خوشنودی کی خاطر انہیں جھٹلانے میں بہتری سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے عوام الناس بالخصوص نسل نو کے دل و دماغ میں پاکستان کے اساسی نظریے کے متعلق ابہام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کی تاریخ کو محمد بن قاسمؒ اور محمود غزنویؒ کے حوالے سے جاننے کے بجائے چندر گپت موریہ سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 نظریہ¿ پاکستان عصر حاضر کی پیدا وار نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کا دوسرا نام ہے۔ نظریہ¿ پاکستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ پاکستان کی وجہ¿ تخلیق ہے ۔ پاکستان کے وجود کو اس سے الگ کر کے دیکھنا ناممکن ہے۔ نظریہ¿ پاکستان یا دو قومی نظریے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس برصغیر میں دو قومیں مسلمان اور ہندو آباد ہیں جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مسلمان ایک بُت شکن قوم ہے جبکہ ہندو بُت پرست ہیں۔ اسی بنیاد پر قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک عظیم اور صبر آزما جدوجہد کے بعد اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا۔ مسلمانوں نے اقلیت میں ہونے کے باوجود تقریباً ایک ہزار سال تک ہندوستان پر حکومت کی ہے اور یہی وہ بات ہے جو آج تک ہندوﺅں کو ہضم نہیں ہو سکی۔ وہ پاکستان کو بطور ایک آزاد ملک تسلیم نہیں کر تے اور ہمہ وقت اس کے وجود کے درپے ہیں۔ اگر نظریہ ¿ پاکستان یا دو قومی نظریہ کی نفی کر دی جائے تو پاکستان کی بقاءخطرے سے دوچار ہو جائے گی۔ لہٰذا نظریہ ¿ پاکستان ہمارے ملک کی بقا کا ضامن ہے۔ جو لوگ اس نظریے کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں‘ وہ دراصل پاکستان کی بنیادوں پر وار کر رہے ہیں۔ یہی عناصر ”امن کی آشا“ مہم کے درپردہ اکھنڈ بھارت کے تصور کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ جو لوگ اس نظریہ کی حقانیت کو تسلیم نہیں کرتے‘ انہیں چاہیے کہ اپنا بوریا بستر باندھ کر واہگہ بارڈر کے پار جا بسیں۔ پاکستان کا چہرہ بگاڑنے کے ذمہ دار استحصالی طبقات کے یہ قلمی حواری کان کھول کر سُن لیں کہ پاکستانی قوم اپنے بزرگوں اور تحریک پاکستان کے شہدائے کرام کے خونِ پاک کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ مدعی لاکھ بُرا کیوں نہ چاہے‘ پاکستان کا مقصدِ تخلیق انشا¿اللہ پورا ہو کر رہے گا اور نظریہ ¿ پاکستان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پاکستانی قوم کو دل و دماغ پر تا قیامت نقش رہے گا۔